Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Teen Generals Ka Kaffara

Teen Generals Ka Kaffara

مجھے یاد پڑتا ہے جنرل پرویز مشرف نے ایک برطانوی اخبار کو ایک انٹرویو میں پرجوش ہوکر انکشاف فرمایا تھا کہ جب امریکن نے کابل پر قبضہ کیا اور اس کے بعد تورا بورا پر کام شروع کیا تو ہمیں کہا گیا کہ آپ پاک افغان سرحد بند کر دیں تاکہ ہم کام مکمل کر لیں اور یہ مسئلہ مستقل حل کر لیں۔

بقول مشرف ہم نے آپس میں بیٹھ کر سوچا یہ سب تو ہمارے قیمتی اسٹریجک اثاثے ہیں اور ایک دن امریکن فوجوں نے چلے جانا ہے اور ان کے جانے کے بعد یہ سب ہمارے کام آئیں گے۔ لہذا ہم نے سرحد بند کرنا تو دور کی بات ہے الٹا ہم نے ان تمام اثاثوں کو اپنے ہاں نہ صرف آنے دیا بلکہ ان کو تحفظ بھی دیا۔ کھلایا پلایا۔

لہذا آج وہی اثاثے جو بچ گئے تھے یا بچا لیے گئے تھے وہ دوسروں کے کام آرہے ہیں۔ ہم نے ہیلری کلنٹن سے بھی نہ سیکھا کہ جو سانپ آپ اپنے گھر کے پچھواڑے میں پالتے ہیں وہ ہمسائیوں کے علاوہ ایک دن آپ کو ڈس لیتے ہیں۔ ہمارا جنون ہی رہا کہ کابل پر پشتو سپیکنگ کی حکومت ہونی چاہیے لہذا ہم نے کبھی تاجک اور ازبک کو وہاں گھاس نہیں ڈالی۔

ہمارا خیال تھا مغربی باڈر محفوظ ہوگا تو مشرقی باڈر پر بھارت کو ہینڈل کرنے میں آسانی رہے گی۔ ہم نے مشرقی ملک سے محفوظ رہنے کے لیے مغربی سرحد پر برسوں تک فوکس کیے رکھے۔

اب پتہ چلا ہے کہ جن اثاثوں کو آپ نے چالیس سال تک دل سے لگا کر رکھا، اپنے ہزاروں مروا دیے وہ بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بھارت کو علم تھا پیسے اور نفرت میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور انہوں نے وہی دونوں کارڈز استمعال کیے۔

اپنے دوست سلیم صافی کی ایک یاد آتی ہے کہ ان علاقوں میں لوگ ٹینک کے آگے تو کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن ڈالر کے آگے نہیں۔ ڈالرز ہم بھی لے رہے تھے اور اب ڈالرز وہ بھی لے رہے ہیں۔

جنرل مشرف سے ایک قدم آگے بڑھ کر جنرل باجوہ عمران خان کے دور میں چالیس ہزار کو واپس افغانستان سے لائے اور سوات میں بسایا کہ امن لوٹ رہا ہے۔

بھلا کون یہ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارتا ہے لیکن جنرل مشرف نے بھی ماری اور برسوں بعد جنرل باجوہ نے وہی کام کیا۔ یقیناََ موجودہ فوجی قیادت کو ماضی کے اپنے جرنیلوں کا کفارہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

ویسے ہی ایک خیال آرہا ہے۔ وزیراعظم نہرو سمجھدار تھا کیونکہ وہ اس خطے کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا اور تاریخی شعور رکھنے والا انسان تھا۔ پاکستان بننے کے راہ میں روکاوٹ نہ بننے کی شاید ایک وجہ۔۔ شاید ایک وجہ یہ افغانستان بھی تھا۔ (میری ذاتی سوچ ہے کوئی تاریخی حوالہ یا ثبوت نہیں)

نہرو کو علم تھا ہزاروں سال سے ہندوستان پر حملے مغربی سرحدوں سے ہوتے آئے ہیں۔ مشرق کبھی ہندوستان کے لیے خطرے کا سبب نہیں بنا۔ لہذا نہرو کو اندازہ تھا اگر ہندوستان کی سرحد افغانوں کے ساتھ لگی تو ہندوستان ہمیشہ مسائل میں گھرا رہے گا۔ پہلے ہی ہندوستان کو کافی اندرونی مسائل ہوں گے لہذا بہتر ہوگا پاکستان ہی اپنے مسلمان بھائیوں کو سنبھالتا رہے۔

اور نہرو کی یہ تاریخی انڈراسٹینڈنگ (اگر واقعی تھی) درست نکلی کہ پہلے دن سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب رہے۔ وجہ اگرچہ ڈیورنڈ لائن تھی۔ نہرو کو شاید یہ احساس تھا کہ ان مغربی روٹس/علاقوں سے آنے والے خطرناک جھتے ہمیشہ سے ہندوستان کو لوٹنے آتے رہے ہیں اور پرانی عادتیں جلدی ختم نہیں ہوتیں لہذا ہندوستان/افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن ہی نہ ہو۔

شاید اس وجہ سے خواجہ آصف نے اب انکشاف کیا کہ کابل حکومت نے ان سے دس ارب روپے ان لڑاکوں کے لیے مانگے تھے کہ انہیں پاکستان سرحد سے دور سیٹل کرتے ہیں۔ یہ بھی بھتہ کی ایک شکل تھی جو ریاست سے مانگی گئی تھی اگرچہ ماضی میں وہ سارے جھتے خود موجودہ پاکستان میں آکر لٹ مار کرکے لے جاتے تھے۔

بہرحال نہرو والی اپروچ میری اپنی سوچ ہے کہ ممکن ہے ان کے ذہن میں آج کا افغانستان ہو جو تاریخی طور پر ہندوستان پر حملہ آور ہوتا رہا ہے لہذا درمیان میں ایک اور مسلمانوں کا ملک بننے دو جو اپنے اپنے اسلام کے نام پر لڑتے رہیں اور ہندوستان کی سرحد محفوظ رہے۔

اتنا تاریخی شعور یا سمجھداری یقینی طور پر جنرل ضیاء، جنرل مشرف اور جنرل باجوہ میں نہیں تھی نہ توقع کی جاسکتی ہے جو ان سب کو اپنے قیمتی اثاثے سمجھ کر برسوں تک گلے سے لگائے پھرے کہ ایک دن انہیں بھارت سے لڑائیں گے۔ اب پتہ چلا ہے کہ برسوں تک بھارت خاموشی سے انتظار کرتا رہا کہ چلیں آپ کر لیں۔ اب وہ انہیں ہمارے خلاف لڑا رہا ہے۔

یہ ہے آپ کے ٹاپ تین سابقہ جرنیلوں کی سمجھداری اور تاریخی شعور اور جن کی ان افغان پالیسیوں کے حامی آج بھی لاکھوں کی تعداد میں آپ کے اندر موجود ہیں۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.