Saturday, 11 July 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Pak Croatia Taluqat Par Nazar

Pak Croatia Taluqat Par Nazar

کروشیا رقبے اور آبادی کے حوالہ سے کوئی بہت بڑا ملک نہیں لیکن جنوب مشرقی اور وسطی یورپ کا یہ ملک پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے بہت اہم ہے۔ اِس ملک میں پاکستان اور پاکستانی محنت کشوں کی بہت عزت ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے بطور ثالث جو عزت اور نیک نامی حاصل کی ہے اُس کا عالمی سطح پر بہت چرچا ہے اور دنیا سمجھنے لگی ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور عالمی امن کے لیے اُس کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ پاکستان کا یہ مثبت تاثر دنیا کو متوجہ کرنے کا باعث ہے۔ اِن حالات میں رواں ماہ 9جولائی کو کروشین وزیرِ خارجہ و یورپی امور گورڈن گرلیچ راڈان کا ایک روزہ سرکاری دورہ پاکستان اہمیت کے لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ انھوں نے اپنے دورہ کے دوران تعلقات وتجارت بڑھانے کے لیے گراں قدر گرمجوشی دکھائی۔ یہ دورہ تجارتی اور معاشی حوالے سے دودررس نتائج کاحامل ہو سکتا ہے کیونکہ اِس دورے سے نہ صرف پاک کروشین تعلقات اعلیٰ سطحی سے لیکر عوامی اور کاروباری شعبوں تک وسیع ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے بلکہ یورپی یونین میں پاکستان کو ایک اور اچھا اور باعتماد دوست ملنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

کروشیا کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جن سے تجارتی توازن مکمل طور پر پاکستان کے حق میں ہے۔ اگر صرف گزشتہ برس کے تجارتی حجم کا جائزہ لیں تو پاکستان کے لیے بہت منافع بخش دکھائی دیتا ہے۔ گزرے برس پاکستان نے 29.9 ملین ڈالر کی اشیا کروشیا کو برآمد کیں جن میں ٹیکسٹائل مصنوعات، چمڑے کا سامان، تیار ملبوسات، طبی اور کھیلوں کا سامان سرِ فہرست رہا جب کہ کروشیا سے 6.35 ملین ڈالر کا ایلومینیم، مشینری اور دیگر صنعتی سامان درآمدکیا۔ اِس طرح پاکستان نے 23.6 ملین ڈالر کا منافع کمایا اب جبکہ دونوں ممالک نے بزنس ٹو بزنس اور نجی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اصولی اتفاق کر لیا ہے تو امید ہے کہ کروشیا نہ صرف پاکستانی سامان کی مزید منافع بخش منڈی بنے گا بلکہ پاک کروشیا بہتر تعلقات یورپی یونین سے خیر سگالی بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوں گے جو اِس وقت بھارت سے آزادانہ تجارتی معاہدے کی وجہ سے اُس کے حق میں ہیں۔

گورڈن گرلیچ راڈان کروشیا کے پہلے وزیرِ خارجہ ہیں جنھوں نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا ہے۔ اِس دورے میں انھوں نے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں جو مستقبل میں بہتر تعلقات کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہیں اِس دورے میں دونوں ممالک نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں اول۔ سفارتی پاسپورٹ کو ویزہ اسے استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ سفارتی تربیتی اِداروں کے درمیان مفاہمت کو بھی حتمی شکل دینے پر اصولی اتفاق ہوچکا ہے۔ اِس حوالے سے مفاہمتی ایم او یو تیاری کے حتمی مراحل میں ہے جس پر جلد ہی دستخط کا امکان ہے۔ دوم۔ تجارت، سرمایہ کاری سیاحت، بندرگاہی روابط اور دفاعی تعاون بڑھانے کے لیے نتیجہ خیز اقدامات پر دونوں ملک متفق ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ کروشیا نے خواہش ظاہر کی ہے کہ پاکستان اُسے ہُنر مند افرادی قوت فراہم کرے۔ اب یہ اربابِ اختیار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دوست ملک کی خواہش کا احترام کرے اور بھرپور فائدہ اُٹھائے تاکہ برآمدات کی طرح ترسیلاتِ زر میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو۔

