Tuesday, 07 July 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Hero Ya Villain?

Hero Ya Villain?

میرے دوست انجم کاظمی کا کہنا ہے بہتر ہوتا گروپ کیپٹن عاصم اس لڑکے کو لڑکی کے ساتھ زبردستی کرتے دیکھ کر خود روکنے کی بجائے پولیس کو کال کرتے۔

اگرچہ دنیا کے مہذب معاشروں میں یہی کچھ ہوتا ہے اور وہاں پولیس چند منٹس میں رسپانڈ کرتی ہے اور وہاں عام لوگوں کا اعتبار اپنے اداروں پر بہت زیادہ ہے۔

دراصل یہ ایک لمحہ ہوتا ہے جب ایسے واقعات ہوتے دیکھ کر آپ بے ساختہ رک کر مداخلت کرتے ہیں یا نظر انداز کرکے گزر جاتے ہیں اور تھوڑی دیر کے بعد بھول جاتے ہیں۔

آپ کو کوئی انسان کمزور یا مظلوم لگتا ہے اور انسانوں کے اندر فطری جذبہ ہوتا ہے کہ وہ مظلوم یا کمزور کے لیے جذبات محسوس کرتے ہیں اور اس کی مدد کی کوشش کرتے ہیں۔

یہی کچھ گروپ کیپٹن عاصم نے بے ساختہ کیا جب ایک لڑکی کو سرعام مشکل میں پایا۔

ابھی چند دن پہلے اٹلی میں ایک پاکستانی نوید اسلم نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دو بچوں کو ایک حملہ آور سے بچایا جس پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ پارک میں اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھا جب ایک جرائم پیشہ نے بچوں پر حملہ کیا اور جان سے مارنے کی کوشش کی۔

نوید نے بھی اس ایک لمحے میں فیصلہ کیا اور اپنے بچوں کو چھوڑ کر دوسروں کے بچوں کو بچانے کے لیے دوڑا۔ اس کی کچھ عرصہ پہلی اپنی ہارٹ سرجری ہوئی تھی۔ لیکن کسی دوسرے کے بچوں کو خطرے میں دیکھ کر وہ رک نہ سکا۔

گروپ کیپٹن عاصم نے بھی یہی محسوس کیا اور مدد کی کوشش کی۔ یقیناََ وہ یہ نہیں سوچ سکتے ہوں گے کہ ایک تربیت یافتہ گروپ کیپٹن کے سامنے ایک بیس سالہ موٹر سائیکل سوار مسلح ہوگا اور فائر مارنے کی ہمت بھی رکھتا ہوگا۔ ان کا خیال ہوگا ان کے روکنے یا ڈانٹ ڈپٹ سے لڑکی بچ جائے گی اور انہوں نے وہی کیا۔

جہاں تک پولیس کو کال کی بات ہے تو پچھلے ماہ ایف سکس سیکٹر میں رات بارہ بجے سوات سے گاڑی پر آئے تین نوجوانوں نے ایک گھر سے ایک نوجوان گن پوائنٹ پر اٹھایا، فائرنگ بھی کی۔ فوری طور پر ساتھ والے گھر کی خاتون نے ون فائیو کو کال کی۔

وہ تینوں اس نوجوان کو ایف سکس سے اغوا کرکے پورا شہر عبور کرکے موٹر وے سے مردان کی طرف نکل گئے اور راستے میں مار کر لاش پھینک دی۔ اب ایف سکس سے موٹر وے تک پندرہ بیس منٹ لگتے ہیں، پولیس ہرگز حرکت میں نہیں آئی۔ یہاں سیف سٹی کے کیمرے لاکھوں ڈالرز سے لگے ہوئے ہیں۔ اگلے دن مغوی کے باپ نے آئی جی اسلام آباد کو سفارش کرائی تو پولیس نے تفتیش شروع کی اور خیبرپختونخواہ سے لاش واپس لے آئی۔

چند دن پہلے ایف سکس میں ہی دو تین مسلح نوجوان گن پوائنٹ پر چھ وارداتوں میں چھ فون اور نقدی چھین کر بائیک پر ہی اسلام آباد سے نکل گئے۔ ان کی اطلاع بھی ون فائیو پولیس کو دی گئی۔ ان کی آخری لوکیشن مینگورہ/سوات کی تھی۔

باقی یہ کہنا کہ اس وقت گروپ کیپٹن یہ کرتے وہ کرتے تو اس کے لیے انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ کوئی بھی واقعہ ہو جانے کے بعد ہم سب سیانے ہو جاتے ہیں کہ وہ یہ کرتا یا وہ نہ کرتا۔

جس نے اچھا یا برا کرنا ہوتا ہے اس کے اندر کا انسان نتائج سے بے خبر اس لمحے کر گزرتا ہے، گروپ کیپٹن عاصم نے بھی وہی کیا جو اس کے اندر کی آواز نے کرنے کو کہا۔ اس قاتل لڑکے نے بھی ایک لمحے میں فیصلہ کیا۔

فیصلہ ایک لمحہ ہی کرتا ہے کہ رکنا ہے یا نظر ڈال کر گزر جانا ہے یا اٹلی میں نوید کی طرح دوڑ کر بچوں کی جان بچانی ہے، گروپ کیپٹن عاصم کی طرح مداخلت کرکے لڑکی کو بچانا ہے یا منہ دوسری طرف کر لینا ہے اور چند لمحوں کے بعد بھول جانا ہے کہ ابھی کیا دیکھا تھا جیسے ہم میں سے اکثر کرتے ہیں۔

یہ تو اپنا اپنا فیصلہ اور اپنا حساس دل یا ضمیر ہوتا ہے اور ہم سب اس کے مطابق اس لمحے میں فیصلہ کرتے ہیں یا ہمارے اندر کی روح وہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

وہ ایک لمحہ ہی ہیرو اور ولن پیدا کرتا ہے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.