کراچی اور کوئٹہ میں دو خواتین کے ساتھ ہونے والے افسوسناک ظلم سے یاد آیا کہ پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ کے قریب بتائی جاتی ہے جس میں بارہ کروڑ سے زائد خواتین ہیں۔ تاہم دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کے کچھ واقعات کو بیناد بنا کر ایک ایسا سماں بنا دیا جاتا ہے جیسے پاکستان کے ہر گھر میں خواتین کے ساتھ یہی سلوک ہورہا ہے اور ان کے مرد کررہے ہیں۔
یہ ذہن میں رکھیں تشدد اور جرم انسانی جبلتوں میں سے ہیں۔ انسان صدیوں سے یہی کچھ کرتا آیا ہے۔ آج بھی مڈل ایسٹ میں جنگ لڑی جارہی ہے۔ انسان مارے جارہے ہیں۔
معاشروں میں قانون اور سزائوں کے باوجود یہ جرائم ہورہے ہیں۔ اگرچہ ماضی کی نسبت بہت کم ہوئے ہیں۔ قانون کی حکمرانی اور سزا کے خوف اور تعلیم نے بڑی حد تک جرائم میں کمی کی ہے۔
سب کو پتہ ہے پاکستان میں قتل کی سزا موت ہے لیکن قتل پھر بھی ہورہے ہیں۔
کرہ ارض پر پہلا قتل ہونے کی وجوہات بھی ہم جانتے ہیں۔ اس وقت کوئی موبائل فون، سوشل میڈیا، فلمیں، ٹک ٹاک یا دیگر لوازمات نہیں تھے۔ دو بھائی تھے جو لڑ پڑے تھے۔
جرائم ہر قسم کے ہوتے ہیں اور سب جینڈر کے ساتھ ہوتے ہیں اور دنیا کے تقریباََ ہر ملک میں ہوتے ہیں۔ خواتین اور مرد سب کرتے ہیں اگرچہ عورتوں میں جرائم کرنے کی ratio بہت کم ہوتی ہے۔ انفرادی طور پر تو لاطینی امریکہ کے ایک ملک میں ڈرگ مافیا کی ڈان ایک خاتون ہے جس نے خاوند کے قتل کے بعد اس کا کاروبار سنبھالا ہے۔
ریپ کے واقعات ہوں تو نیو دہلی کا نام لیا جاتا ہے، اسٹریٹ کرائمز میں کبھی نیویارک ٹاپ پر تھا تو اب لندن کے بارے یہی کہا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں پاکستان میں بھی سب جرائم ہوتے ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے سندھ کی ایک خاتون کے قتل پر سب افسردہ ہیں جو باپ کی پگڑی کے نام گھر واپس گئی اور ماری گئی۔ سندھ کے ایک علاقے میں ہی 22 سالہ روبینہ کو دو بجے رات بھائیوں نے مار ڈالا۔ پنڈی میں پچھلے سال انیس سالہ سدرہ کو رات کے اندھیرے میں ہی جرگہ کرکے مارا گیا۔
ہم سب مذمت کرتے ہیں اور مسلسل کرتے رہناچاہیے تاکہ کوئی potential criminal اس ردعمل کو پڑھ کر اپنے ادارواں سے باز رہے اور عورت تشدد کا شکار نہ ہو۔
مان لیا مرد بہت ظلم کرتے ہوں گے لیکن کیا سب بارہ تیرہ کروڑ پاکستانی مرد کرتے ہیں؟ لیکن سماں ایسا باندھ دیا جاتا ہے جیسے خدانخواستہ ہر گھر میں عورت کو ازدواجی تعلقات نہ قائم کرنے پر قتل کیا جارہا ہے یا اس پر تیزاب پھینکا جارہا ہے یا ہر گھر میں لڑکی کے خلاف جرگہ ہورہا ہے۔
ہماری آج کی عورت زیادہ پڑھی لکھی، باشعور، خودمختار اور اتھارٹی رکھتی ہے۔ گھر کے سب اہم فیصلے وہ کرتی ہے۔ عورت اب ہر محکمے میں بیٹھی مردوں کے بھی فیصلے کرتی ہے۔ مردوں کے فیصلے اس کی عدالت میں ہوتے ہیں۔ وہ اسٹنٹ کمشنر سے لے کر ڈپٹی کمشنر، سپریم کورٹ جج اور ملک کی وزیراعظم تک بھی ہے۔
دوردراز علاقوں میں ایسے شرمناک واقعات کے باوجود وہ اب کمزور نہیں رہی۔ یقینی طور پر پاکستان کے علاقوں میں عورت ابھی بھی برے سلوک کا سامنا کرتی ہے لیکن بہت سارے علاقوں میں وہ خود مختار اور قابل بھی ہے۔ وہ کہیں ماتحت ہے تو کہیں وہ باس بھی ہے۔
ذہنی مرض کے شکار مردوں کے اکا دکا افسوسناک واقعات کے بعد جو سب مردوں کے خلاف محاذ کھول دیا جاتا ہے، تو ذہن میں رکھیں عورتوں کی آبادی بارہ کروڑ ہے۔ چند افسوسناک کیسز یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ سب مرد برے ہیں اور سب اپنی عورتوں کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں اور ہر گھر میں رات گئے مردوں کا ایک جرگہ بیٹھا فیصلے کررہا ہے۔