Monday, 13 April 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Rauf Klasra
  4. Sohna Sadi Bas Aye

Sohna Sadi Bas Aye

دنیا کیسے کیسے انقلابوں سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف مڈل ایسٹ جنگ نے ہماری نیندیں اڑا رکھی ہے تو دوسری طرف لگتا ہے پاپولسٹ لیڈرز جن کا جنون دنیا بھر میں دس سال پہلے عروج پر تھا وہ اب دھیرے دھیرے عوام میں اپنا رومانس کھو رہے ہیں۔

اس کی تازہ ترین مثال ہنگری میں حکمران جماعت کے وزیراعظم کی الیکشن میں شکست ہے۔ وکٹرو اربان کو دنیا بھر میں جدید پاپولسٹ سیاست کا بانی سمجھا جاتا ہے کہ لوگوں کو ان کی کھوئی ہوئی عظمت کی جھوٹی سچی کہانیاں سنائو اور ان کے عظیم بننے کے خوابوں کی طاقت پر مسلسل حکمرانی کرو۔

مزے کی بات ہے یہ واحد ملک ہے جس کے وزیراعظم کو جتوانے کے لیے صدر ٹرمپ اور صدر پوٹن اکٹھے ہوگئے تھے۔ دونوں نے خوب زور لگایا۔ دونوں کے مفادات مختلف لیکن بندے ایک پر ہی متفق تھے۔ بس ہنگری کی عوام نے ہی ہاتھ کھڑے کر دیے کہ سوہنڑا ساڈی بس اے۔

ہنگری کا وزیراعظم روس اور امریکہ دونوں کو پسند تھا۔ بلکہ ہمارا پیارا جے ڈی وینس بڈھاپسٹ میں تھا جب اسے پاکستان جانے کا حکم دیا گیا۔ وہ وہاں وزیراعظم کے حق میں تقریریں کرنے گیا تھا کہ امریکن وہاں اس کی فتح چاہتے تھے۔ ٹرمپ کو لگا وہ شاید ہنگری کے ووٹرز کو بہتر سمجھا سکتا ہے لہذا اس نے ہنگری کے عوام سے خود خطاب بھی کیا کہ یہ زبردست وزیراعظم ہے۔ لیکن ہنگری کی عوام نے کہا نہیں ٹرمپ بھائی کافی ہوگیا اب مزید آپ ہمیں ہنگری عظیم کے نعرے پر بیوقوف نہیں بنا سکتے۔

ادھر امریکہ میں بھی پالولسٹ ٹرمپ کی اپرول ریٹنگ امریکن تاریخ میں کم سے کم تر بتائی جارہی ہےحالانکہ وہ بھی امریکہ کو گریٹ بنانے کے نام پر ووٹ لے کر آئے تھے۔ وہاں No King کے نعرے پر ایک کروڑ بندہ احتجاج کرنے باہر نکلا۔

برطانیہ میں پاپولسٹ لیڈر بورس جانس Brexit کے پاپولر نعرے پر ابھرا اور برطانیہ اپنے موجودہ معاشی بحران کا ذمہ دار اب اسے سمجھتا ہے۔ brexist بھی ایک رومانوی نعرہ تھا جسے بورس جانسن نے وزیراعظم بننے کے لیے کیش کرایا اور اب خود بڑے عرصے سے غائب ہے اور پورا برطانیہ اسے ڈھونڈنے نکلا ہوا ہے کہ صاحب سانوں نہر والے پل پر کھڑا کرکے آپ خود کدھر نکل لیے۔

بھارت میں جسے وشوا گرو مودی صاحب (دنیا کا استاد) کا ٹائٹل ملا تھا کہ اب دنیا کے فیصلے ہم دلی میں کریں گے وہ اس وقت اپنے سپورٹرز کی شدید تنقید سن رہا ہے کہ ہمیں تو آپ نے دنیا میں اکیلا کر دیا حالانکہ کرنا پاکستان کو تھا۔ جس پاکستان کو اکیلا کرنے کا نعرہ مارا تھا وہاں تو امریکہ اور ایران بیٹھے اپنے گھریلو جھگڑے ورکنگ لنچ پر نمٹانے کی کوشش رہے ہیں۔

عمران خان بھی پاکستان کو دنیا کا عظیم ملک بنانا چاہتے تھے۔ اگر 2022 میں ان کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالی جاتی اور نہ ہٹایا جاتا تو شاید 2023 کے الیکشن میں وہ بھی ہنگری کے وزیراعظم کی طرح شکست تسلیم کررہے ہوتے کہ یار لگتا ہے لوگ آخرکار ہماری عظمت کی کہانیوں سے اکتا گئے ہیں۔

ہنگری کے عوام نے ٹرمپ اور پوٹن کے آگے ہاتھ جوڑے اور کہا ہم مزید عظیم بننے سے انکاری ہیں۔۔ ہم ہنگری کی عظمت کے بغیر بھی چنگے ہیں۔ ساڈی بس اے سوہنڑا۔۔ قبلہ معافی

About Rauf Klasra

Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.