Wednesday, 29 April 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Hamla Aur Ibham

Hamla Aur Ibham

تجزیہ کاروں کے پاس کوئی غائب کا علم نہیں ہوتا بلکہ وہ حالات و واقعات کی روشنی میں پشین گوئی کرتے ہیں کہ مستقبل میں حالات کِس طرف رُخ کریں گے۔ یہ درست ہے کہ دنیا معلومات کے حوالے سے گلوبل ویلج بن چکی ہے مگر اِس سطح تک آنے میں انسان نے بہت کچھ کھو دیا ہے۔ اُس کا کچھ راز نہیں رہا ہر لمحہ اور گفتگو ریکارڈ رکھنے کا سامان ہے۔ شہریوں کی آزادی سلب ہو چکی ہے۔ دوم غلط معلومات سے انسانی ذہن کو بہکانا نہایت آسان ہوگیا ہے یہ وہ نقصان ہے جس کا نعم البدل کوئی ایجاد نہیں۔ تیز ترین ترقی کے باوجود آج صورتحال یہ ہے کہ زرائع ابلاغ تک دباؤ کا شکار ہیں اور وہی کچھ دکھانے کی پالیسی پر کاربند ہیں جو عالمی طاقتوں کو پسند ہو۔ اعلیٰ مناصب پر فائز شخصیات ہوں یا عام آدمی، جس کے پاس موبائل ہے اُس کی پرائیویسی نہیں رہی لہذا کسی کو مکمل طور پر آزاد قرار دینا مشکل ہے ایسے حالات میں ہفتے کو صدر ٹرمپ پر ہونے والے حملہ بارے قوی شبہات ہیں کہ تصویر وہ نہیں جو بظاہر پیش کی جارہی ہے۔ یہ واقعہ منصوبہ بندی اور سہولت کاری کا شاخسانہ لگتا ہے۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ کے صدر ہونے کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر پل بدلتا اُن کا موقف دنیا کو حیران کرتا ہے وہ دورانِ انتخابات بھی حملے کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے مگر محفوظ رہے جس سے اُن کی انتخابی مُہم کو نئی تقویت ملی اور وہ مدمقابل کو باآسانی پچھاڑنے میں کامیاب ہوئے۔ اب جبکہ مڈٹرم انتخابات قریب ہیں اور زرائع ابلاغ کا رائے عامہ بارے اندازے ریپبلکن کے حق میں نہیں کانگرس میں بھی ایران جنگ کی وجہ سے امریکی صدر کو اِس حد تک مشکل صورتحال کا سامنا ہے کہ ریپلکن بھی متنفر ہیں۔ عوامی مقبولیت تو بڑی حدتک کھو چکے ہیں اب اُن پر حملہ ہوجانا اور تمام اعلیٰ حکام کا محفوظ رہنا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ویسے بھی اقتدار کے لیے سیاستدان کسی حربے سے گریز نہیں کرتے لہذا سوالات کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مڈٹرم انتخابات میں عوامی ہمدردیاں اور کانگرس میں ریپبلکن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا ہو۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ لگتا ہے ہدف میں تھا انھوں نے حملہ آور کو ذہنی بیمار کہنا بھی ضروری سمجھا مگر فائرنگ کے وقت ٹرمپ کا پُرسکون رہنا شکوک کو جنم دیتا ہے کیونکہ ایسے واقعات میں بدحواسی اور افراتفری کا جنم لینا فطری بات ہے۔ علاوہ ازیں نہ صرف واقعہ کی ٹائمنگ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے بلکہ حملہ آور کا ہال تک پہنچ جانابھی حیران کُن ہے آیا یہ حفاظتی اقدامات میں نقائص کا نتیجہ ہے یا فالس فلیگ آپریشن کا مرہونِ منت ہے جو بھی ہے حملے کے بے شمار پہلو مُبہم اور وضاحت طلب ہیں جنھیں وضاحت سے دورکرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کا عشایئے کی تقریب سے عین قبل کہنا کہ آج رات ہال میں گولیاں چلیں گی بہت معنی خیز ہے جس کے بارے کچھ حلقوں کا موقف ہے کہ اُن کا اصل اِشارہ صدر ٹرمپ کی کاٹ دار اور تیکھی تقریر کے متعلق تھا لیکن سچ یہ ہے کہ تقریب کے دوران ہونے والے حملے نے اُن کے اِن الفاظ کو ایک اور ہی خوفناک رنگ دیدیا ہے۔ ایسا دانستہ کیا گیا یا غیر دانستگی میں اُن کے منہ سے ایسے الفاظ نکل گئے؟ جو بھی ہے اِس کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حملے کے حوالے سے لوگوں کے ذہن مزید پراگندہ نہ ہوں۔

