تصفیہ طلب مسائل کا حل سفارتی کوششوں سے ممکن ہے۔ جنگیں کسی طرح بھی مسائل کاحل نہیں کیونکہ اِس طرح صرف وسائل ضائع اور غربت و افلاس میں اضافہ ہوتا ہے۔ سفارتی عمل پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے مگر امریکی اور ایرانی رویے سے لگتا ہے کہ دونوں طرف جنگ کو مسائل کا حل تصور کیا جاتا ہے جو کہ غلط ہے۔ ستم ظریفی تو یہ کہ دونوں ہی اِس طرح کے اقدامات وخیالات سے عالمی حمایت کھو رہے ہیں پھر بھی ایسے اقدامات میں مصروف ہیں جن سے خطے میں امن کی بجائے کشیدگی میں اضافہ ہو۔
ایسے حالات میں جب دونوں طرف امن کی خواہش کا فقدان ہے پاکستان تنازعے کے حل میں پورے عزم و یقین سے شامل اور پوری طرح سرگرمِ عمل ہے۔ نہ صرف سفارتی زرائع سے مدد لی جارہی ہے بلکہ حکومتی سطح کے روابط میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ سفارتی اور حکومتی روابط میں تیزی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران میں براہ راست مزاکرات کے لیے جاری رابطے حساس مراحل میں ہیں اور ایک بار پھر براہ راست بات چیت کا عمل ممکن ہے جو امن کے خواہشمندوں کے لیے نہایت حوصلہ افزا ہے۔
امریکہ اور ایران کے مابین بظاہر ڈیڈلاک کی کیفیت ہے اور دونوں طرف رویے میں لچک کا فقدان ہے جو امن کے لیے جاری کوششوں کو سبوتاژ کر سکتا ہے اور خطے میں ایک نئی ہولناک جنگ کا خطرہ حقیقت کا روپ دھارنے کے قریب ہے لیکن اِن نازک ایام میں پاکستان نے مخلصانہ کردار ختم نہیں کیا بلکہ یہ پاکستانی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ نہ صرف اب تک فائربندی برقرار ہے بلکہ امریکہ اور ایران دونوں پاکستانی امن کوششوں پر اعتماد کرتے ہیں جس سے حوصلہ افزا صورتحال کی طرف اِشارہ ہوتا ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنے اپنے موقف میں تھوڑی سی لچک پیدا کرلیں اور یورینیم منتقلی کا مسئلہ بعد میں حل کرنے پر اتفاق کرلیں تو نہ صرف خطہ مزید تباہی سے محفوظ ہو جائے گا بلکہ غربت و افلاس کے خطرات میں بھی کمی آئے گی۔
امریکہ کا خیال ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی بالادست فوجی طاقت ہے لہذا جہاں چاہے کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن بالادست طاقت کو ایرانی جواب نے یہ احساس دلا دیا ہے کہ کسی ملک کو کمزور تصور کرتے ہوئے چڑھ دوڑنا بے وقوفی ہے۔ یہ بات کسی حد تک واشنگٹن کے شہ دماغوں کی سمجھ میں آتو گئی ہے لیکن تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ بار بار دھمکیاں دینے سے لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ اب خود بھی جنگ سے پریشان ہیں تبھی تو مزاکرات پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن عین اُس وقت جب دونوں ممالک کے وفود اسلام آباد میں ایک باعزت تصفیے پر رضا مند ہوچکے تھے صدرٹرمپ نے خود ہیرو بننے کے چکر میں اپنے نائب صدر جے ڈی وینس کو واپس بلا لیا اُس غلطی کا ازالا اب مشکل تر ہوگیا ہے۔
اُسی غلطی کا مطلب ایران نے یہ لیا کہ امریکی رویے میں سنجیدگی نہیں اِس طرح اُس کے موقف میں بھی سختی آتی گئی نہ صرف آبنائے ہُرمز پر اپنی جارہ داری تسلیم کرانے پر بضد ہوا بلکہ تیل بردار جہازوں سے محفوظ آمدورفت پر وصولی شروع کرنے کی طرف آیا۔ ایران کے اِس رویے کو عالمی سطح پر پزیرائی نہیں ملی یہاں تک کہ چین نے بھی ایران کے اِس موقف کی حمایت نہیں کی مگر ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ امریکی کاروائی کی اِس طرح وہ پورے خطے کو سزا دے کر بہت کچھ منوا سکتا ہے لیکن آثار و قرائن سے واضح ہے کہ ایران کو آبنائے ہُرمز کے حوالے سے اپنے رویے میں لچک لانا ہوگی وگرنہ عالمی برادری کی حمایت میں کمی آسکتی ہے۔ چین کا پاکستان کی مصالحتی کوششوں میں ساتھ دینے کا اعلان بہت کچھ واضح کرتا ہے اگر کوئی بصارت سے محروم نہ ہو۔
