Saturday, 27 June 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. Bangladesh o China Ki Sharakatdari

Bangladesh o China Ki Sharakatdari

بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلے غیر ملکی دورے کا آغاز ملائیشیا اور چین سے کیا ہے جس سے بنگلہ دیشی ترجیحات کی طرف اِشارہ ہوتا ہے۔ عام انتحابات میں جب اُن کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تو عام قیاس تھاکہ بنگلہ دیش اپنی جغرافیائی مجبوریوں کے پیشِ نظر بھارت کو نظر انداز کرنے کی سوچ ترک کرسکتا ہے جس سے تعلقات اگر گرمجوشی پر مبنی نہیں تو اچھی ہمسائیگی والے ضرور ہوجائیں گے مگر نئی حکومت کوشش کے باوجود عبوری حکومت کی زیادہ تر پالیسیاں بدل نہیں سکی اور کوششوں سے محض اِتنا فرق آیا ہے کہ بھارت نے رواں ماہ 28 جون سے سیاحتی ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن سرحدی اور مہاجرت کے مسائل پر تناؤ برقرار ہے۔

طارق رحمان کا 24 جون سے چین کا تین روزہ سرکاری دورہ ثابت کرتا ہے کہ بنگلہ دیش کا چین پر انحصار کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے حالانکہ اُس کی معیشت امریکی برآمدات پر زیادہ انحصار کرتی ہے مگر چین بھی بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں اہم اور غالب کردار کاحامل ہے اسی لیے بنگلہ دیش اب چین کی طرف مائل ہے یہ جھکاؤ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو نمایاں کرتا ہے۔

بنگلہ دیش پر امریکہ، چین اور بھارت کا دباؤ ہے تینوں ہی جنوبی ایشیا کے اِس ملک پر غلبہ چاہتے ہیں عالمی سطح پرجاری چین اور امریکہ کی مسابقت بنگلہ دیش میں بھی نظر آتی ہے۔ نئی حکومت کی کوشش ہے کہ دونوں اہم اقتصادی شراکت داروں میں توازن سے چلے تاکہ مزید پیچیدگیاں جنم نہ لیں۔ بنگلہ دیشی مصنوعات پر محصولات کے اضافہ کو دراصل ڈھاکہ کو بیجنگ سے دور رکھنے کی امریکی کوشش تھی لیکن بات نہیں بن سکی بنگلہ دیش اب چین کی طرف جُھک رہا ہے جس کی کئی وجوہات ہیں جو بنگلہ دیش کی نئی قیادت کو چین کی طرف دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔

امریکہ اتحادیوں کو مارکیٹ تک آسان رسائی دیتا ہے لیکن سرمائے کی منتقلی روکنے کی کوشش بھی کرتا ہے دفاعی تعاون میں کئی طرح کی پابندیاں اور رکاوٹیں بھی لگاتا ہے جو امریکی ضرورت و اہمیت کم کرتی ہیں لیکن چین دفاعی سامان کے ساتھ تکنیکی مہارت بھی دیتا ہے۔ بنگلہ دیش کا اپنے دفاع کے لیے چین سے 24 جدید ترین لڑاکا طیارے خریدنے یہی سہولت کارفرما ہے۔ چین بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے لیکر صنعتوں کو رواں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ مزید یہ کہ اِس تعاون میں ڈالر کا عمل دخل نہیں ہوتا یہ طریقہ کار زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں کمی لاتاہے علاوہ ازیں امریکی احکامات جاری کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ چین کا طرزِ عمل دوستانہ اور برابری کی بنیاد پر ہوتا ہے اسی لیے چین اکثر ممالک کی ترجیح ہے حالانکہ چین کا ترقی پزیر ممالک کوبے تحاشہ قرضے جاری کرنا اور اُن کی معیشت کے لیے ضروری عنصر بننا آزادانہ معیشت کی سوچ کو کمزور کرتا ہے لیکن اکثر ترقی پذیر ممالک کی قیادت قرضوں سے معیشت چلانے کو آسان سمجھ کر چینی قرضوں میں پھنس رہی ہے جس سے خود انحصاری کی راہ میں رخنہ آتا ہے مگر ڈالر کا متبادل اور قرضوں کا سہل اجراچین کواہم کرتا ہے یہی کچھ بنگلہ دیش کررہا ہے۔

