Sunday, 10 May 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Ulema Ke Qatil Murdabad

Ulema Ke Qatil Murdabad

ہم نے توکبھی سوچابھی نہ تھاکہ اس مٹی اوردھرتی پرپاک فوج اورپاکستان کانام لینااتنابڑاجرم اورگناہ بن جائے گاکہ، پاکستان پاکستان، کہنے اورپکارنے والے کواس طرح بیدردی اورسفاکیت سے خون میں نہلادیاجائے گا۔ ظالمو۔ وطن کے بوڑھے سپاہی پرہاتھ اٹھاتے ہوئے تمہیں ذرہ بھی شرم نہیں آئی۔ پشاورمیں دن دیہاڑے شہیدہونے والے ہزاروں نہیں لاکھوں علماء، صلحاء اورطلباء کے بوڑھے استادشیخ الحدیث مولانامحمدادریس کابس یہی جرم اورگناہ توتھاکہ وہ اس زمانے میں بھی پاک فوج اورپاکستان کانام لیتے تھے۔

کیاپاک فوج اورملک سے محبت اتنابڑاجرم اورگناہ ہے کہ اس پروقت کے ایک ولی کوبھی گولیوں سے بھون ڈالاجائے۔ یہ توہم نے اپنے بزرگوں سے سناتھاکہ قیام پاکستان سے پہلے کالے ہندو پاکستان کانام لینے اورنعرہ لگانے پرمسلمانوں کوآگ میں جلایااورخون میں نہلایاکرتے تھے۔ اللہ بخشے ہمارے آبائی گاؤں کے قلندرشاہ باجی جب تحریک پاکستان کے واقعات اورکالے ہندوؤں کے ایسے مظالم کاذکرکرتے تورونگھٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔ وہ اکثرکہتے کہ پاکستان کے دشمن بڑے ظالم ہیں، پاکستان کی نفرت میں انہوں نے مسلمانوں پرجومظالم ڈھائے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔

ہروہ بندہ جنہوں نے پاکستان کانعرہ لگایااورحضرت قائداعظم کاساتھ دیاان ظالموں نے اسے نہیں بخشا۔ نوجوان کیا؟ پاکستان سے محبت کرنے والے بوڑھے، بزرگ اوربچے بھی ان کے شراورمظالم سے نہیں بچے۔ مودی اورموذیوں کے دیس میں یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتارہااوراب بھی ہورہاہے لیکن ہزاروں ولاکھوں شہداء کے مبارک خون اورلازوال قربانیوں کی برکت سے بننے والے اس ملک میں ایک درویش اوربزرگ کوپاکستان کی محبت پرخون میں نہلانایہ سوچ، عقل اورسمجھ سے بالاترہے۔ کیاہزاروں اورلاکھوں مسلمان اس لئے پاکستان پرکٹے، مرے اورقربان ہوئے کہ ان کے خون سے بننے والے گلستان میں پاک فوج کانام لینے اورپاکستان کانعرہ لگانے والوں کے ساتھ پھریہ سلوک کیاجائے گا؟

وہ درویش اورفرشتہ صفت مولاناادریس شہیدجن کی ساری زندگی قال اللہ اورقال رسول اللہﷺ کی صدابلندکرتے اورامن وبھائی چارے کے نعرے لگاتے گزری۔ اس نے پاک فوج کانام کیالیاکہ ہندوبنیاکی روحانی اولادکووہ مرچیں لگیں کہ انہوں نے مولاناادریس کے خلاف پھرتمام حدودکراس کردیئے۔ شہادت سے پہلے مولاناادریس کے خلاف سوشل میڈیاپرایسی مہم چلائی گئی کہ اس مہم کودیکھ کرشیطان بھی شرم سے پانی پانی ہوجائے مگرمہم چلانے والے جاہلوں واندھوں کوذرہ بھی شرم نہیں آئی۔ مولاناادریس کوکیاپتہ تھاکہ ہندوستان میں پاکستان کانعرہ لگانے پرمسلمانوں کوکاٹنے، مارنے اورزندہ جلانے والے دشمنان پاکستان کے وارث اورپیروکاریہاں بھی ہے۔

