Tuesday, 16 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Logon Ki Pehchan Kese Ho?

Logon Ki Pehchan Kese Ho?

میرا ماننا ہے کسی بندے کو جانچنا ہو تو اسے اس کے چھوٹے چھوٹے بے ساختہ gesture سے جانچیں نہ کہ اس کے بڑے بڑے کاموں سے۔میری رائے میں ہم جو چھوٹی حرکتیں یا کام کرتے ہیں وہ بے ساختہ ہوتے ہیں۔ ہماری ان میں اداکاری شامل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ہم باقاعدہ کوئی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ بس اس موقع پر سب کچھ اچانک اچھا یا برا ہوتا ہے۔

دوسری طرف کوئی بھی بڑا کام ہم سوچ سمجھ کر دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے کرتے ہیں جس میں باقاعدہ ہمیں علم ہوتا ہے کہ میری اس بات یا کام کا متوقع اثر زیادہ ہوگا۔ اس لیے بڑے کاموں سے جج کرنا زرا مشکل ہوتا ہے۔

مثلا میں نے لیہ کے سابق ایم این اے ملک حیدر تھند مرحوم کے بارے لکھا کہ انہوں نے ہمارے گائوں میں سیمنٹ کرکٹ پچ کے لیے وسط 1980 دہائی ایک ہزار روپیہ دیا تھا حالانکہ ہم لڑکے ان کے حلقے کے نہیں تھے نہ ہی ووٹر تھے۔

ہمارے صحافی دوست سبوخ سید نے بھی ملتا جلتا ایک واقعہ لکھا ہے۔ سبوخ لکھتا ہے

سن 2002 کی بات ہے۔ ہمارا داخلہ پشاور یونیورسٹی کے شیخ زید اسلامک سنٹر میں ہوا تھا۔ ہم بی اے آنرز کے طالب علم تھے۔ انہی دنوں اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے شاہی باغ پشاور میں کتاب میلے کا انعقاد کیا گیا۔ ہم پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن میں تھے۔ جمیعت نے دعوت دی اور ہم دوستوں کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔

کتاب میلے کے ایک سیشن میں احسن اقبال صاحب تشریف لائے۔ ان کی گفتگو کے بعد ہم چند دوست باہر کھڑے تھے۔ سامنے پکوڑوں اور سموسوں کے اسٹال لگے ہوئے تھے۔ دوستوں نے شرارتاً کہا کہ اگر تم احسن اقبال صاحب سے سب کو پکوڑے کھلوا دو تو ہم مان جائیں گے۔

پروگرام ختم ہوا اور احسن اقبال صاحب باہر کی طرف آنے لگے۔ میں نے ہمت کرکے ان کے سامنے کھڑے ہو کر کہا:

"احسن اقبال صاحب! آپ ہمیں یہاں سے پکوڑے کھلائے بغیر نہیں جا سکتے"۔

مجھے آج بھی یاد ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے جیب سے پانچ سو روپے نکالے۔ اُس زمانے میں پانچ سو روپے میں اچھی خاصی ضیافت ہو جاتی تھی۔ انہوں نے سب دوستوں کو پکوڑے، سموسے اور دوسری چیزیں کھلائیں۔ چند لمحے ہمارے ساتھ گزارے اور پھر روانہ ہو گئے۔

اب اس سے اندازہ لگائیں کہ مجھے حیدر تھند مرحوم کا چالیس سال پہلے کا ایک ہزار روپیہ آج تک یاد ہے تو سبوخ سید کو احسن اقبال کا پانچ سو روپیہ چوبیس سال کے بعد بھی نہیں بھولا۔

دیکھا جائے تو بہت سارے لوگ حیران ہوں گے کہ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ کسی نے کرکٹ پچ کے لیے ایک ہزار دے دیا یا کسی نے پانچ سو روپے کے سموسے کھلا دیے اور جناب آج تک نہیں بھولے۔

نہیں جناب یہ چھوٹے چھوٹے gesture اہمیت رکھتے ہیں کہ کسی نے آپ کو انکار نہیں کیا تھا۔ آپ کو مایوس نہیں کیا تھا۔

اس لیے پانچ سو روپے ہو یا ایک ہزار۔۔ وہ آج تک ہماری یادوں میں ہیں اور ہم دونوں شکر گزار بھی ہیں کہ ان رویوں میں ہمارے لیے اس انسان کی care تھی ورنہ تو وہ دونوں چٹا انکار کرکے جا بھی سکتے تھے کہ جا یار معاف کر میرا کام کرکٹ پچ بنوانا یا سب کو سموسے کھلانا نہیں ہے۔

چھوٹی چھوٹی باتیں زیادہ اثر رکھتی ہیں۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.