لاہور میں جو کچھ غیرملکی خواتین کے ساتھ رپورٹ ہوا ہے اس کے اثرات بڑی دیر تک رہیں گے۔ اس ایشو میں قصور وار جو بھی ہو لیکن لاہور کی ڈار فیملی کو ہی ذمہ دار سمجھا جائے گا کیونکہ وہ اس وقت حکمران ہیں۔
پاکستان کی بڑے عرصے کے بعد جو عالمی سطح پر کچھ عرصے سے عزت بنی ہوئی ہے اس پر بھی ڈینٹ پڑے گا۔ اگر عام پاکستانی بھی اس سارے معاملے میں ملوث ہوتے تو بھی برا اثر پڑنا تھا لیکن یہاں تو نائب وزیراعظم کی فیملی/رشتہ داروں کا نام لیا جارہا ہے جو زیادہ سنگین ہے۔
آپ لاکھ توجیحات/جواز دیتے رہے ہیں یا اسے دو پارٹیوں کا کرپٹو/کاروباری معاملہ قرار دیتے رہیں، بات نہیں بنے گی۔ اب یہ اس طرح کی صورت حال بن چکی ہے جو کار اور موٹر سائیکل کی ٹکر میں ہوتی ہے۔ لاکھ موٹر سائیکل والے کا قصور ہو لیکن سب لوگ ذمہ دار کار والے کو ہی سمجھتے ہیں۔ ان سب کی ہمدردیاں موٹر سائیکل والے کے ساتھ ہوتی ہیں چاہے وہ قصور وار ہو اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ تک موجود ہو۔
ہمارے جیسے ملکوں میں سیاستدان یا حکمران اپنے بچوں یا فیملی کو کبھی sensitize نہیں کرتے کہ ان کی معمولی سی حرکت نہ صرف ان کے سیاسی کیرئر کو ہرٹ کرے گی بلکہ پورا ملک اس کے نتائج بھگتے گا۔
ہمارے ہاں حاکموں کے بچوں کو شروع سے ہی طاقت کا احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں سے افضل اور مختلف ہیں۔ وہ حکمرانی کرنے پیدا ہوئے ہیں لہذا وہ جو چاہیں کر گزریں ان کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکتا۔ حکمرانی ان کے لیے موقع ہوتی ہے۔ ذمہ داری نہیں۔
یہ وہ سوچ ہے جو آخرکار انہیں ہی ہرٹ کرتی ہے۔ سیاسی لائف ہو یا پبلک لائف یہ بہت بڑا امتحان ہوتی ہیں۔ پبلک اور سیاسی لائف اچھی بھی لگتی ہے کہ آپ کا رعب دبدبہ چلتا ہے، ہٹو بچو، پروٹوکول اور دیگر ان گنت فوائد اٹھاتے ہیں لیکن یہ دو دھاری تلوار کی طرح ہوتی ہے جو کبھی کسی بھی سائیڈ پر آپ کو کاٹ سکتی ہے۔
اس واقعہ کے نتائج جہاں ڈار فیملی کے لیے برے نکلے ہیں وہاں پاکستان اور پاکستانیوں کو بھی اس کے نتائج کا سامنا کرنے پڑے گا۔
دنیا کے کسی بھی حصے میں حکمران /سیاستدانوں کے لیے اپنے بچوں کو قابو میں رکھنا بہت بڑی ذمہ داری ہوتی بلکہ امتحان بھی ہوتا ہے۔ سابق صدر جو بائیڈن کو بھی امریکہ میں اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے سکینڈلز لے ڈوبے۔ ایسی فہرست خاصی لمبی ہے۔
بھارتی صحافی کلدیپ نئیر نے اپنی خوبصورت خودنوشت Beyond the lines میں لکھا ہے کہ جب 1990 /1989 میں وہ بھارت کے ہائی کمشنر بن کر برطانیہ گئے تو وہاں اس وقت کی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر سے ملاقات ہوئی۔ انہیں ملاقات میں لگا وہ کچھ چپ چپ اور افسردہ سی ہیں۔
کلدیپ صاحب نے ان سے پوچھ لیا تو مارگریٹ تھیچر نے جواب دیا دراصل میں اپنے گرینڈ چلڈرن کو بہت مس کررہی ہوں۔
مارگریٹ تھیچر بولیں ان کا بیٹا بچوں سمیت امریکہ میں ہے۔ انہوں نے بیٹے کو لندن بزنس نہیں کرنے دیا۔ وہ وزیراعظم بنیں تو اسے امریکہ بھیج دیا کیونکہ انہیں خطرہ تھا اگر وہ برطانیہ میں رہا تو ہوسکتا ہے وہ کاروبار میں کچھ ایسا کرے جس سے برطانوی میڈیا اور اپوزیشن میرا جینا حرام کر دے اور مجھے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ بچوں کی دوری برداشت ہے لیکن یہ برداشت نہیں ہے کہ میرے بچے کسی سکینڈل میں پھنس جائیں۔
اقتدار، حکمرانی ایک بڑا امتحان ہے۔ یہ آپ سے قربانی مانگتا ہے اور ان کا خاندان اس میں بری طرح ناکام رہے ہیں کہ ان کی یہ حرکت کتنا بڑا بحران پیدا کرسکتی ہے۔
کرپٹو کے پندرہ لاکھ ڈالرز یا پاکستان کی بچی کچھی ساکھ/ عزت میں سے ایک بچ سکتی تھی اور نواسے نے ڈالروں کا انتخاب کیا۔