کروشیا کی کُل آبادی محض 39 لاکھ 20 ہزار ہے کُل آبادی کا بیس فیصد دارالحکومت زغرب میں رہائش پزیر ہے جس کی آبادی چھ لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ تعلیم اور صحت کی بہترین سہولتوں کے باوجود اِس ملک کو شرح پیدائش میں مسلسل کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے کروشیا صنعتی پہیے کو رواں رکھنے کے لیے غیرملکی ہُنرمندوں کے لیے ویزہ کا حصول آسان بنارہا ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان کے پاس افرادی قوت کا خزانہ ہے اگر پاکستانی قیادت توجہ دے تو کروشیا کی افرادی قوت کے حوالے سے ضروریات باآسانی پوری کی جا سکتی ہیں۔ ایسا ہی موقع صدر ایوب خان کے دور میں جرمنی کی طرف سے پاکستان کو دیا گیا لیکن پاکستان نے بارہ کروڑ قرض دیکر افرادی قوت فراہم کرنے سے معذرت کرلی جبکہ ترکیہ نے جرمنی کی ایسی پیشکش سے فائدہ اُٹھایا اور آج جرمنی میں ترک نژاد ایک بڑی سیاسی اور کاروباری قوت ہیں جس کے ترکیہ کو معاشی فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستانی قیادت دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھائے اور حائل غیر ضروری رکاوٹوں کو دورکرتے ہوئے بیرونِ ملک جانے والوں کو سہولتیں دے۔

دوعشروں کی خونریز لڑائی کے بعد کروشیا نے جب 25 جون 1991 کو یوگوسلاویہ سے الگ ملک بننے کا اعلان کیا تو ابتدا میں اُسے خاطر خواہ عالمی حوصلہ افزائی نہ ملی اِس لیے علیحدگی کے اعلان پر 8 اکتوبر 1991 کو عملدرآمد ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ کروشیا اپنا یومِ آزادی آٹھ اکتوبر کو مناتا ہے۔ پاکستان نے کروشیا کو اٹھارہ اکتوبر 1992 کوآزاد اور خود مختار ملک تسلیم کیا اور اسی برس ہی دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات بھی قائم ہوگئے۔ کروشیا نے یکم جولائی 2013 میں یورپی یونین کی رُکنیت حاصل کرلی جس پر دارالحکومت زغرب سمیت پورے ملک میں جشن منایا گیا۔ کروشین لوگ ہنوز جنگ کی خونریزی کو بھول نہیں سکے اِس لیے قیادت سمیت عام شہری بھی قومی سلامتی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ وہ ملکی دفاع مضبوط تر بنانے کے خواہشمند ہیں یہاں بھی پاکستان کے لیے اچھا موقع ہے کہ دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے ایسا کرنے سے کروشیا کو سستا اور معیاری دفاعی سامان ملے گا اور پاکستان کو اپنی معیشت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

کروشیا نہ تو بہت ہی زیادہ امیر ملک ہے اور نہ اِس کا شمار غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے لیکن اگر فی کس آمدن اور مستحکم معیشت کے تناظر میں دیکھیں تو اِس کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ ایک ہزار سے زائر جزائر کی ملکیت کا حامل یہ ملک ہر سال سیاحت سے بھاری رقوم حاصل کرتا ہے۔ پاکستان کے پاس چاروں موسم ہیں طویل ترین ساحلی پٹی اِسے مزید جازبِ نظر بناتی ہے۔ پاکستان بھی زرائع آمد ورفت بہتر بناکر اور سیاحوں کو سہولتیں دیکر عالمی سیاحت میں اہم مقام حاصل کر سکتا ہے۔ اِس حوالے سے کروشین طریقہ کار سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اب یہ پاکستانی قیادت کی فہم و فراست کا امتحان ہے کہ وہ دستیاب مواقع سے کتنااور کیسے فائدہ اٹھاتی ہے؟ بہتر عالمی ساکھ سے فائدہ اُٹھاکر معاشی استحکام کی منزل حاصل کرنا زیادہ مشکل یاناممکن نہیں اگر محنت، لگن اور دیانتداری سے کام کیا جائے۔