Saturday, 11 April 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Umar Khan Jozvi
  4. Pakistan Aman Ki Fakhta

Pakistan Aman Ki Fakhta

جب ہم کہتے کہ وہ دن آئے گا جب دنیاکے فیصلے پاکستان میں ہوں گے تونہ صرف لوگ ہنستے بلکہ اکثر نادانوں کویہ باتیں عجیب لگتی تھیں۔ اللہ کی شان دیکھیں وہ پاکستان جوکسی کھاتے میں شمارنہ ہوتا تھاوہ آج دنیاکامحسن اوردوعالمی فریقوں کاثالث بن کرسامنے آچکاہے۔ فارس سے خلیج اورامریکہ سے اسرائیل تک ہرطرف پاکستان کی گونج اورسبزہلالی پرچم کی بلندی کودیکھ کرواللہ دل خوشی سے مچلنے لگتاہے۔

تیسری عالمی جنگ کے لئے بھڑکنے والی آگ پرپانی پھیرکرقائدکے پاکستان نے وہ عظیم کارنامہ سرانجام دے دیاہے دنیاجس کواب کبھی بھول نہیں پائے گی۔ امریکہ ایران جنگ بندی کے ذریعے آبنائے ہرمزکی بندش سے آخری ہچکیاں لینے والی عالمی معیشت کوپھرسے زندہ کرنااورہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کوموت کے منہ سے باہرنکالنایہ کوئی عام اورمعمولی بات نہیں۔ اسی لئے توسبزہلالی پرچم سے جلنے والوں کی چیخیں آسمان کوپہنچ رہی ہیں۔

بے شک عزت اورذلت میرے رب کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عزت دے اورجسے چاہے ذلیل کردے۔ کسی نے سوچابھی نہ تھاکہ وہ پاکستان جسے عالمی استعمارمنظرسے ہٹانے پرتلے ہوئے ہیں وہ پاکستان امن کاجھنڈالہرائے اس طرح عالمی توجہ کامرکزومحوربنے گا۔ بھارت سمیت وہ تمام دشمن قوتیں جوپاکستان کوناکام ودہشتگردریاست کے طورپرپیش کرکے ذلت دینے پربضدتھیں وہ سب منہ دیکھتی رہ گئیں اوراللہ پاک نے پاک ایران جنگ وتنازعہ میں پاکستان کوایساسرخروکردیاکہ اب مغرب سے مشرق اورشمال سے جنوب تک پاکستان کے نام کاڈنکابج رہاہے۔ کل تک جس پاکستان کوبم دھماکوں، خودکش حملوں، دہشتگردی، انتہاء پسندی اوربدامنی سے منسوب کیاجاتاتھااب اسی پاکستان کے سرامن کاجھنڈالہرارہاہے۔

مشرق وسطیٰ میں بھڑکتی آگ کوبجھانے اورخونریزتصادم کوروکنے میں پاکستان نے سفارتی سطح پرجوکرداراداکیاہے وہ کردارنہ صرف ہندوستان بلکہ ان تمام ممالک، قوتوں اورلوگوں کے لئے ناگہانی موت ہے جوپاکستان کوایک دہشت گرداورانتہاء پسندریاست ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کاہرزورلگارہے تھے۔ ان کی خواہش اورکوشش تھی کہ دنیاکے جس کونے میں بھی کوئی بدامنی ہواسے پاکستان سے جوڑاجائے۔ دنیاکے آخری کونے میں اگرکوئی چیونٹی بھی مرجاتی تویہ اس کاالزام بھی پاکستان پرلگانے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔

یہ توپاکستان کوڈبونااوربدنام کرناچاہتے تھے لیکن رب کوکچھ اورمنظورتھا۔ اس لئے اس تاریخی موقع پرپاکستان کے ان بدخواہوں کی اداسی قابل فہم ہے۔ خوداندازہ لگائیں ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیاپاکستان کی معترف اورہرامن پسندشخص پاکستان کے مثبت اورتاریخی کردارکادل وجان سے اعتراف کرکے پاکستان کا شکریہ اداکررہاہے یہ بدبخت اس اہم موقع پربھی پاکستان کے خلاف چیخیں مارنے اورسازشیں کرنے سے بازنہیں آرہے۔ پاکستان کے حوالے سے ان کے خواب کسی اور نقشے کی تعبیر چاہتے تھے لیکن رب نے پاکستان کوعالمی سطح پرسرخروکرکے ان کے سارے خواب چکناچورکردیئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی فضائیں، کویت کے ساحل، عمان کی بندرگاہیں اورایران وعرب کی گلیاں اس وقت سب پاکستان کے احسان تلے دبے ہوئے ہیں، وہ دنیاکے تاریخٰ ٹاورزاوربلڈنگوں کے سائے میں اڑنے والے امن کی جن فاختوں نے امریکہ ایران جنگ کاایندھن بن کرمرجھاجاناتھا پاکستان کے تاریخی کردارکی وجہ سے امن کی وہ فاختے اب نہ صرف مشرق وسطیٰ میں آزادی سے اڑرہی ہیں بلکہ امن کے گیت بھی گاررہی ہیں۔ امریکہ اورایران کے درمیان اڑنے والی امن کی یہ فاختائیں اورفضائیں اب چیخ چیخ کرکہہ کررہی ہیں کہ پاکستان کے بارے میں آج تک جوکچھ کہتااورمشہورکیاجاتارہاوہ نہ صرف غلط بلکہ بہت غلط تھا۔

