خطے میں بالادستی کے خواہاں بھارت کو مشکلات کا سامنا ہے جو سفارتی اور معاشی مقابلے کی رفتار کو سُست کرنے کا باعث ہیں مگر دہلی حکومت اب بھی پرانی روش پر گامزن ہے اور مذہبی جنونیت کو ہوا دینے میں مصروف ہے حالانکہ ایسی کوششیں اندرونِ ملک تو کسی حد تک فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں لیکن عالمی سطح پر مُضر ثابت ہوتی ہیں۔ بھارت کو کچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے اندرونِ ملک سیاسی کامیابیوں کے باوجود کئی بیرونی محازوں پر ہزیمت سے دوچار ہے اب تو یہ سوال گردش کرنے لگا ہے کہ کیا چین کا بھارت سفارتی اور سیاسی مقابلہ کرنے کی سکت رکھتابھی ہے یا نہیں؟
مئی اور جون 2020 میں سرحدوں کی حفاظت پر مامور چینی اور بھارتی فوجی باہم دست و گریبان ہو گئے معاہدے کے مطابق اسلحہ تو استعمال نہ کیا گیا لیکن ہاتھا پائی کی شدت کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈنڈوں کے استعمال سے چینی فوجیوں نے بھارت کے بیس فوجی مارکر درجنوں زخمی بھی کردیے جبکہ چین کا ایک فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ یہ ایسی جھڑپ تھی جس پر بھارت نے چُپ سادھ لی اور اُس کے عسکری مہارت کے دعوے بے نقاب ہوئے۔ یہ واقعہ سکم کے قریب سرحد اور تبت جیسے خود مختار علاقے اور لداخ کے قریب پینگونگ جھیل کے نزدیک پیش آیا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں 1962 کی چین و بھارت جنگ کے نتیجے میں سرحد کا تعین کیا اور دونوں ملکوں میں اتفاق ہوا کہ سرحدی محافظ اسلحے سے لیس ہو کر گشت نہیں کریں گے بلکہ غیر مسلح رہیں گے بیس فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود بھارت کا خاموشی اختیار کرنا اور چین سے اعلیٰ سطحی روابط میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرنا کمزوری کی طرف اِشارہ تھا جس سے دنیا جان گئی کہ چین سے بھارت خوفزدہ ہے اور میدان میں مقابلے سے فرار چاہتا ہے۔
سرحدی جھڑپ میں بھاری جانی نقصان کے باوجود بھارت و چین میں تجارت ختم نہ ہوئی حالانکہ دہلی حکومت نے پوری کوشش کی کہ چین کا متبادل تلاش کیا جائے لیکن بھارتی تاجروں کا چین پر انحصار کم نہ ہوا سرحدی تنازعات اور گلوان وادی کی جھڑپوں کے باوجود تجارت جاری رہی اور پھر پانچ برس کے تعطل کے بعد جب دونوں ممالک نے سرحدی تجارت کی بحالی پر مزاکرات شروع کیے توصورتحال یکدم ہی بدلتی چلی گئی۔ اگر مالی سال 2026 کے اعداد و شمار پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو بھارت کا چین ایسا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار نظر آتا ہے جس نے امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چین اور بھارت کا تجارتی حجم 127 ارب ڈالر ہے۔ اِس دوطرفہ تجارت میں بھارت کو سو ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال اِس امر کی عکاس ہے کہ بھارت کو چین کے مقابلے میں عسکری اور تجارتی حوالے سے بُری طرح شکست کا سامنا ہے جس سے خطے میں اُس کے بالادستی کے دعوؤں کی نفی ہوتی ہے۔
ایک برس قبل ایک نام نہاد دہشت گردی کے واقعہ کو جواز بناکر بھارت نے پاکستان کی آزادی و خود مختاری کو پامال کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کردیں اور پھر مئی کے پہلے ہفتے میں عملی طور پر ایسا شروع بھی کر دیا مگر اُس کی توقعات پوری نہ ہوسکیں کیونکہ پاکستان نے نہ صرف غیر متوقع طور پر سات لڑاکا طیارے مار گرائے جن میں فرانس کے جدید ترین رافیل بھی شامل ہیں بلکہ جلد ہی بھرپور جواب دینے کا عندیہ دیا۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھی نو اور دس مئی 2025 کو پاکستان نے ایک بڑے حملے میں روس کے دفاعی نظام ایس 400، کئی فوجی اڈوں اور میزائل ذخیروں کو تباہ کر دیا۔ جب پاک بھارت جوہری ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا تو بھارتی التجا پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک میں فائر بندی کرادی لیکن مئی کی جھڑپوں نے ثابت کر دیا کہ عسکری طاقت کے بھارتی دعوے کھوکھلے ہیں۔ اِن جھڑپوں سے پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی اور اب اُسے خطے کا ایک اہم اور طاقتور ملک سمجھا جانے لگا ہے۔ بھارت کی معاشی طاقت بھی اُسے سفارتی اہمیت دلانے میں معاون ثابت نہیں ہورہی رواں دہائی کے ابتد میں دوبار عسکری ہزیمت سے دوچار ہوچکاہے جو اُس پر عالمی اعتماد میں کمی لانے کا باعث ہے۔
اِس وقت بھارت خطے میں امریکی معتمد ہونے کا دعویدار ہے لیکن بنگلہ دیش اور نیپال جیسے چھوٹے ہمسائے بھی نالاں ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھارتی سامان کے بائیکاٹ کی مُہم کو عوامی پزیرائی حاصل ہوتی ہے جبکہ نیپالی وزیراعظم بلیندرشانے کالا پانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا جیسے سرحدی تنازعات کوحل کرنے کے لیے چین اور برطانیہ سے مداخلت کا باضابطہ مطالبہ کردیا ہے۔ بھارت جو نیپال کو ہمیشہ اپنی طفیلی ریاست تصور کرتا تھا اور نیپالی جنرلز کو اپنے اعزازی جنرلز قرار دیتا ہے اِس کے باوجود تناؤ خطے میں تبدیلی کی کروٹ کی طرف اِشارہ ہے۔ چین سے سفارتی اور معاشی مقابلے کے دعویدار بھارت کو ہمسائیگی میں مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔
بھارت نے یورپی یونین سے رواں برس کے آغاز جنوری میں مدر آف آل ڈیلز کے نام سے آزاد تجارتی معاہدہ کرلیا ہے۔ گزشتہ ماہ مئی میں برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی بھی کر چکا۔ اب حال ہی میں کواڈ اجلاس کی میزبانی بھی حصے میں آئی جس میں امریکی، جاپانی اور آسٹریلوی وزائے خارجہ نے شرکت کی میزبان بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر میزبان مارکو روبیو سے اپنے موقف کی تائید اور پاکستان کے خلاف کچھ خاص اُگلوا نہ سکے البتہ اجلاس سے یہ تاثر دیا کہ کواڈ اتحاد کمزور یا غیر موئثر نہیں ہوا ہے۔ یہ کوئی عسکری اتحاد نہیں محض مشترکہ مفادات پر مبنی شراکت داری ہے مگر اِسے چین کی سفارتی اور معاشی راہ روکنے کی کاوش کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ جب مشرقِ وسطیٰ میں بھارت یو اے ای اور اسرائیل تک محدود ہو رہا ہے تو اِن حالات میں انڈوپیسفک میں پیش قدمی کی توقع رکھناممکن نہیں لگتا۔
سفارتی اور معاشی مقابلے میں چین کو بھارت پر سبقت حاصل ہے۔ صدرٹرمپ اپنے چین کے دورے کے دوران میزبان صدر شی کی تعریف کرتے رہے اور اپنے ملک کی بڑی کمپنیوں کے مالکان کو ساتھ لیکر آنا بھی شراکت داری کی خواہش ہی تھی۔ یہ چینی سبقت کو تسلیم کرنے کا غیر اعلانیہ اظہار سمجھا گیا۔ صدرٹرمپ کے فوری بعد روسی صدر پوٹن کا چین آنا اور پھر بھارت کے علاقائی حریف پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف کی چین آمد کا مطلب ہے کہ چین طے شدہ ایسے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس سے بھارت کی سفارتی و معاشی مشکلات میں اضافہ ہو۔ مثال کے طور پر افریقہ سے محصولات کے بغیر تجارتی معاہدے سے چین کو افریقی معدنیات تک رسائی حاصل ہوچکی ہے اور چینی مصنوعات کے لیے براعظم افریقہ میں راستہ ہموار ہوا ہے جبکہ یورپی یونین سے آزاد تجارت کے معاہدے سے یورپی سامان کی بھارت میں کھپت بڑھے گی جس سے میک انڈیا پالیسی کے خاتمہ ہوسکتا ہے۔ یورپی دفاعی سامان خریدنے کو سفارتی اور معاشی کامیابی کے طور پر دیکھنا مناسب نہیں۔