اس دنیا باالخصوص ہمارے ہاں پچھلے چندسالوں سے ہارٹ اٹیک، کینسر، گردوں، شوگراوربلڈپریشرکی بیماریاں جس رفتارسے بڑھنے اورپھیلنے لگی ہیں یہ نہ صرف افسوسناک بلکہ انتہائی تشویشناک بھی ہے۔۔ پہلے کہیں سومیں ایک دوافرادان بیماریوں کاشکارہوتے تھے مگراب صورتحال صرف مختلف نہیں بلکہ مکمل طورپرالٹ ہے۔ اس ملک میں شوگراوربلڈپریشرکی بیماریاں تواب اس قدرعام ہے کہ کوئی گھراوردران سے محفوظ نہیں۔
آج ہرگھراوردرپراورکچھ آپ کوملے یانہ لیکن شوگر، گردوں، پراسٹیٹ اوربلڈپریشرکاکوئی نہ کوئی دکھیاراآپ کوضرورملے گا۔ موجودہ حالات اوردورمیں کوئی گھران بیماریوں سے خالی نہیں۔ شوگراوربلڈپریشرکی بیماری توعام سے بھی عام ترہے۔ ہرخاندان اورگھرمیں کوئی نہ کوئی شخص اورفردایساضرورہوگاجوشوگراوربلڈپریشرکے عذاب سے گزررہاہوگا۔ کہنے کوتوشوگراوربلڈپریشرکے الفاظ بہت ہلکے ہیں لیکن یہ دونوں بیماریاں اتنی خطرناک اوراس قدرظالم ہیں کہ وقت پراگران کاعلاج اورپرہیزنہ کیاجائے تویہ دونوں بیماریاں اچھے بھلے انسان کوبھی شدیداذیت وتکلیف کے ساتھ عمربھرکی معذوری اور قبرکے دہانے تک پہنچاسکتی ہیں۔
ایبٹ آبادمیں ہمارے بھائیوں جیسے ایک دوست ہیں ڈاکٹرعاطف حمیدجوایوب میڈیکل کمپلیکس میں شوگرسپیشلسٹ ہیں۔۔ یاردوستوں اوررشتہ داروں کے چیک آپ کے سلسلے میں اکثران سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں شوگربیماری ضرورہے پریہ کوئی قاتل نہیں۔ اس بیماری کودشمن اورقاتل ہم نے خودبنایاہواہے۔ مستقل علاج کے ساتھ پابندی کے ساتھ اگرشوگروالی اشیاء سے پرہیزکی جائے توشوگرانسان کوکچھ نہیں کہتا۔ معاملات تب خراب اورمسائل تب جنم لیتے ہیں جب شوگرکامریض نہ مستقل علاج کرتاہے اورنہ ہی پابندی کے ساتھ احتیاط اورپرہیزکرتاہے۔
ہمارے چچاحضرت یوسف جن کی اکثرزندگی دیارغیرمیں گزری۔ انہیں سات سمندرپارشوگرکامرض لاحق ہوا۔ وہ دوبار سعودی عرب سے اس حال میں آئے کہ ان کاکوئی حال نہیں تھا۔ ہمیں یادہے دوتین سال پہلے آخری بارتووہ سہارے کے ذریعے ایئرپورٹ سے باہرآئے۔ جب تک ان کامستقل علاج اورپرہیزکاسلسلہ چلتارہتاوہ صرف ٹھیک نہیں بلکہ بہت ٹھیک ہوتے لیکن جب وہ علاج کے ساتھ احتیاط بھی چھوڑدیتے توپھران کے جسم میں نت نئے مسائل جنم لیناشروع کردیتے۔
ٹائم پاس علاج اورمن پسندپرہیزکانتیجہ ہے کہ چھوٹے سے آپریشن کے ذریعے چچاکے پاؤں کی بڑی انگلی سرسے کاٹنی پڑی۔ آپریشن کے بعدماموں زادبھائی ڈاکٹرنثارجوڈی ایچ کیوہسپتال بٹگرام کے سرجن ہیں نے چچاکی طرف افسوس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہاحاجی صاحب اگرآپ پابندی کے ساتھ علاج وپرہیزکرتے توآپ کواس اذیت، تکلیف اورپریشانی سے گزرنانہ پڑتا۔ چچاکی زندگی اب بھی بہت تکلیف میں گزررہی ہے۔ چچاکے علاوہ بھی ہمارے خاندان میں ایک دوایسے افرادہیں شوگرنے جن کاجیناحرام کررکھاہے۔ ایک بارہم پیارے بھائی ڈاکٹرامین آفریدی جوگردوں سے متعلق امراض کے ماہرہیں کے پاس بیٹھے تھے کہ باتوں باتوں میں مریضوں کے علاج اوربیماریوں کاذکرہونے لگاتوڈاکٹرامین آفریدی کہنے لگے کہ ہمارے لوگوں کی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں اپنی صحت، جان اورزندگی کاخیال اس وقت آتاہے جب مسئلہ حدسے بڑھ چکاہوتاہے۔ بلڈپریشرکی گولی ان کوصرف اس وقت یادآتی ہے جب ان کاسردردسے پھٹنے لگتاہے۔
