کچھ برس پہلے کی بات ہے۔ میں بیورلے سینٹر بلیو ایریا کسی دوست کے ساتھ ایک کیفے میں بیٹھا تھا۔ ایک صاحب کہیں سے آئے۔ ہیلو ہائے ہوئی اور وہ مل کر چلے گئے۔ میں کوئی ایک گھنٹہ وہاں دوست کے ساتھ بیٹھا۔ رات ہوگئی تھی۔ باہر نکل کر پارکنگ کی طرف جانے لگا۔
میری ایک عادت ہے میں قریب ترین پارکنگ نہیں ڈھونڈتا، جہاں پہلے مل رہی ہو وہیں پارک کر لیتا ہوں۔ اگر دور بھی کرنی پڑے تو وہیں کر لیتا ہوں کہ پارکنگ مناسب جگہ کریں۔ نہ خود تنگ ہوں نہ ہی دوسرے کو کریں۔ پیدل چلنے کا بھی شوق ہے لہذا گاڑی دور پارک کرکے بھی خوش رہتا ہوں۔
کچھ اندھیرا تھا۔ میں گاڑی کے قریب چلتے چلتے پہنچا اور گاڑی کا گیٹ کھولنے لگا تو اچانک کوئی بندہ میرے پیچھے آیا۔ مڑ کر دیکھا تو لگا وہی صاحب تھے جو کچھ دیر پہلے کیفے میں سلام دعا کرکے گئے تھے۔
میں کچھ حیران ہوا کہ شاید کوئی بات کہنا چاہتے ہیں تو میرے بولنے سے پہلے بولا دراصل میں کافی دیر سے انتظار کررہا تھا کہ آپ کب باہر آتے ہیں۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ آپ کے پاس کون سی گاڑی ہے۔ آپ کے پاس تو ہونڈا پرانا ماڈل ہے۔ اس کا مطلب ہے آپ ایماندار صحافی ہیں ورنہ تو یہاں اینکرز اور صحافیوں کے پاس تو اپنے جیٹ جہاز ہیں۔
میں نے کچھ مزید حیرانی سے اسے دیکھا کہ اس کے ذہن میں ایماندار صحافی کا کیا امیج ہے۔ بلکہ شاید پوری قوم کا یہی امیج ہے کہ ایک تو صحافی پڑھا لکھا نہیں ہوسکتا، مشکل سے دس جماعتیں پاس ہو یا ایف اے یا بہت قابل ہو تو بی اے۔ اس کے سر کے بال اڑ چکے ہوں، گنجا ہو، شیو کیے کئی دن گزر گئے ہوں، پرانی سائیکل ہاتھ میں لے کر پیدل چل رہا ہو کہ ٹائر پنکچر ہوچکا ہے اور سوچ رہا پنکچر والے سے کیسے مفت پنکچر لگوانا ہے، سگریٹ کا ٹوٹا سڑک کنارے سے اٹھا کر اب ڈھابے والے سے ماچس مانگ رہا ہوتاکہ سلگا سکے، صبح بیوی سے لڑ کر نکلا ہو کہ گھر میں سودے نہیں ہیں، بچوں کے نام سکول سے فیس نہ ہونے پر کٹ چکا ہو لیکن وہ ہر بڑے افسر، سیاستدان کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے اور پورے معاشرے کے حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے۔
وہ سچا اور ایماندار صحافی ہے۔
اگر وہ پڑھا لکھا ہے، گاڑی پر سوار ہے، اچھی تنخواہ یا اچھے کپڑے پہنتا ہے تو پھر یقیناََ وہ کرپٹ ہے۔ بھلا صحافی کب گاڑیوں پر سفر کرسکتے ہیں یا صاف ستھرے کپڑے پہن سکتے ہیں یا ان کے بچے اچھے سکولز میں پڑھ سکتے ہیں۔
اس کے چہرے پر مایوسی دیکھ کر میں نے پہلے اس سے معذرت کی کہ وہ مایوس ہوا۔ ایک گھنٹہ ضائع گیا۔
پھر میں نے خدا کا شکر کیا کہ چند ماہ پہلے 92 چینل چھوڑ چکا تھا جنہوں نے ڈرائیور کے ساتھ لینڈ کروز دی ہوئی تھی۔ آج تو مارے گئے تھے اور موقع پر پکڑے بھی گئے تھے۔ خدا نے عزت رکھ لی اور چند ماہ پہلے ہی دفتر سے چند اختلافات پر استعفی دینے کے بعد ڈرائیور اور لینڈ کروز واپس کر دی تھی۔
اس وقت ہوسکتا ہے تکلیف ہوئی ہو، لیکن میرے اس فین کے چہرے پر مایوسی دیکھ کر سمجھ آئی کہ واقعی خدا جو کرتا ہے وہ ٹھیک کرتا ہے بس ہمیں سمجھنے میں دیر سویر ہوجاتی ہے ورنہ آج میری "ایمانداری" کا جنازہ نکل گیا تھا۔