کوئی مانیں یانہ پرحقیقت یہی ہے کہ مولاناادریس شہیدجیسے محب وطن پاکستانی پرہاتھ اٹھانے والوں کے تانے بانے، رشتہ اورخون سوفیصددشمنان پاکستان سے ملتاہوگا۔ کوئی محب وطن پاکستانی مولاناادریس جیسے پاکستان کے ایک سچے وفاداراورقوم کے حقیقی غمخوار پرہاتھ اٹھانے کاسوچ بھی نہیں سکتا۔ اس واقعہ اورسانحہ کے پیچھے انہی لوگوں اورقوتوں کاہاتھ ہے جن کے دامن میں پاک فوج اورپاکستان سے نفرت اورعداوت کے سواکچھ نہیں۔

مولاناادریس کاجرم اورگناہ ہی یہ تھاکہ وہ پاک فوج پرفخراورپاکستان سے محبت کرتے تھے اسی لئے تواسے نشانہ بنایاگیاورنہ پاک فوج وپاک مٹی سے محبت کے سوااس کااورکوئی جرم اورگناہ تھاہی نہیں۔ وہ تومسجداورمدرسے کے خادم اوردین کے ایک غلام تھے، وہ ایک مدرسے سے نکلتے تودوسرے میں پہنچ جاتے۔ نہ وہ کوئی جاگیردارتھے نہ سرمایہ داراورنہ کوئی خان اورنواب۔ لین دین کااس کاکوئی تنازعہ تھااورنہ اس کی کسی سے کوئی دشمنی تھی۔ وہ تودرس وتدریس کے ذریعے عمرکے آخری حصے میں بھی اندھوں کے شہرمیں شیشے بیچ رہے تھے۔

تحریک پاکستان میں توہزاروں بوڑھے اوربزرگ وطن پرقربان ہوئے لیکن مولاناادریس اس دورکے وہ خوش قسمت شہیداوربزرگ ہیں جنہیں پاک فوج اورملک سے محبت کے جرم میں ہندوستان نہیں پاکستان کی سرزمین پرشہیدکیاگیا۔ دشمن سمجھ رہاہوگاکہ بوڑھے شیخ کوخون میں نہلاکرانہوں نے پاکستان سے محبت والاباب بندکردیاہے لیکن یہ ان کی بھول ہے۔ مولاناادریس کی دردناک شہادت سے علماء اوراولیاء کاپاکستان سے محبت کاباب بندنہیں ہوا بلکہ اصل کہانی تو اب شروع ہوگئی ہے۔ مولاناادریس کے تاریخ سازجنازے نے یہ ثابت کردیاہے کہ پاک فوج اورپاکستان سے محبت میں مولاناادریس شہیداکیلے نہیں تھے۔

شہیدکے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روحانی فرزنداپنے شیخ اورمربی کی طرح ملک کی محبت پرقربان ہونے کے لئے ہمہ وقت تیارہیں۔ تم نے ایک مولاناادریس کووطن سے محبت کی سزادے کرہزاروں ولاکھوں نہیں بلکہ ان کے کروڑوں مریدوں کووطن پرقربان ہونے کے لئے تیارکردیاہے۔ ملک اورفوج سے محبت میں مولاناادریس شہیداکیلے نہیں تھے اس ملک کے چوبیس کروڑعوام اتنی محبت اپنی جان سے نہیں کرتے جتنی محبت اورعقیدت یہ اپنے ملک اورپاک فوج سے کرتے ہیں۔

یہاں صرف بچوں اورجوانوں کونہیں بلکہ مولاناادریس شہیدجیسے بوڑھوں کوبھی ملک وفوج سے عشق ہے جہاں مولاناادریس جیسے وطن کے عاشق ہوں وہاں خون کی ندیاں بہانے اورسوشل میڈیاپردن رات مہم چلانے وپراپیگنڈے کرانے کے باوجودپاک فوج اورپاکستان زندہ بادکے نعرے گونجتے رہتے ہیں۔ امریکہ اورایران کے تنازعے کے دوران فیلڈمارشل جنرل عاصم منیر، پاک فوج اورحکومتی محنت، کوشش اورقربانیوں سے عالمی سطح پرپاکستان کاوقاربلندہوااورقوم کوعزت ملی یہ اعتراف اگرجرم اورگناہ ہے تومولاناادریس شہیدکواس جرم میں شہادت کاجام پلانے والے سن لیں پھر اس ملک کابچہ بچہ مجرم اورگناہ گارہے۔ تمہیں اگرمودی اورموذیوں کی طرح پاک فوج وپاکستان زندہ بادکے نعرے لگانے پرتکلیف ہوتی ہے توپھریہ بھی سن لیں ہم ایک نہیں ہزارولاکھ باربلکہ باربارکہیں گے پاک فوج وپاکستان زندہ باد۔۔ علماء کے قاتل مردہ باد۔