یونان کا سکندر اعظم ابھی ٹین ایج میں تھا۔ باپ فلپس کوئی چھوٹی موٹی جنگ لڑنے گیا ہوا تھا۔ نوجوان بچہ مقدونیہ میں اس جگہ موجود تھا جہاں کچھ لوگ دور دراز سے وہاں آئے ہوئے تھے۔
وہ تجسس کا شکار ہو کر ان مسافروں سے ان کے آبائی علاقوں کے بارے میں پوچھنے لگا جہاں سے وہ آئے تھے۔ اس کی عادت کہیں یا شوق کہ وہ ہر باہر سے آنے والے مسافر یا تاجر سے ایک ایک تفصیل پوچھتا تھا کہ ان کی سلطنت یا ملک کتنا بڑا تھا۔ زمین کتنی زرخیز تھی، وہاں کتنی قوموں کے لوگ آباد تھے۔ ان کے آپس میں کیا اختلافات تھے، وہاں تک پہنچنے کا راستہ کون کون سا تھا، راستے میں کتنے دریا یا پہاڑ پڑتے تھے اور ان کو وہ لوگ کیسے عبور کرتے ہیں، قبصے اور گائوں کہاں کہاں تھے، وہ ان لوگوں سے ایک ایک بات پوچھتا رہا۔
سب سے بڑھ کر وہ پوچھتا تھا کہ ان علاقوں کے اہم لوگ کون کون سے تھے۔
دیکھا جائے تو آج کی جدید زبان میں سکندر معاشی، علاقائی، اسٹریجک انٹیلجنس اور خطے کے بارے معلومات اکھٹی کررہا تھا جو بعد میں اس کے کام آئیں جب اس نے ایرانی سلطنت فتح کرنے کے لیے فوجی چڑھائی کی جو اپنے دور کی بہت بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی۔
اگرچہ ایران کو فتح کرنے میں سکندر نے یونان کی قبائل کے خونخوار قبائل سے فوج اکھٹی کی تھی جو مقدونیہ کے شاہی خاندان کے وفادار تھے لیکن یہ بات اہم ہے کہ سکندر نے حملہ کرنے سے پہلے ایران کی سلطنت کے بارے ایک ایک خبر اکھٹی کی تھی، سب معلومات حاصل کی تھیں اور سلطنت کے کمزور حصوں پر جہاں حملہ کیا وہیں اس نے سلطنت کے اندر باہمی دشمنیوں اور لڑائی جھگڑوں کا فائدہ اٹھایا۔ قوموں پر حملوں سے پہلے تقسیم کرنی کی حکمت عملی میں بھی لوکل انٹیجلنس کا اہم کردار ہوتا ہے۔
اور ایک دن اسی سکندر نے ایران کی اس سلطنت کو فتح کیا جس کے بارے اس نے کبھی وہاں یونان میں آئے لوگوں سے شعوری یا لاشعوری طور پر انٹلجنس اکھٹی کی تھی۔ سکندر کی عادت تھی کہ کسی بھی مہم جوئی کے وقت وہ تیس کلو میٹر دور تک اپنے جاسوس پہلے ہی بھیج دیتا تھا جو خبریں واپس لاتے تھے کہ ان سے آگے کیا صورت حال تھی۔ وہ تجارتی قافلوں اور مسافروں کو بھی پکڑ کر پوچھ گچھ کرتے تھے کہ وہ جن علاقوں کی طرف فوج لے کر جارہا تھا وہاں انہوں نے کیا کیا دیکھا تھا اور سب سے بڑھ کر اس ملک یا علاقے کے اہم لوگ کون تھے جو فیصلے کرتے تھے۔
سکندر پہلے سے ہی فہرست تیار رکھتا تھا کہ اس ملک کے اہم اور فیصلہ ساز کون ہیں۔
سکندر نے ہمیشہ انسانی انٹیجلنس کو ہتھیار بنایا تھا۔
جب کہ اس کے مقابلے ہلاکو خان نے اپنی دہشت کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ہلاکو خان کی دہشت اس سے پہلے سفر کرتی تھی اور لوگ بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیتے لیکن معافی تب بھی نہ ملتی تھی جیسے بغداد کے خلیفہ معتصم باللہ کے ساتھ ہوا تھا جس نے اس شرط پر شہر کے گیٹ کھول دیے تھے کہ اس کی جان بخشی کی جائے گی۔ ہلاکو نے شرط مان لی اور جونہی منگول فوج کے لیے گیٹ کھولے گیے تو انہوں نے سب سے پہلے معتصم باللہ کو ہی اذیت ناک طریقے سے بلاک کیا تھا۔
اب دیکھا جائے تو اسرائیل نے بھی ایران کے ساتھ یہی کچھ کیا ہے جیسے سکندر نے ہزاروں سال پہلے ہیومین انٹیلجنس کی مدد سے شہنشہاہ دارا کے ساتھ کیا تھا۔ وہی بات آج بھی کہی جارہی ہے کہ اسرائیل کو جنگی سے زیادہ ایران پر انٹیجلنس میدان میں برتری رہی۔
کہتے ہیں کہ ایرانی سلطنت پر حملے سے پہلے سکندر کے پاس اس کے بارے سب انٹیلجنٹس موجودتھی کہ کون کون اہم عہدےدارہیں جوسلطنت چلارہے ہیں اور وہی سردار جنگ کے دوران مفرور شنشہاہ دارا کا سرکاٹ کر سکندر تک لائے تھے اور جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔
سوال یہ ہے کیا ایران نے ہزاروں سال پہلے سکندر اور دارا کی جنگوں سے کیا سبق سیکھا۔۔ ان کے ہاں کمزوری کہاں ہے جس سے اس کے دشمن آج تک فائدہ اٹھاتے آئے ہیں؟