Saturday, 23 May 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Alvida Atif Mateen

Alvida Atif Mateen

آج کا دن بڑا اداس اور تکلیف دہ ہے۔ عامر متین کے چھوٹے بھائی عاطف متین کل رات ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے۔ عامر کراچی میں تھے اور فلائٹ لے کر صبح واپس پہنچے۔ عامر پر دکھوں اور ذمہ داریوں کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے۔ آج ہم سب دوست ان کے پاس گھر پر بیٹھے رہے تاکہ حوصلہ بڑھا سکیں۔ شام کو پانچ بجے جنازہ تھا۔ عامر متین کے ایک بھائی کا انتقال چند برس پہلے ہوا تھا جو ان سے بڑے تھے اور اب ان سے چھوٹے کا انتقال ہوا ہے جو انہیں بہت پیارا تھا۔

عامر نے خاصے ضبط کا مظاہرہ کیا ہوا تھا۔میرا عاطف سے بھی اتنا پرانا تعلق تھا جتنا عامر متین سے تھا۔ ایک ہنستا مسکراتا نوجوان لاہوری مزاح اور گپ شپ بھی کمال کی کرتے تھے۔

چند دن پہلے ان کا واٹس ایپ ہیک ہوا تو مجھے بھی پیسوں کا میسج آیا۔ شام کو عاطف سے بات ہوئی تو کہنے لگا خیال کرنا واٹس ایپ ہیک ہوگیا ہے۔ میں نے کہا قبلہ ہم تو پیسے بھیج چکے ہیں۔ اب واپس کریں۔ لگتا ہے ہیکرکے ساتھ مل کر دوستوں کو چیک کررہے تھے۔

بڑی دیر مذاق چلتا رہا۔

انگریزی میڈیا میں بڑے عرصہ کام کیا۔ عامر متین کے ساتھ اسلام آباد میں ہی اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔ عاطف اپنے تئیں لاہور چھوڑ کر اپنے بھائی عامر متین کا خیال رکھنے اسلام آباد آئے تھے اور اب اپنا خیال نہ رکھ سکے اور چل بسے اور عامر کے لیے دکھ تکلیف میں اضافہ کر گئے۔

عاطف کی بیگم صاحبہ بھی میڈیا سے تھیں۔ دو پیارے پیارے بیٹے جو ابھی بہت چھوٹے ہیں۔ بڑا بیٹا شاید سات آٹھ سال کا ہے۔

ایچ ایٹ قبرستان میں وہ پیارا سا بچہ قبر کنارے باپ کو دفن ہوتے دیکھ رہا تھا۔ شاید ابھی وہ پراسس نہیں کر پا رہا ہوگا کہ اس کے ساتھ یہ سب کچھ کیا ہوگیا تھا لیکن یہ منظر شاید عمر بھر وہ نہیں بھول سکے گا کہ اس کا باپ جو کل رات تک اس کے ساتھ سو رہا تھا وہ اب یہاں مٹی میں کیوں دفن کیا جارہا تھا؟

مجھے لگا اتنے چھوٹے بچے کو یہ منظر نہیں دیکھنا چاہئے تھا کہ وہ باپ کو دفن ہوتے دیکھ کر کس تکلیف اور درد سے گزر رہا ہوگا۔۔ ایک ایسی تکلیف جو عمر بھر ساتھ رہے گی اور بڑا عرصہ وہ سوتے میں بھی ڈسٹرب رہے گا۔ ایک خوفناک ٹراما۔

میں تو خود اس عمر میں چھ ماہ تک نعیم بھائی کی وفات کے بعد بہت ڈسٹرب رہا اور پراسس کرنے میں بڑا وقت لگا۔

اس خاموش لیکن اداس خالی نظروں سے باپ کو قبر میں لیٹے دیکھ کر بچے کو شاید یہ بھی حیرانی ہوگی کہ باپ کے سب دوست اس پر کیوں مٹی ڈال رہے تھے؟ ایک تکلیف دہ منظر جو شاید ہم سب کی یاداشتوں سے اتنی آسانی سے نہیں اترے گا۔

مجھے چند برس پہلے امریکہ میں ڈاکٹر عاصم صبہائی کی فیس بک پر شئیر کی گئی تصویریں یاد آئیں۔ ایک فیملی کینسر کا علاج کرانے پاکستان سے ان کے پاس امریکہ گئی تھی۔ بیوی بیٹا ساتھ تھے۔

باپ کی کچھ عرصہ کے بعد ڈیتھ ہوگئی تو اسے وہیں امریکہ میں ہی لوکل قبرستان دفن کیا گیا۔ اب پاکستان آنے سے قبل وہ بچہ ماں کے ساتھ باپ کی نئی نئی قبر پر گیا اور اس سے لپٹ کر وہیں لیٹ گیا۔

وہ کتنی دیر باپ کی قبر سے لپٹا رہا۔ وہ باپ کی قبر چھوڑ کر پاکستان اکیلا واپس نہیں جانا چاہتا تھا جس کے ساتھ وہ یہاں آیا تھا۔ پتہ نہیں پھر کب وہ یہاں آئیں گے۔

برسوں گزر گئے لیکن وہ تکلیف بھرا منظر بھی میری نظروں سے آج تک نہیں جاتا کہ چھوٹا سا پیارا بیٹا باپ کی قبر نہیں چھوڑ رہا۔

ایک ایسا منظر آج دیکھا کہ سات آٹھ سالہ بیٹا کچھ دیر تو باپ کے دوستوں کو باپ کی قبر میں رکھی میت پر مٹی ڈالتے حیرانی سے دیکھتا رہا اور پھر اچانک مڑ کر اپنے عزیز کا ہاتھ پکڑ کر سر جھکا کر پارکنگ کی طرف چل پڑا۔

پتہ نہیں اسے کیا ہوا جاتے جاتے اس بچے نے مڑ کر پیچھے آخری دفعہ دیکھا تو اس کے باپ کے یار دوست ابھی بھی قبر پر مٹی ڈال رہے تھے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.