Saturday, 23 May 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Teen Dukh

Teen Dukh

ابھی لیہ سے صحافی دوست محسن عدیل کی وال پر ایک ویڈیو دیکھی جو انٹی کرپشن لیہ کی ایک سرکاری دفتر پر چھاپے کی تھی جس میں ایک کلرک کو گرفتار کیا گیا اور اس کی جیب سے رشوت کے پچیس ہزار برامد کر لیے گئے۔

ویڈیو دیکھ کر مجھے دو تین افسوس ہوئے۔ ایک یہ کہ اس بندے کو سرکاری نوکری پر تنخواہ مل رہی ہے جس کے بدلے اس نے عوام کے کام میرٹ یا قانون پر کرنے ہیں۔ اگر ایک کام غیرقانونی ہے تو وہ پچیس ہزار سے قانونی کیسے ہوگیا۔ آپ تنخواہ بھی لے رہے ہیں اور رشوت بھی لے رہے ہیں؟ آپ سے کوئی دوسرا ایسے کام کے پیسے مانگے تو کیسا لگتا؟

دوسرا دکھ مجھے اس کا چہرہ دیکھ کر ہوا کہ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ چہرے پر جو شاک کی کیفیت تھی کہ ایک لحمے پہلے آپ جس آفس میں ٹھاٹ باٹ سے بیٹھے گپیں مار رہے تھے اب اس وقت وہیں ملزم بنے کھڑے تھے۔

کیا یہ سب دکھ اور شرمندگی سے پچیس ہزار زیادہ قیمتی تھے؟

تیسرا دکھ مجھے اس بندے کے بچوں کا ہوا جو اپنے باپ کو اس حالت میں پکڑے جاتے دیکھیں گے۔ ساری عمر ایک لیبل لگ جائے گا کہ ان کے باپ کو رشوت پر پولیس پکڑ گئی تھی۔ رشتے دار کزن شریکا یار دوست کلاس فیلوز۔۔ سب پوچھیں گے۔۔ مذاق اڑایں گے۔ خوش ہوں گے۔ سوشل لائف الگ سے تباہ۔ ہمارے علاقوں میں ایسی باتیں برسوں تک یاد رکھی جاتی ہیں۔

اب ایک اور سین دیکھیں۔ اب انٹی کرپشن کے پیسے کھانے کی باری لگے گی، پھر عدالتی اہلکاروں کو بخشیش دینی ہوگی، وکیل الگ سے تگڑی فیس لے گا کہ تگڑی آسامی ہاتھ لگ گئی ہے۔ جیل گیا تو وہاں جیلرز اور عملے کی الگ چاندی۔۔

ایک پچیس ہزار نے ایک بندہ گرفتار کرا دیا، پورا خاندان متاثر ہوگا تو دوسری طرف درجنوں کی روزی روٹی کا بندوبست بھی کر دیا۔

بھارتی صحافی کلدیپ نئر نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ لکھا۔ ڈپٹی کمشنر انڈیا پر دبائو تھا کہ اندرا گاندھی کے 1977 میں الیکشن ہارنے کا اعلان نہیں کرنا تو اس نے بیوی سے مشورہ کیا کہ کیا کروں۔ اگر اعلان کرتا ہوں تو اندرا مجھ سے انتقام لے گی۔ شاید نوکری چلی جائے۔

بیوی نے جواب دیا تھا تم وہی کرو جو قانون کہتا ہے۔ نوکری جانے کی فکر نہ کرو۔ میں ابھی بھی اپنے گھر کے برتن کپڑے سب صاف اور دھوتی ہوں۔ نوکری چلی گئی تو میں لوگوں کے گھروں کے بھی دھو دیا کروں گی۔

ڈی سی نے جا کر دبائو مسترد کرتے ہوئے اندرا کے ہارنے کا بم پورے ہندوستان پر گرا دیا۔

آج بھی 49 سال بعد بھی اس ڈی سی کا نام عزت سے لیا جاتا ہے۔

یاد آیا ایک دوست نے واقعہ سنایا تھا کہ اس کی بہن شادی کے کچھ برس بعد خاوند کو چھوڑ کر گھر لوٹ آئی کہ میرا خاوند رشوت کھانے لگ گیا ہے۔ میں بچوں کو حرام نہیں کھلائوں گی۔ خاوند نے معافی مانگی تو واپس گھر گئی اور مرتے دم تک خاوند نے وعدہ نبھایا۔

نیویارک میں میاں مشتاق بھائی نے واقعہ سنایا تھا کہ ایک پولیس افسر کے بیٹے کا یہاں امریکہ داخلہ ہوا تو اسے احساس ہوا اس کے باپ کے پاس ہزاروں ڈالرز کہاں سے آرہے تھے کہ مجھے پڑھا رہا تھا۔ اسے لگا باپ پاکستان میں رشوت لے رہا تھا۔ اس نے باپ سے پیسے لینے سے انکار کرکے وہیں کیفے پر نوکری کرکے تعلیم مکمل کی۔

سوال یہ ہے کیا پچیس ہزار کے بدلے یہ سب مشکلات اور شرمندگی جو پورا خاندان اور بچے برسوں تک کندھوں پر اٹھائے پھریں وہ وزن میں زیادہ بھاری تھے؟

ادھر میں خود پر بھی حیران ہورہا ہوں کہ بندہ لیہ میں پیسے لیتے پکڑا گیا ہے اور اس کے بچوں کی شرمندگی اور تکلیف کا دکھ مجھے یہاں چھ سو کلو میٹر افسوس ہورہا ہے۔ اتنا خیال اگر ان کا باپ کر لیتا تو شاید یہ شرمندگی اور تکلیف سے سب نہ گزرتے۔ ہم سب لکھنے اور پڑھنے والے بھی نہ گزرتے۔

بعض دفعہ ایک بندے کا ایکٹ اکیلا اسے نہیں، ہزاروں کو متاثر کرتا ہے۔۔ سب سے زیادہ اپنے بچوں کو جن کو اچھی زندگی دینے کے نام پر وہ سب پیسے لیتے ہیں۔

کبھی کسی نے بیوی یا بچوں سے پوچھا ہے بیٹا کیا خیال ہے میں رشوت لیا کروں تاکہ تم اچھی زندگی گزارو اور اس پیسوں کے کھیل میں، میں جیل بھی جاسکتا ہوں۔۔ کیا کہتے ہو تم سب۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.