Sunday, 26 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Nathu Khairon Ke Tabsare

Nathu Khairon Ke Tabsare

ابھی ایک پیارے دوست کا ٹوئٹر پر کمنٹ پڑھا کہ ایرانی وزیر خارجہ کے پاکستان مسقط یا ماسکو دورے پر جو لوگ خبریں دے رہے ہیں یا تبصرے کررہے ہیں یہ سب گھڑی گھڑائی کہانیاں ہیں۔ سب جھوٹ کا پلندہ ہے۔ یہ سب محض خود کو relevant رکھنے کے لیے بونگیاں مار رہے ہیں ورنہ یہ ایشو بہت حساس ہیں۔ بہت اہم ہیں اور ان کو سمجھنے کے لیے بڑی زیرک آنکھ اور ذہانت درکار ہے لہذا ہر کوئی عالمی دانشور نہ بنے۔ وہی بات کہ لے سانس بھی آہستہ۔

اس پر میں نے جواب دیا مان لیا یہ سب ایران امریکہ مزاکرات پر تبصرے کرنے والے سب نالائق ہیں، ان پڑھ ہیں، حالات و واقعات کی نزاکت کی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے اور انہیں اس حساس ایشو پر بات نہیں کرنی چائیے۔

لیکن کیا کریں یہ ایشو اس دنیا کے تقریباََ ہر انسان پر اثر ڈال رہا ہے۔ جب کوئی ایشو کسی کو بھی directly یا indirectly ہرٹ کرے گا تو پھر اس کے بارے میں بات کرنا ہر کسی کا حق ہے چاہے اس کا کسی سے زیادہ علم ہے یا کم علم ہے کیونکہ یہ اس کی بھی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

جہاں تک بات ہے کہ بڑے بڑے عالمی امور کے ماہرین جو سب یہ سفارتی جغرافیائی تہذیبی تاریخی علاقائی وغیرہ وغیرہ نزاکتیں سمجھتے ہیں اور صرف انہیں سنا اور پڑھا جائے تو یہ سب عالمی سیانے اب تک ایران امریکہ اسرائیل یا مڈل ایسٹ کی 47 سال سے جاری اس جنگ کو کسی اچھے نوٹ پر ختم کیوں نہیں کراسکے؟

کوئی ایسا حل کیوں نہیں دے سکے جس سے آٹھ ارب انسان سکھ کا سانس لے سکیں جو ان چند ملکوں کی وجہ سے مشکل میں ہیں؟ ان سب عالمی سیانوں کی ذہانت اور سمجھداری کا فائدہ ایران امریکہ اسرائیل یا گلف ریاستیں کیوں نہیں اٹھا رہیں؟

چلیں ان عالمی امور کے ماہرین کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ ایران امریکہ اسرائیلی یا گلف ریاستوں کے سربراہان جو ملک چلا رہے ہیں وہ اتنی سمجھ داری کیوں نہیں کرسکے کہ انہیں ہر "ایرے غیرے نتھو خیرے" کی بات، مشورے یا تبصرے نہ سننے پڑتے؟ وہ اپنے ایشوز خود کیوں نہیں سلجھا پائے؟

لہذا ہر مسئلہ وہ قومی ہو یا عالمی اس پر ہر انسان کو رائے یا بات کرنے کا حق ہے چاہے وہ "بونگی" ہی کیوں نہ مار رہا ہو۔ یہ چیزوں اور معاملات کو اپنے اپنے انداز میں دیکھنے کا انداز ہے جس سے نہ ایران کو فرق پڑے گا نہ امریکہ نہ گلف ریاستوں کو کہ وہ لڑتے رہیں گے کیونکہ انہیں لڑائی زیادہ فائدہ مند لگتی ہے۔

ذہن میں رکھیں ہم انسان یا ملک وہی کام کرتے جاتے ہیں جو ہمیں فائدہ مند لگتے ہیں چاہے کسی کو وہی کام برے لگیں یا نقصان دیں۔ لہذا امریکہ ایران اسرائیل وہی کررہے ہیں جو انہیں اپنا قومی یا عالمی مفاد لگتا ہے چاہے پوری دنیا ان کے پائوں پڑی ہوئی ہے کہ جانے دیں صلح کر لیں۔ وہ تینوں نہیں مانتے کہ انہیں اس جنگ لڑائی میں ہی اپنا فائدہ لگتا ہے۔ ورنہ اگر نقصان لگتا تو وہ کبھی نہ لڑتے۔

یہ ہماری مرضی یا سوچ ہے کہ کسی کا تبصرہ یا کمنٹ ہمیں کتنا مستند یا اچھا یا بہتر لگتا ہے۔

ایران امریکہ گلف ریاستوں کے ایشوز ان ملکوں کے بڑے بڑے دانشوروں یا فوجی یا سفارتی ماہرین سے حل ہوسکے ہیں نہ ان سے ہونے ہیں جن کے پاس انفارمیشن یا مستند خبر نہیں ہوتی اور ٹی وی چینلز/سوشل میڈیا یا اخبارات یا وی لاگ میں "بونگیاں" مار رہے ہیں۔

دونوں اس وقت برابر کی اسٹیج پر ہیں کہ مسئلہ حل نہیں ہو پا رہا چاہے کسی کے پاس فیصلے کا اختیار ہے یا پکی انفارمیشن ہے یا کسی کے پاس محض گپیں ہیں۔

بات ایک ہی سر جی۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.