فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی ایران آمد ثالثی عمل کا حصہ ہے۔ معاشی جدوجہد میں مصروف پاکستان نے ثالثی عمل سے جو عالمی عزت، شہرت اور نیک نامی حاصل کی ہے جس سے اِس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان خطے کے ساتھ اپنے عالمی کردار کو وسیع کررہا ہے وہ قابلِ بھروسہ عالمی ثالث ہے۔ امریکہ و ایران تصادم میں پاکستان کے امن پسندانہ کردار کی اقوامِ متحدہ سے لیکر عالمی طاقتیں بھی معترف ہیں جس کے بروقت کردار سے امریکہ و ایران کو براہ راست بات چیت سے بد اعتمادی کو باہمی اعتماد میں بدلنے کا موقع ملا اور اسرائیل کی سازشیں ناکام ہوئیں۔ ایران کو مزید تباہی سے محفوظ رکھنے میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے یہ ایسا کردار ہے جس سے دنیا میں جنم لیتے معاشی زلزلے کی رفتار کم جبکہ تیسری عالمی جنگ کے پیدا ہوتے امکانات ختم ہوئے یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے دوران پاکستان کا ذمہ دارانہ اور امن پسندانہ کردار کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ اگر پاکستان لا تعلق رہتا تو اب تک امریکہ اور اسرائیل تو شاید آرام و سکون سے الگ ہوتے مگر سعودی عرب، قطر، کویت، عراق، عرب امارات جیسے ممالک اور ایران میں جنگ چَھڑ چکی ہوتی۔ پاکستان نے ایک طرف ایران کو سمجھایا تو دوسری طرف سعودی عرب اور اُس کے اتحادی ممالک کو بھی جنگ میں عدم شرکت پر قائل کیا۔ اِس طرح ایک وسیع جنگ کا خطرہ ختم ہوگیا۔ اطالوی وزیرِ اعظم جارجیامیلونی نے سنجیدہ امن کاوشوں پر ہی شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کو امن کانوبل انعام دینے کی تجویز دی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کے واحد آرمی چیف ہیں جو مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ مدتِ ملازمت ختم ہونے سے ایک روز قبل ایسے حالات میں آرمی چیف بنے جب دیوالیہ ہونے کاخطرہ تھا۔ بیرونی طاقتیں خواہشمند تھیں کہ واحد اسلامی جوہری طاقت دیوالیہ ہوتا کہ اُسے جوہری طاقت سے محروم کیا جائے۔ ستم ظریفی یہ کہ ملک کی کچھ سیاسی قیادت بھی اُن کی ہمنوا تھی مگر اللہ جب کسی کو عزت دینے لگتا ہے تو اسباب پیدا فرما دیتا ہے۔ جنرل عاصم منیر مدتِ ملازمت سے سبکدوشی سے ایک روز قبل آرمی چیف بنتے ہیں اور گزشتہ برس مئی میں بھارت کو شامت اعمال آگھیرتی ہے۔ وہ پاکستان پر حملہ کر دیتا ہے جس کا ایسا بھرپور اور نپا تلا جواب دیاجاتا ہے کہ دنیا پاکستان کی عسکری طاقت تسلیم کرتے ہوئے عش عش کر اُٹھتی ہے۔ دنیا میں بہادروں کی قدر ہوتی ہے منتخب حکومت نے اگر جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا تو امریکہ سے لیکر چین، یورپی اور عرب ممالک تک اعتراف کرنے لگے کہ جنرل عاصم منیر جیسا بہادر عسکری سربراہ ایسی خوبیوں کا مالک ہے جس سے پاکستان کو ایک طاقتور عالمی کھلاڑی کے طور پرعزت ملی ہے۔
مزاکرات کے لیے اسلام آباد آنے والے ایرانی وفد کا گیارہ اپریل کو فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فوجی وردی میں استقبال کیا تو کچھ لوگوں کا ماتھا ٹھنکا کہ پاکستان اور ایران میں بظاہر جو کچھ ہے اصل میں اُس سے زیادہ ہے۔ اب ایسے حالات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر فوجی وردی میں تہران جا پہنچے ہیں جب ایرانی قیادت پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اُس کی فضائی حدود امریکہ اور اسرائیل کے نشانے پر ہے۔ علاوہ ازیں ایسا ایرانی رہنما مہمان فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے استقبال کے لیے آتا ہے جس کے سر کی اسرائیل نے قیمت لگا رکھی ہے۔ وہ اسرائیل جو کسی کی نہیں سُنتا یہاں تک کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں تک کو اہمیت نہیں دیتا مگر جنرل عاصم منیر کی آمدپر ایرانی قیادت بلاخوف و خطر استقبال کرتی ہے کیونکہ اُسے یقین ہے کہ جب تک فیلڈ مارشل اِدھر ہیں تب تک کوئی لڑاکا طیارہ یا میزائل حملہ نہیں کر سکتا۔ اِس اعتماد کی وجہ یہ ہے کہ کسی جوہری ملک کے عسکری سربراہ کو نشانہ بنانے جیسے خطرہ مول لینے کی کوئی ملک حماقت نہیں کرتا کیونکہ ایسا کرنا خطرے کی سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اسی بنا پر میزبان استقبالی رہنما کے سر کی قیمت کے باوجود کوئی ایسی حرکت نہیں ہوتی کہ مبادا شدید جوابی ردِ عمل کا اندیشہ حقیقت بنے جس طرح کے جوابی ردِ عمل کا گزشتہ برس بھارت کو سامنا ہو چکا۔
جنرل عاصم منیر کا ایران جانا کوئی معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی واقعہ ہے جس کے نتائج سے امن جُڑا ہے۔ اِس دورے سے ایرانی قیادت پر واضح ہوا کہ پاکستان اُن کا حقیقی خیر خواہ ہے۔ کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جو سفارتی زرائع سے بالاتر ہوتے ہیں۔ جنرل عاصم منیر کا دورہ ایران بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ایران کہہ چکا کہ پابندیاں ختم اور اثاثے بحال ہونے کی صورت میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کا معاہدہ کرنے کو تیار ہیں جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے بھی کہہ دیا ہے کہ وہ ایران سے معاہدے کرنے خود اسلام آباد آئیں گے جس سے امریکہ و ایران معاہدے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اِس عمل میں پاک چین اور سعودیہ شراکت داری کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں۔
دنیا کو تعجب ہے کہ جب رہبرِ اعلٰی آیت اللہ خامنائی شہید جبکہ جانشین مجتبیٰ خامنائی زخمی اور خطرات کی وجہ سے منظرِ عام پر نہیں آسکتے دیگر ایرانی قیادت بھی زیرِ زمین ہے۔ اِن حالات میں ایران جاپہنچنا خود کو خطرات کے حوالے کرنے کے مترادف ہے مگر جنرل عاصم منیر آئے لہذا یہ کہنا عین انصاف ہوگا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی ایران آمد سے خطے میں جنگ کے بادل معدوم اور امن کی بہار آنے کے امکانات بڑھے ہیں۔
پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ ایک بڑی اور اہم دفاعی تبدیلی ہے، ترکیہ اِس معاہدے کو وسعت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے شمولیت کی خواہش ظاہر کرچکا ہے جبکہ ایران بھی سراہتے ہوئے اِس کا حصہ بننے کا آرزو مند ہے حالانکہ پاکستان نے جب جوہری دھماکے کیے تو ایران نے تشویش ظاہر کی تھی۔ حالیہ تبدیلی سے ایک وسیع تر مسلم اتحاد کی راہ ہموار ہونے کاامکان ہے یہ فیلڈ مارشل کا وہ کردار ہے جسے مسلم اُمہ مدتوں یاد رکھے گی۔
میں نے گزشتہ تحریر میں رقم کیا تھا کہ پاکستان کو ثالثی کے معاشی فوائد بھی مل سکتے ہیں۔ ہے ناتعجب والی بات، کہ عرب امارات نے اُدھار واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو سعودی عرب نے ضرورت کے مطابق پاکستان کو رقم جمع کرادی۔ سعودیہ نے دس ارب ڈالر کی لاگت سے گوادر میں آئل ریفائنری لگانے کا بھی معاہدہ کیا ہے۔ اب عمان نے بھی گوادر میں سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے جس سے ایسے تاثر کی نفی ہوگی کہ گوادر پر صرف چین کی اجارہ داری ہے بلکہ گوادر توخطے کا ایک بڑا تجارتی اور معاشی مرکز بن کر سامنے آسکتا ہے۔ یہ منزل امن و امان کو یقینی بنانے سے حاصل ہوگی جب خطے میں امن کی بحالی کے لیے جنرل عاصم منیر کے دلیرانہ کردار کو دیکھتے ہیں تو وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اندرونِ ملک بھی شرپسند عناصر پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور پاکستان دفاعی کے ساتھ ایک بڑی معاشی طاقت بن کر دنیا کے سامنے آئے گا۔