Wednesday, 17 June 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Hameed Ullah Bhatti
  4. America Iran Mufahimat Aur Pakistan

America Iran Mufahimat Aur Pakistan

امریکیوں کا خیال ہے کہ وہ کیونکہ دنیا سے زیادہ زہین ہیں لہذا دنیا کو بے وقوفیوں سے روکنا بھی اُن کی ذمہ داری ہے مگر حالات و واقعات سے اِس خیال کی تائید نہیں ہوتی کہ وہ ذہانت میں دنیا سے آگے ہیں سب سے زیادہ طاقتور ہونے کے امریکی دعوے کو ایران جنگ سے جو دھچکا لگا ہے وہ بہت سخت ہے جس کے نتائج ہمہ گیر ہیں اور اپنایہ نقصان امریکہ نے اسرائیل کو خوش کرنے کے لیے بخوشی کرایا ہے۔ چینی رسوخ دنیا کو اپنی طرف مائل کرچکا اُس کی معیشت اول نمبر پرہے جنگ لڑے بغیر اُس کی عسکری طاقت دنیا تسلیم کرچکی مگر وہ کوئی ڈھنڈورہ نہیں پیٹ رہا لیکن امریکہ نے جنگوں میں الجھ کر ناکامیوں کابوجھ اُٹھا رکھا ہے۔ ایران جنگ کے اختتام کا سبق یہ ہے کہ ہمیشہ اسرائیل اول ترجیح کا خیال بھی تبدیلی کے مراحل میں ہے۔

امریکہ و ایران مفاہمت نامے پر الیکٹرانک دستخط سے حتمی معاہدے کی راہ ہموار ہوچکی اِس کا خطے کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ آبنائے ہُرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے سے تیل کی تجارت کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے اب نہ صرف تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ دنیا میں بڑھتی مہنگائی کی لہر پر بھی قابو پایا جاسکے گا اور معاشی دباؤ میں کمی آئے گی لیکن جمعہ کو جنیوا میں ہونے والی باضابطہ تقریب تک تمام فریقین کو محتاط رہنا ہوگا کیونکہ اسرائیل کو امن معاہدے سے تحفظات ہیں وہ چاہتا ہے پہلے ایران جوہری و میزائل پروگرام کو محدود کرنے کی یقین دہانی کرائے حماس، حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں کی سرپرستی ترک کرے تب کوئی معاہدہ کیا جائے۔

لبنان میں جاری اسرائیلی کاروائیوں سے جو تاثر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ایران معاہدے سے تل ابیب ناخوش ہے اور اِسے اپنے مفاد کے منافی تصور کرتا ہے انتہائی دائیں بازوکے اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی بن گویر نے تو امریکہ و ایران معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ ٹرمپ معاہدے کے ہم پابند نہیں کیونکہ ہم اِس میں بطور فریق شامل نہیں اور نہ ہی یہ معاہدہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے لہذا حزب اللہ کے مکمل طور پر خاتمے تک مطمئن نہیں ہو سکتے۔ اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ زمین کے ایک انچ سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے نیتن یاہو کہتے ہیں کہ اسرائیلی افواج غزہ، لبنان اور شام میں جب تک ضروری ہوا رہیں گی۔ اِن حالات میں انہونی ہوسکتی ہے عین ممکن ہے زیادہ سخت ردِ عمل کی صورت میں امریکی مقتدرہ اسرائیل سے فاصلہ کرلے مگر ایسا کرنا آسان نہیں امریکی اگر دنیا سے زیادہ زہین ہونے کے دعوے دارہیں تو زہانت سے امن کی ایسی راہ تلاش کرسکتے ہیں جو اسرائیل کو چاہے پسند نہ ہو۔

عالمی رائے عامہ کی سخت مخالفت اور ایرانی ردِ عمل نے امریکہ کو مجبور کیا کہ جنگ چھوڑ کر امن کی طرف آئے یوں مفاہمتی کوششوں کو تقویت ملی۔ یہ مکالمے کی طاقت ہے جو دو متحارب فریقین کو افہام و تفہیم کی راہ تک لے آئی ہے جس میں پاکستان کا غیر معمولی اور کلیدی کردار ہے مفاہمت کے بعد اگر حتمی معاہدہ طے پاجاتا ہے تو خطے کے ساتھ عالمی معاشی استحکام آئے گا جس کے ثمرات پاکستان کو بھی حاصل ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ آنے والی کمی ایک ایسی پیش رفت ہے جو بہت مثبت ہے اسی لیے اقوامِ عالم مفاہمت پر خوش ہیں اور اِس عمل کو جاری رکھنے کی خواہشمند ہیں۔

