یہ نئی بات سنی ہے کہ وزیراعلیٰ نے اپنی کارکردگی سے خوش ہو کر خود کو گیارہ ارب کے جہاز کا تحفہ دے دیا ہے۔ مریم نواز موازنے کے طور پر بہتر پرفارم کررہی ہیں۔ اگرچہ بعض ایشوز پر انہیں تنقید کا بھی سامنا ہے جس میں سی سی ڈی اور فضول خرچیاں شامل ہیں لیکن جب انہوں نے چند غیر مقبول فیصلے لیے تو ناقدین تک نے ان کی تعریف کی۔
یہ وہ موقع ہوتا ہے جب آپ نے خود کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے کہ آپ نے دو سال میں وہ کام کر دیے ہیں کہ آپ کے مخالفیں بھی داد دے رہے ہیں جیسے تجاوزات اور صفائی پراجیکٹس نے لوگوں کے دل پر اثر کیا۔ اچھے حکمران، ایک مرحلے پر جو کچھ حاصل کیا ہوتا ہے، اسے مضبوط کرتے ہیں۔ مخالفین ان کی تاک میں رہتے ہیں کہ کہیں کمزور یا لوز بال پھینکی جائے تو وہ اس کا فائدہ اٹھا کر اسے گراؤنڈ سے باہر پھینک دیں۔
یہی کام عمران خان نے بھی کیا تھا اور غیر ضروری کیا تھا جس کا نتیجہ وہ بھگت رہے ہیں۔ خان کو بھی ضرورت سے زیادہ اعتماد لے بیٹھا، جب انہوں نے بھی تحفے میں ملنے والی گھڑی بیچ دی۔ وہی خان جن کی ایک اپیل پر اربوں روپے اکٹھے ہو جاتے تھے، انہیں بھی کمزور لمحوں میں ایک گھڑی اپنے اوپر انسانوں کے اعتماد سے زیادہ مہنگی لگی اور وہ بھی بشریٰ صاحبہ کے ساتھ تحائف کے کھیل میں شریک ہو گئے اور جب پکڑے گئے تو جواب دیا کہ تحائف مجھے ملے، میری مرضی میں بیچوں یا رکھوں۔
یہی اعتراض میرا عمران خان پر رہا کہ لاکھوں لوگوں کا اعتماد اہم تھا یا ایک گھڑی؟ یہی سوال مریم نواز سے بھی پوچھنا چاہیے کہ بے شک دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوں لیکن عوام کو نہ لگے کہ ان کی وزیراعلیٰ نے گیارہ ارب کا جہاز لے لیا۔ یہ سب بات اعتماد کی ہے جو کسی صحافی یا سیاستدان کیلئے اہم ہوتا ہے۔
خان تو خود گیلانی صاحب والے ترکش لیڈی کے ہار کی کہانیاں مزے لے لے کر وزیراعظم بننے تک جلسے جلوسوں اور ٹی وی شوز میں سناتے تھے تو اپنی باری ایک گھڑی کی مار نکلے۔
میں نے برسوں کی رپورٹنگ کے تجربے سے سیکھا ہے کہ میں کسی کے بارے دس ارب کی خبر دوں عام لوگ اس خبر پر پہلے تو یقین نہیں کریں گے چاہے آپ پورے ثبوتوں سمیت خبر دیں لیکن اگر آپ کی کسی چھوٹی موٹی چوری کے بارے خبر دیں تو وہ سب زیادہ ہٹ ہوگی۔ لوگوں کو ان بڑے لوگوں سے چھوٹی حرکتوں کی توقع نہیں ہوتی کیونکہ چھوٹی موٹی وارداتیں وہ سب کر رہے ہوتے ہیں لہٰذا جب کوئی بڑا لیڈر یا وزیراعظم ان جیسی چھوٹی موٹی واردات کرتے پکڑا جاتا ہے تو انہیں لگتا ہے یار یہ تو اپنی طرح ہی نکلا، ہم خواہ مخواہ اسے بہت بڑا بندہ سمجھ کر اس کی عزت کرتے رہے۔ لہٰذا وہ اس خبر کو چسکے لے لے کر سنتے سناتے اور پھیلاتے ہیں۔
یہ جواب کسی ملک کا سرونگ یا سابق وزیراعظم نہیں دے سکتا اور نہ دینا چاہیے اور نہ ہی کوئی مانے گا اور نہ ماننا چاہیے کہ میرے تحائف یا میرے جہاز۔۔
آپ کسی بادشاہت کی گدی پر نہیں بیٹھے کہ بادشاہوں سے کوئی سوال جواب نہیں ہو سکتا۔ آپ ایک جمہوری انداز میں عوام سے کچھ وعدے اور ووٹ لے کر آئے ہیں اور آپ ان کو جواب دہ ہیں۔
عمران خان کی گھڑی بھی ان وارداتوں میں سے ایک تھی۔ ہر ایک کو لگا یار ہم بھی شاید یہی کرتے کہ گھڑی بیچ کر چند لاکھ کما لیتے لیکن انہیں زرداری صاحب کی دبئی سے ڈیوٹی فری منگوائی گئی گاڑیاں جو اُن کے بقول تحفہ ملا تھا، اس طرح سکینڈل محسوس نہیں ہوتا لیکن یوسف رضا گیلانی کا ترکش ہار آج تک نہیں بھولے۔
اس طرح لوگوں کو خان کی گھڑی نہیں بھولی تو مریم نواز کا جہاز بھی نہیں بھولے گا۔
سیاستدان اور سکینڈلز کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن سمجھدار سیاستدان اپنے مخالفوں کا کام اتنا آسان نہیں کرتے جیسے عمران خان نے کیا تھا یا اب مریم نواز نے کیا ہے۔