Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Gharelu Helpers Par Ghussa Kyun Nahi Karte?

Gharelu Helpers Par Ghussa Kyun Nahi Karte?

کل عنایہ بڑے دنوں بعد گھر آئی۔ پتہ نہیں اسے کیا سوجھی مجھے کہتی ہے دابادائی۔۔ کیا وجہ ہے آپ گھر کے ڈومیسٹک ہیلپ پر کبھی غصہ نہیں کرتے بلکہ الٹا اگر کوئی بات ہو تو بھی ان کی سائیڈ لیتے ہیں۔

یہ بات اس نے دو تین دفعہ کی تو مجھے سوچنا پڑا کہ میں ایسا کیوں کرتا ہوں۔ مجھے حیرانی بھی ہوئی کہ اس نے اس بات کو نوٹ کیا ہے۔ وہ میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تو میں نے ایک گہرا سانس لے کر کہا اس کی چند وجوہات ہیں۔

بڑی تو یہ ہے میں مزاجا ایسا بندہ ہوں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کبھی کسی ہوٹل ویٹر، ملازم، ڈومیسٹک ہیلپ یا ورکر پر غصہ یا شائوٹ کیا ہو۔

بچپن میں گائوں گھر میں اماں کو دیکھا وہ بابا کے ساتھ ہماری زمینوں پر کام کرنے والے مزدورں سے بہت شفقت سے پیش آتی تھیں۔ ہمارے بیلی (کھیتوں کے ملازم) ہمارے ساتھ تندور پر ہی روٹی کھاتے تھے جہاں ہم سب کھاتے تھے لہذا ہمارے ذہنوں میں اماں نے ہوا نہیں بھری کہ ہم کوئی آسمان سے اتری مخلوق ہیں۔

پھر جب میں 1987 میں لیہ کالج گیا تو ہوسٹل میں چار سال گزارے۔ اماں ہر ماہ مجھے بہن کی سکول تنخواہ سے خرچہ دیتی تھی تو پچاس روپے الگ دیتں کہ یہ تمہارے نہیں بلکہ ہوسٹل کے ملازمین /گارڈ کو دینے ہیں جو صفائی کرتے ہیں یا سرو کرتے ہیں۔۔ انہیں دس دس روپے دینے ہیں۔

یہ عادت مجھے انہوں نے ڈالی کہ ان سب کو ٹپ دینی ہے حالانکہ انہوں نے ٹپ کا لفظ نہ سنا تھا نہ پڑھا کیونکہ وہ دو تین جماعت کے بعد سکول نہیں گئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا وہ سب تمہارا کمرہ بستر صاف ستھرا رکھیں گے، تمہارے بھاگ کر کام کر دیا کریں گے۔ کھانا کمرے میں لا دیا کریں گے۔ اماں نے مجھے پیسے کا استمعال سکھایا کہ کیسے اس سے زندگی آسان ہوسکتی ہے۔ پھر وہ ان اضافی پیسوں سے گھر بچوں کے لیے کچھ لے جائیں گے تو خوش ہوں گے۔

اب آتے ہیں ڈومیسٹک ہیلپ کی طرف۔۔ اب مجاہد کو دیکھ لو یہ بہاولپور اپنے ماں باپ بہن بھائی چھوڑ کر ہمارے پاس آٹھ دس سال سے ہے۔ ہم سب کی خدمت کرتا ہے۔ محنت کرتا ہے۔ اس کی تنخواہ لیتا ہے۔ وہ اپنا پورا گھر چلاتا ہے۔ وہ اپنی capacity کے مطابق جتنا کام کرسکتا ہے وہ کرتا ہے۔ میں اس کی عزت کرتا ہوں کہ وہ ہمیں سروس دیتا ہے۔

افضل صاحب ڈرائیور ہیں۔ وہ بھی دس بارہ سال سے ہمارے ساتھ ہیں۔ وہ بھی محنتی اور ایماندار بندے ہیں۔ ہم ان کے مالک نہیں نہ وہ غلام۔ وہ اپنی سروسز دیتے ہیں اور ہم اس کا معاوضہ۔ اگر کبھی کبھار ان سے گاڑی کا نقصان ہو جائے تو بھی میں ایک لفظ نہیں کہت کہ انسان سے غلطی ہوتی ہے۔ مجھ سے بھی ہوسکتی ہے۔

عنایہ ابھی تک شک بھری نظروں سے دیکھ رہتی تھی۔

میں نے کہا آخری بات میں اپنے گھر کے ڈومیسٹک ہیپلرز کے ساتھ وہی رویہ رکھتا ہوں جو میں سوچتا ہوں اگر میں کسی کے ہاں ڈومیسٹک ہیپلر ہوتا تو اپنے مالک سے کیا توقع رکھتا کہ وہ مجھ سے کس طرح پیش آئے۔

میں اس طرح ہی مجاہد، افضل صاحب، مجید صاحب (مالی) اور ثناء اللہ خان سے پیش آتا ہوں۔

اس لیے کبھی ان پر شائوٹ نہیں کیا۔ ان پر کبھی نہیں چلایا نہ ان کی تنخواہیں کاٹیں نہ ہی انسلٹ کی کیونکہ اگر میں کسی گھر ملازم ہوتا تو اپنے مالک سے یہی توقع رکھتا۔

اگر کبھی کوئی بلنڈر ہو بھی گیا تو پیار سے کہہ دیا کہ آئندہ خیال رکھیے گا کیونکہ میں ہر وقت یہی سوچتا رہتا ہوں خدا مجھے بھی تو کسی کے گھر ہیپلر لگا سکتا تھا۔ میں بھی تو چینل پر ملازم ہوں۔ اگر چینل مالک یا میرے چینل باس میرے ساتھ برا سلوک رکھیں جیسے لوگ گھر میں ملازمین کے ساتھ رکھتے ہیں تو مجھے کیسے محسوس ہوگا؟

میں نے ہمیشہ ڈومیسٹک ہیپلرز اور آفس بوائز کو مارجن دیا ہے جو میں اپنے لیے ہر کسی سے زندگی میں چاہتا ہوں۔ یہ محنت مزدوری کرنے والے لوگ زندگی میں بہت کچھ وہ نہیں پا سکے جو میرے پاس ہے اس کی جو بھی وجوہات ہوں کہ وہ کیسے پیچھے رہ گئے۔ بس یہی سوچ کر نہ ان پر کبھی غصہ کیا نہ شائوٹ نہ ہی کبھی انسلٹ۔۔ ہاں کبھی ایشو ہوا تو انہیں سمجھا دیا۔

ان کی عزت نفس کا ہمیشہ خیال رکھا کیونکہ مجھے بھی اپنی عزت نفس بہت عزیز ہے۔۔ ان کے ساتھ وہی سلوک رکھا جو میں اپنے لیے دوسروں سے توقع رکھتا ہوں۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.