ہم انسانوں کی ڈپریشن کی وجہ اوورتھنکگ ہوتی ہے۔ جدید سائنسی ریسرچ کہتی ہے جو آپ اوورتھنکنگ کرتے رہتے ہیں کہ ایسا ہوا تو ویسا ہوجائے گا، یوں نہ ہوا تو آسمان گر پڑے گا اور اپنے ذہن میں بستر پر لیٹے مختلف خوفناک مناظر خود ہی سوچتے رہتے ہیں، تو 90 فیصد کیسز میں ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ لیکن وہ لحمے آپ کو اذیت میں ڈال جاتے ہیں۔ ابھی اس اذیت سے سنبھل رہے ہوتے ہیں کہ نئی تھنکنگ میں ڈال کر نیا عذاب تیار ہوتا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے اندرا گاندھی صاحبہ پر لکھی گئی بائیوگرافی پڑھی۔ اندراکا باپ نہرو صاحب، اس کی والدہ، مہاتما گاندھی تک اس کی فیروز گاندھی سے شادی کے خلاف تھے۔ اس کی ماں نے تو مرنے سے پہلے نہرو کو کہا تھا اس کی شادی فیروز سے نہ ہونے دینا۔
اس کی پھوپھی کرشنا نے تو سیدھا اندرا کو کہہ دیا تھا شادی کی کیا ضرورت ہے، بس افئیر چلائے رکھو اور کوئی اچھا لڑکا تلاش کرتی رہو۔ اس پر اندرا اور فیروز گاندھی نے سخت ردعمل دیا تھا کہ انہوں نے یہ کہہ کر ان کے پیار کی بے عزتی کی تھی۔ اندرا کی انٹی کا کہنا تھا وہ ابھی کچھ انتظار کرے۔ اسے مزید کسی اچھے لڑکے کو دیکھنا چاہئے اور کوئی ایسا لڑکا ڈھونڈے جو ان کے اپنے بیک گراونڈ سے ہو۔
کرشنا نے خود ایک جین خاندان میں شادی کی تھی جو کشمیری برہمن خاندان نہیں تھا۔ جب انٹی نے مخالفت کی تو اندرا نے جواب دیا آپ کو تو راجہ بھیا سے شادی کا فیصلہ کرتے وقت دس دن بھی نہیں لگے تھے جبکہ میں فیروز کو برسوں سے جانتی ہوں۔ تو میں کیوں پھر انتظار کروں کہ اسے شاید کوئی اچھا لڑکا مل جائے گا؟
شروع میں گاندھی جی بھی شادی کے خلاف تھے لیکن اندرا نے انہیں راضی کر لیا تھا۔ نہرو نے گاندھی کو کہا تھا اسے سمجھائیں۔ اندرا نے گاندھی کو بھی انکار کر دیا۔
جب فیصلہ ہوگیا تو گاندھی نے اندرا سے کہا اس شادی کی بہت مخالفت ہوگی۔ یہ نیشنل خبر بنے گی۔ اس لیے اب یہ شادی دھوم سے ہونی چاہیے۔ اگر سادگی سے ہوئی تو سب کہیں گے گھر والے راضی نہیں تھے۔
اس سے پہلے اندرا دو سال سے لندن میں تھی جہاں اس کا فیروز گاندھی سے افئیر عروج پر تھا۔ وہ واپس آئی تو اس کا باپ جیل میں تھا۔ وہ کمزور تھی اور علاج کے بعد واپس آئی تھی۔ وہ باپ سے ملنے جیل گئی اور صاف صاف کہا وہ فیروز گاندھی سے شادی کرنا چاہتی تھی اور فوراََ کرنا چاہتی تھی۔
نہرو نے جیل کی اس ملاقات میں جو جیلر کی موجودگی میں ہوئی تھی آخری کوشش کی لیکن اندرا نے سیدھا انکار کیا۔ نہرو نے بیٹی کو کہا شادی بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔ تمہاری صحت ابھی ٹھیک نہیں ہے، کم از کم چند ماہ لیٹ کر لو۔ نہرو نے کہا مجھے تمہاری احمقانہ قسم کی جلدی کی مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تم ابھی یورپ سے لوٹی ہو اور اچانک شادی کرنا چاہتی ہو۔
نہرو نے اسے چند نام دیے کہ ان سب سے مشورہ کر لو۔ نہرو کو یقین تھا سب اس کی بات کی حمایت کریں گے کہ شادی مت کرو۔
اندرا نہ مانی۔ نہرو نے دس دن بعد جیل میں اپنی ڈائری میں لکھا میں دس راتوں سے سو نہیں سکا کہ میری بیٹی کیا کرنے لگی تھی۔
میں ان دس سالوں میں اپنی بیٹی سے اتنا دور ہوگیا ہوں کہ ہم جب باپ بیٹی ملتے ہیں تو لگتا ہے دو اجنبی لوگوں کی ملاقات ہورہی ہے۔
اور پھر جس فیروز گاندھی کی وجہ سے نہرو دس راتیں جیل میں نہ سوسکا اس سے ہی اندرا کے دو بچے ہوئے، وہ خود اپنے باپ کی جگہ تین دفعہ وزیراعظم بنی اور بیٹا راجیو گاندھی بھی وزیراعظم بنا۔
یہ نتیجہ نکلا تھا اس شادی کا جس کی گاندھی، نہرو، کرشنا سے لے کر پورے خاندان نے سر توڑ مخالفت کی تھی۔ نہرو جس شادی کے لیے دس راتیں اوورتھنکنگ کا شکار ہو کر نہ سو سکا تھا کہ اس کی کمزور صحت والی بیمار بیٹی کیا بلنڈر مارنے لگی تھی، وہ بیٹی تین دفعہ وزیراعظم بنی بلکہ بیٹا بھی وزیراعظم بنا۔
ویسے اندرا گاندھی کا اسٹار سکارپین تھا۔ اس نے سب کی سخت مخالفت کے باوجود وہی کچھ کیا جو اس کے دل میں تھا۔
اس کہانی کا اخلاقی سبق یہ نکلتا ہے جن خدشات، خوف اور اوورتھنکنگ کی وجہ سے نہرو دس راتیں جیل میں نہ سو سکا تھا اس کا نتیجہ ہندوستان کے لیے دو وزیراعظم کی شکل میں نکلا تھا۔ اس لیے اوورتھنکنگ کم کیا کریں، کچھ کام قدرت پر بھی چھوڑ دیا کریں جسے بہتر پتہ ہے انسان کی بھلائی کس میں ہے۔