دنیاکوجہنم کے دہانے سے کسی اورنے نہیں بلکہ اسی پاکستان نے واپس لایاجس پاکستان کوہمیشہ بدامنی، دہشتگردی اورانتہاء پسندی سمیت سفارتی تنہائیکے طغنے دیئے گئے۔ اسی پاکستان نے دنیامیں امن کے لئے وہ کام کیاجوپاکستان پرچیخنے اوربھونکنے والوں کی سوچ سے بھی باہرہے۔ وہ جس نے اٹھتے بیٹھتے پاکستان کودہشتگردکہا، ہمیں انتہاء پسندی اوربدامن ہونے کے طغنے دیئے وہ اب بتائیں ناکہ دنیامیں امن کاجھنڈالہرانے والاکون ہے؟ پاکستان اگردہشتگرداورانتہاء پسندہوتاتوکیاوہ مشرق میں لگنے اوربھڑکنے والی آگ کواس طرح بجھاتا؟

کہاں مغرب اورکہاں مشرق پاکستان کاتواس جنگ اورتنازعے سے براہ راست کوئی تعلق اورواسطہ بھی نہیں تھاپھربھی پاکستان صرف اس مقصدکے لئے مذاکراتی وثالثی میدان میں کوداکہ دنیاکاامن تباہ نہ ہو۔ پاکستان بھی دوسروں کی طرح اگرمنہ پررام رام اوربغل میں چھری رکھتا توآج مشرق وسطیٰ میں امن کے بجائے تباہی اوربربادی کے شعلے اٹھ رہے ہوتے۔ کوئی چیخے یاچلائے لیکن اٹل حقیقت اورسرخ سچ یہی ہے کہ پاکستان نے دو قوتوں کو آخری ٹکراؤ سے بچاکرنہ صرف خلیج کے کناروں بسے کئی ممالک کو تباہی سے بلکہ ہزاروں ولاکھوں انسانوں کوجنگ کایندھن بننے سے بھی بچا لیاہے۔

منہ پرجنگ کہناتوبہت آسان ہے لیکن جب جنگ ہوپھرکیاہوتاہے یہ آپ عراق، شام، لبنان، لیبیااورافغانستان کے کھنڈرات دیکھ کروہاں کے عوام سے پوچھ لیں۔ امریکہ جیسی طاقتورملک جسے ہروقت جنگی جنون کانشہ چڑھارہتاہے کوجنگ سے پیچھے لانایہ کوئی آسان اوربچوں والاکام نہیں۔ امریکہ ایران تنازعہ میں پاکستان نے وہ کام کیاجس کاکوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس تنازعے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں، صبر، تحمل، برداشت اورجدوجہدنے دنیاپریہ بات ثابت کردی ہے کہ پاکستان دہشتگردی وانتہاء پسندی کاملک نہیں بلکہ امن کی وہ فاختہ ہے جس کی اڑان سے مشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک امن کی فضائیں پھوٹ رہی ہیں۔

دنیاکوتباہی کے دہانے سے واپس اورجنگ کاایندھن بنانے سے بچانے پراب ان قوتوں اورلوگوں کوچلوبھرپانی میں ڈوب کرمرناچاہیئے جن کی ساری زندگی پاکستان کوانتہاء پسندریاست بنانے میں گزری۔ رب کے فیصلے بھی کتنے عظیم ہیں کہ دشمن جس پاکستان کوناکام وبدنام ریاست بنانے پرتلے ہوئے تھے رب نے اسی ریاست کوامن کے ماتھے کاجھومربنادیا۔ آج دنیاپاکستان کوشدت پسندی، انتہاء پسندی اوردہشتگردی کی نظرسے نہیں بلکہ امن کے طورپردیکھ رہی ہے۔ خداکرے کہ قائدکے پاکستان کی کامیابیوں اورکامرانیوں کایہ سفراسی طرح جاری وساری رہے اور اس پاک مٹی کے دشمنوں اوربداخواہوں کوہمیشہ اسی طرح منہ کی کھانی پڑے۔