جیو ٹی وی کے قابل احترام ایم ڈی اظہر عباس نے حیران کن ٹوئٹ کیا ہے کہ جیو ٹی وی کو خوبصورت آواز کی مالک آشا بھوسلے کے انتقال پر ایک پیکج آن ائر کرنے پر نوٹس دے دیا گیا ہے کہ بھارتی گلوکارہ پر ڈیرہ دو منٹ کا پکیج چلا کر ان کی اس خطے میں موسیقی سے محبت کرنے والوں کی طرف سے خراج تحسین کیوں پیش کیا گیا؟
اگر یہ ٹوئٹ اظہر عباس نے نہ کیا ہوتا تو مجھے یقین نہ آتا۔ کبھی لگتا ہے ہم خوفناک اندھیروں اور بھنور سے نکل آئے ہیں تو کبھی لگتا ہے نہیں ہم ابھی وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک قدم آگے تو دس پیچھے۔
آشا جی، لتا جی، رفیع صاحب، کشور کمار یا میکش جی سب ہمارا مشترکہ سرمایہ ہیں جنہوں نے ہماری نسلوں کو entertain کیا ہے۔ ان کے انتقال پر ہمارا افسوس اور تعزیت یا انہیں ٹریبوٹ کرنا ہمارا بنتا ہے۔
چاہئیے تو یہ کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف خود ٹوئٹ کرکے ان کے انتقال پر تعزیت کرتے اور ان کی موسیقی کے لیے خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے لیکن الٹا ان کی وزارت اطلاعات کے نیچے کام کرنے والے پیمرا نے جیو ٹی وی کو ہی نوٹس جاری کر دیا۔
اس سے زیادہ ہمارا ذہنی، سماجی اور حس جمال کا دلوالیہ پن کیا ہوگا؟
اکثر کچھ دوست کہتے ہیں آپ کچھ بھی کر لیں آپ جنرل ضیاء کی وراثت سے اگلے ایک سو برس بھی چھٹکارہ نہیں پاسکتے جب 1980 کی دہائی میں وی سی آر پر فلم دیکھنا ایک جرم تھا۔
پاکستانی پولیس ہر گائوں اور شہر کے دکانوں پر چھاپے مار کر فلمیں دیکھنے والوں کو گرفتار کرتی تھی۔ رات کو چھپ کر فلمیں دیکھنے والے پولیس چھاپے کا سن کر دوڑ جاتے تھے اور پولیس وی سی آر اور تین فلمیں قبضے میں لے کر تھانے جا کر خود وی سی آر پر بقیہ رات وہی فلمیں دیکھتے جبکہ جنرل ضیاء جن کے حکم پر یہ چھاپے پڑتے تھے وہ خود اپنے راولپنڈی گھر میں بھارتی اداکار شتروگھن سہنا کی میزبانی کرکے فیملی فوٹو کھنچواتے تھے۔
ہم سب جنرل ضیاء کو بھولنے کی بہت کوشش کرتے ہیں جس کے دس برسوں نے اس معاشرے کو ایب نارمل کر دیا تھا۔ ہم جتنی کوشش کر لیں لیکن آج AI دور میں بھی کوئی نہ کوئی پاکستانی سرکاری ادارہ ہمیں ٹھڈے مار کر یاد دلاتا ہے کہ ابھی جنرل ضیاء زندہ ہے۔ جنرل ضیاء کی روح، سیاسی، روحانی اور سرکاری باقیات آج بھی زندہ ہیں۔