چینی وزیرِ اعظم لی کیانگ کی دعوت پر بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم طارق رحمان کا تین روزی سرکاری دورے پر بیجنگ جانا دونوں ممالک میں بڑھتی قربت کا مظہر ہے۔ دورے میں چینی صدرشی اور وزیرِ اعظم لی کیانگ اور دیگر سے ملاقاتوں میں کئی معاہدے ہوئے تین اطراف سے بھارت میں گھرے ملک کی یہ آزاد خارجہ پالیسی کیا نئی دہلی کو پسند آئے گی؟ اِس کا جواب ہاں میں نہیں کیونکہ چین سے مقابلے کا دعویدار بھارت ہرگز نہیں چاہے گا کہ ایسا ملک جوعشروں سے اُس کا محتاج رہا اب اچانک برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی بات کرے اور بھارت مخالف کیمپ میں جائے اسی بنا پر بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات میں مزید سرد مہری یا کشیدگی کے امکان کو رَد نہیں کیا جاسکتا۔ 2024 میں عوامی بغاوت کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی تاہم رواں برس فروری میں طارق رحمان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی حد تک بہتری آئی اگرچہ بعض معاملات میں اختلافات موجود ہیں علاقائی کشمکش کے تناظر میں یہ دورہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق طارق رحمان کے اولیں غیر ملکی دورے سے واضح ہوگیا کہ بنگلہ دیش کے لیے دفاعی اور اقتصادی حوالے سے بھارت سے چین زیادہ اہم ہے۔

بھارت نے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کے پہلے غیر ملکی دورے کو پسند نہیں کیا شاید اُس کا خیال تھا کہ نئی حکومت بھارت کو اہمیت دے گی بھارت، بھوٹان جیسے ممالک نے بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کو دورے کی باضابطہ دعوت بھی دے رکھی ہے مگر ابھی جزیات طے کرنے تک بات ہے بیجنگ کے دورے کی خبروں پر بنگلہ دیشی وزیرِ اعظم کے مشیر زاہدالرحمٰن کو بھارت نے داخلے سے روک دیا۔ سفارتی سطح پر پیشگی اطلاع کے باوجود بھارت کا یہ اقدام تشویشناک ہے بعد ازاں اعلیٰ حکام کی مداخلت سے داخلے کی اجازت دیدی گئی لیکن مہمان نے دہلی ائرپورٹ پر اڑھائی گھنٹے کی پوچھ تاچھ سے دل گرفتہ ہو کر رِم ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شرکت ہی نہ کی اور اجازت کے باوجود کولمبوکے راستے واپس ڈھاکہ چلے گئے جہاں بھارتی رویے کے خلاف خوب غم وغصہ ظاہر کیا۔

یہ واقعہ مزید تناؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم مودی اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس میں ملاقات ہوئی تھی جس میں اختلافی امور حل کرنے کے حوالہ سے تبادلہ خیال ہوا لیکن زیادہ بہتری نہ آسکی۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ چین کے زیرِ اثر آکر بنگلہ دیش مسائل پیدا کر سکتا ہے خاص طور پر سلی گوڑی کوریڈور جسے چکن نِک (مرغ کی گردن)کہا جاتا ہے جو مرکزی بھارت کو سات شمال مشرقی ریاستوں سے ملاتا ہے یہ مغربی بنگال کی اہم زمینی پٹی ہے جس کا تحفظ بھارت کے لیے اہم ہے وگرنہ شمال مشرقی ساتوں ریاستیں ملک سے کٹ سکتی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی نئی حکومت کو اہم اقتصادی شراکت داروں میں جس پچیدہ توازن کا سامنا ہے کیا وہ توازن لاتی ہے یا کسی ایک کو ترجیح دیتی ہے؟ اِس کا درست جواب حاصل کرنے کے لیے کچھ عرصہ انتظار مناسب ہوگا۔