شوگرکی دوائی بھی ان کواس وقت یادآتی ہے جب ان کاشوگرہائی یالوہو۔ گردوں کے علاج کے لئے یہ تب آتے ہیں جب بیماری نے اپناکام تمام کرلیاہوتاہے۔ ہم نے شوگرکے ایسے کئی مریض دیکھے ہیں جوایک طرف شوگرکی وجہ سے تڑپ رہے ہوتے ہیں اوردوسری طرف پرہیزکااس طرح ستیاناس کررہے ہوتے ہیں کہ میٹھی چائے کے ساتھ چاول اورگلاب جامن کے ذائقے اڑاتے پھرتے ہیں۔ ہمارے گاؤں کی ایک بزرگ خاتون ایک بارہمارے ہاں ایبٹ آبادمیں ڈاکٹرکے پاس چیک آپ کے لئے آئیں، ڈاکٹرنے ضروری ٹیسٹ کرانے کے بعددوائیاں لکھیں اورسختی سے ہدایت کی کہ ماں جی چاول، میٹھااورتلی ہوئی چیزیں باالکل استعمال نہیں کرنی۔ وہ خاتون کلینک سے جونہی باہرنکلیں توکہنے لگیں یہ ڈاکٹرپاگل لگ رہا ہے۔
چاول، میٹھا اورروسٹ سے بھی کوئی بیمارہوتاہے۔ جوڈاکٹرپرہیزپرزیادہ زوردیتاہے وہ اس خاتون کی طرح ہمیں پاگل لگتاہے۔ دوائیاں ہم وقت پرنہیں لیتے۔ علاج پابندی کے ساتھ ہم نہیں کرتے۔ پرہیزاوراحتیاط یہ توہماری کتابوں میں کہیں ہے نہیں لیکن مرض اورتکلیف بڑھنے پر برابھلااورگالیاں پھربھی ہم نے ڈاکٹروں کودینی ہیں۔ دوائی کھانے اورپرہیزکرنے کاجوکام ہماراہے چھوٹے ہیں یابڑے۔ ہم میں سے ہربندہ چاہتا ہے کہ دوائی کھانے اورپرہیزوالایہ کام بھی ہماری جگہ پریہ ڈاکٹرخودکریں۔
ماناکہ شوگر، بلڈپریشر، کڈنی اورہارٹ جیسے امراض قابل علاج ہیں مگرقابل علاج کاہرگزیہ مطلب نہیں کہ بندہ دوائیاں نہ کھانے اورانسولین نہ لگانے کے ساتھ پرہیزکوبھی ہمارے چچاکی طرح بڑے سے شاپراورصندوق میں بندکردیں۔ تیزنمک، تلی ہوئی اشیاء، چاول اورمیٹھاکھانے اورچائے، سیگرٹ وکولڈڈرنک پینے سے عام آدمی کاکچھ نہیں ہوتاہوگالیکن شوگر، بلڈپریشر، گردوں اورہارٹ کے گناہ گاروں کابیڑہ غرق ہوجاتاہے کیونکہ تمام ترکوششوں کے باوجودجب شوگراوربلڈپریشرکنٹرول نہیں ہوتاتوپھریہ جسم کے ساتھ وہ کام کرتاہے جوہماری سوچ سے بھی باہرہے۔
مستقل علاج اورپرہیزہوتونظام چلتارہتاہے لیکن ان چھوٹی موٹی بیماریوں سے اگرعلاج اورپرہیزمیں نظریں چرادی جائیں تویہ پھرزندگی بھرکاروگ بن جایاکرتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان موذی ا مراض کی تباہ کاریوں اورتباہی سے بچنے کیلئے علاج کے ساتھ پرہیزکوبھی اپنے اوپرفرض ولازم کرلیاجائے۔ ڈاکٹریہ ہمارے دشمن نہیں، یہ ہماری صحت اورزندگی کے ایک طرح محافظ ہیں۔ یہ جوہدایات ہمیں دے رہے ہوتے ہیں ان میں ہماراہی فائدہ ہوتاہے۔ ہم اگرڈاکٹروں کی ہدایات اورمشوروں کواسی طرح نظراندازکرتے رہیں گے توپھرشاپربھربھرکردوائیاں لینے کاکوئی فائدہ نہیں۔ شاپروں میں دوائیاں ڈالنے سے آج تک نہ کوئی ٹھیک ہواہے اورنہ آئندہ کبھی ہوگا۔ پھرصرف دوائیاں لینے اورکھانے سے بھی بیماریاں ختم نہیں ہوتیں۔
یہ سوچ ہی غلط ہے کہ دوائیاں کھانے کے بعدمریض جومرضی کھائیں اورپئیں کچھ نہیں ہوتا۔ کیوں نہیں ہوتا، بہت کچھ ہوتاہے۔ علاج اور پرہیزلازم وملزوم ہے۔ آپ دیکھیں جولوگ علاج کے ساتھ پرہیزنہیں کرتے وہ پھردوسرے دن نئے ڈاکٹرڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ اس لئے روزنئے نئے ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگنے اورخوارہونے سے بہترہے کہ علاج کے ساتھ پرہیزوالانسخہ بھی استعمال کیاجائے تاکہ ہردوسرے دن ہسپتالوں اورکلینک کے چکرلگانے نہ پڑیں۔