اِس میں کوئی ابہام نہیں کہ عوام جنگیں پسند نہیں کرتیں جس کا عوامی نمائندوں کو بھی ادراک ہے۔ امریکی سینٹ کی طرف سے ایران جنگ سے متعلق صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کو ایک ایسی ہی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 47کے مقابلے میں پچاس ووٹوں کی کثرت سے منظور کی جانے والی اِس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ نہ صرف ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے بلکہ امریکی افواج کا انخلا بھی کیا جائے۔ اِس قرارداد سے صدر ٹرمپ کے کانگرس کی منظوری کے بغیر جنگ جاری رکھنے کے فلسفے کی کسی حد تک حوصلہ شکنی ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ اِس قرارداد کو صدر ٹرمپ کی طرف سے ویٹو کیے جانے کا خطرہ موجود ہے جس کا وائٹ ہاؤس نے عندیہ ظاہر کیا ہے اور ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے خیالات یکساں ہونے کی بات کی گئی ہے البتہ یہ ضرور واضح ہوگیا ہے کہ امریکی قانون سازوں کی اکثریت مزید کشیدگی کے حق میں نہیں اور بات چیت کے عمل کی خواہاں ہے۔
امن کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی کے باوجود تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کی طرف سے خطے کے دیگر ممالک کو جنگ کا حصہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دونوں چاہتے ہیں کہ خطے کے مزید ممالک جنگ کا حصہ بنیں تاکہ جنگ کا دائرہ کار وسیع ہو اسی لیے فائر بندی کے باوجود اِکا دُکا خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ مزید عالمی سطح پر بڑی تشویش یہ ہے کہ دوبارہ جنگ کی چنگاری بڑھکنے سے ہونے والی تباہی کا دائرہ کار اِس حدتک پھیل سکتا ہے کہ بحیرہ احمر بھی محفوظ نہ رہے جس سے عالمی تجارت و معیشت کو ناقابلِ تلافی دھچکہ لگ سکتا ہے اِس لیے مستقل جنگ بندی کے لیے آوزیں بلند ہورہی ہیں مگر مسئلہ تبھی حل ہوگا جب اصل فریق امریکہ اور ایران کشیدگی ختم کرنے کے لیے بات چیت کی طرف آئیں اِس مقصد کے لیے پاکستان کی قابلِ قدر اور قابلِ تعریف کوششیں بداعتمادی ختم کرنے کے ساتھ اُنھیں باعزت تصفیے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔
اپنی دفاعی طاقت پر ناز کرتے ہوئے امریکہ کو یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیے کہ روس اور چین بھی بڑی طاقتیں ہیں جن کے صدورنے واضح کردیا ہے کہ دنیا کو جنگ کی نہیں بلکہ امن کی ضرورت ہے جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی نئی مُہم جوئی دنیا کی تقسیم کا سبب بنے گی جو سرد جنگ کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے حالانکہ دنیا کی معیشت مزید کسی جنگ کے بوجھ کی متحمل نہیں۔ تیل اور گیس کی فراہمی میں بار بار تعطل آنے سے پہلے ہی پوری دنیا میں مہنگائی کی ایسی لہر جنم لے چکی ہے جس سے کوئی ملک محفوظ نہیں۔ دنیا کے معاشی و سیاسی افق سے بے یقینی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ سفارتی روابط کسی ایسے پُر امن معاہدے پر منتج ہوں جس سے خطہ مزید کسی مُہم جوائی اور کشیدگی کا مرکز نہ بنے ایسا تبھی ممکن ہے کہ فریقین موقف میں نرمی لاکر آگے بڑھیں تاکہ ثالثی کی کوششیں جلد نتیجہ خیز ثابت ہوں۔