یہ معاہدہ ایران کے لیے بھی ترقی کا نُکتہ آغاز ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ نہ صرف منجمد اثاثے واپس ملنے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ عالمی پابندیوں کے خاتمے سے جدید ترین ٹیکنالوجی تک رسائی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی حاصل ہو سکے گی نیز تیل کی آزادانہ تجارت سے آمدن میں نمایاں اضافہ ہوگا جو معاشی دباؤ سے نکلنے میں مدد گار ہوگا جس کے ثمرات ایرانی عوام کو حاصل ہوں گے اور جوسیاسی استحکام کاباعث بنے گا۔

وقت آگیا ہے کہ اپنی بقا کو ہمیشہ حالتِ جنگ میں سمجھنے والے اسرائیل اور اُس کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو حکمتِ عملی تبدیل کریں کیونکہ امن معاہدے سے اسرائیل کو الگ رکھنے سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیلی رسوخ ماضی سے کم ہوچکا اور امریکی حکام اب اسرائیل کے سوا بھی کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ مستقبل میں شاید ہی کوئی امریکی صدر اسرائیلی ایما پر ایران کے خلاف کاروائی پر رضا مند ہو نیتن یاہو جو بدعنوانی کے الزامات سے بچنے کے لیے ہر وقت کسی نہ کسی ملک کے خلاف فوجی کاروائی کرتے رہے مفاہمتی معاہدہ اُن کے اقتدار کوانجام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

اب تک کے جائزوں کے مطابق اکثریتی اسرائلی رائے عامہ نیتن یاہوکے خلاف ہے اور سمجھتی ہے کہ انھوں نے اسرائیل کو محفوظ سے غیر محفوظ ملک بنا دیا ہے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ رواں برس اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو شکست سے دوچار ہوسکتے ہیں جس کے بعد یاہو یا تو جیل ہوں گے یا پھر سیاست سے الگ۔ ایران سے جنگ میں رجیم تبدیلی تو نہیں ہو سکی البتہ یاہوکا سیاسی خاتمہ ہوگیا ہے پہلی بار اسرائیل اور امریکہ کی سوچ میں تضاد نظرآنے لگاہے ناپسندیدگی کے باوجود امریکہ و ایران مفاہمت اِس امر کی دلیل ہے۔

اسلام آباد آنے کو بے قرار صدر ٹرمپ کا معاہدے کے لیے جنیوا جانا ایک غیر معمولی اقدام ہے یہ فیصلہ غیر متوقع ہونے کی بنا پر اِس لیے حیران کُن ہے کہ باربار تعطل کے باوجود ایرانی قیادت کومزاکرات کے لیے رضامند کرنے میں پاکستان کا کردار عیاں ہے اِس میں کسی حد تک قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے بھی معاونت کی لیکن پاکستان کی کوششیں سفارتی اور حکومتی سطح تک وسیع تھیں اِس کے باوجود معاہدے پر جنیوا کے انتخاب پر تعجب ہے۔ اِس بارے عام قیاس یہ ہے کہ یہ فیصلہ ایران پر دباؤ بھارتی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ اسلام آباد عالمی سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنے اور دنیا پاکستان کی طرف متوجہ ہو۔

جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی آئے تو دونوں ممالک میں ازسرنو شراکت داری پر اتفاق کیا گیا۔ معاہدہ پاکستان کی بجائے کہیں اور کرنے کی تجویز کیونکہ ایران کی طرف سے آئی وگرنہ قطرکے زریعے اسلام آباد کی بجائے جنیوا میں معاہدہ کرنے کا مطالبہ نہ ہوتا۔ اب بھی جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ امریکہ و ایران میں کیونکہ پہلے بھی جنیوا میں مزاکرات ہو چکے اِس لیے دستخط کی تقریب یہاں ہونی چاہیے۔ ایرانی خواہش پر ہی امریکہ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے جنیوا کو تقریب کا میزبان شہر بنانے پر رضامند ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے اخلاص کے باوجود آج بھی ایرانی جھکاؤ بھارت کی طرف ہے لہذا ہمیں زیادہ توقعات کی بجائے حالات و واقعات اور ملکی مفاد کومدنظر رکھ کر چلنا ہوگا کیونکہ یکطرفہ اخلاص کے نتائج ماضی میں بھی اچھے نہیں رہے۔