فائرنگ کے ملزم کا ماضی جرائم سے پاک ہے وہ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے بلکہ بہترین اُستاد کا اعزاز بھی حاصل کر چکا ہے۔ ایک اُستاد جو طالب علموں کی کردار سازی کرتا رہا ہو تہذیب و تمیز کا درس دیتا رہا ہو اُس کا خود اسلحہ لیکر جُرم کے راستے پر چل نکلنا سمجھ سے باہر ہے لیکن یہاں ایسا ہی ہوا کہ ایک اُستاد وہ بھی اپنے پیشے میں اعزاز لینے والا حملے کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ یہ پہلو بھی کھٹکتا ہے کہ جب سب کو علم تھا کہ عشایئے میں صدر ٹرمپ آئیں گے تو مدعوئین سمیت تمام شرکا کی تلاشی لینے میں کوتاہی کا کوئی جواز نہیں تھا لیکن ملزم کا ہتھیار سمیت ہال میں آدھمکنا ظاہر کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ایسا کچھ غیر معمولی ہے جسے چھپایا جارہا ہے اور صدر کی شبہیہ بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ماضی کی طرح حملہ آور غیر ملکی نہیں بلکہ امریکی ہے جس کے خیالات تو ابھی سامنے نہیں آئے البتہ قیاس آرائیاں ہیں کہ اُسے حکومتی پالیسیاں پسند نہیں لیکن ایسی تو اکثر امریکیوں کی سوچ ہے ایران جنگ سے جنم لینے والی مہنگائی کی شدید لہر نے ملک میں بہت کچھ بدل دیا ہے رہی سہی کسر دیگر ممالک پر لگائے محصولات نے نکال دی ہے جس سے امریکہ میں غیر ملکی اشیا کے دام غیر معمولی بڑھ چکے ہیں۔ حالات کا تقاضا ہے کہ عوام کو سستی اور معیاری اشیا کی فراہمی یقینی بنائی جائے لیکن صدر ٹرمپ کی طرف سے عائد کیے گئے محصولات نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس سے جنم لینے والی نفرت شاید ہی حملے کے اثرات سے کم یا ختم ہو سکے۔

زندگی مسائل سے بھر پور ہے ترقی کے تمام تر دعوؤں کے باوجود آبادی کا بڑاحصہ صحت کے مسائل سے دوچارہے صاف پانی، معیاری خوراک اور مالی پریشانیاں شہریوں کی زندگی کاحصہ بن چکی ہیں۔ اِن حالات میں نفرت انگیز بیانیے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں جس کی بھارت میں بہتات ہے جہاں کوئی مذہب، کوئی سیاست، کوئی علاقائیت، کوئی لسانیت کے نام پر ماردھاڑ کا درس دیتا پھرتا ہے جوکہ غلط ہے آج دنیا کو بکھیرنے نہیں جوڑنے کی ضرورت ہے وائے افسوس کہ بھارت میں اِس طرف کم ہی دھیان ہے جس سے انسانی رویے متشدد ہو رہے ہیں جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔

حملہ آور کول ایلن کا اپنے خاندان کو یہ پیغام ارسال کرنا کہ اعلیٰ ترین عہدے سے لیکر نچلے درجے تک ترتیب سے نشانہ بنایا جائے گا ایک متشدد ذہن کی طرف اِشارہ کرتا ہے لیکن جب ملزم کو بخوبی معلوم ہے کہ جُرم ثابت ہونے کی صورت میں عمر قید ہو سکتی ہے اِس کے باوجود دفاع میں کسی قسم کی درخواست پیش نہ کرنا اور خود کو عدالت اور انتظامیہ کے رحم پر چھوڑ دینا ناقابلِ فہم ہے کیونکہ یہ رویہ ملزم کے اطمنان کو ظاہر ہوتا ہے جیسے اُسے یقین ہوکہ کسی قسم کی سزا کاکوئی خدشہ نہیں۔ ایسے ہی حالات و واقعات کہانی کے ظاہری رُخ پر یقین و اعتبار کرنے سے روکتے ہیں۔