معاشی امور سے نابلد ہونے کے باوجود بدھ کی صبح اخبارات کی سرخیاں پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ منگل کی شام 2025-26کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اورنگزیب صاحب نے سانس لینے کے علاوہ پاکستان میں تقریباََ ہر شے پر ٹیکس لگادیا ہے۔ ریاست کا وجود اور بقاء ٹیکسوں کے حصول کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ سوال مگر یہ اٹھانا بھی لازمی ہے کہ جو رقم مجھ دیہاڑی دار اور کم آمدنی والوں سے ریاست جگاٹیکس کی صورت وصول کررہی ہے اس کے عوض بطور "شہری" ہمیں کیا سہولت وتحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لئے محاورے والی دیگ کا محض ایک دانہ چکھ لیتے ہیں۔
2025-26ء کے مالیاتی سال کے لئے بجٹ تجاویز منگل کی شام 5بجے پیش ہونا تھیں۔ مزید بڑھنے سے قبل اس امر پر بھی غور کرلیتے ہیں کہ بجٹ صبح یا دوپہر کے بجائے شام ہی کو پیش کیوں ہوتا ہے۔ آپ کو جواب معلوم نہیں تو عرض کئے دیتا ہوں کہ سالانہ بجٹ کو جو منظر عام پر لانے سے قبل انتہائی "خفیہ اور حساس" دستاویز شمار ہوتی ہے اسے شام پانچ بجے پیش کرنے کی عادت برطانوی سامراج نے ہمارے خطے پر حکمرانی کے دوران متعارف کروائی تھی۔ یہ روایت اس نے "مادرِ وطن" سے مستعارلی جہاں لندن کا اسٹاک ایکس چینج صبح نو بجے کھل کر شام پانچ بجے بند ہوتا تھا۔
شام پانچ بجے سے قبل بجٹ پیش کرنے سے اس لئے گھبرایا جاتاکیونکہ اس میں پیش کردہ ٹیکس تجاویز عیاں ہونے کے بعد سٹے باز چند کمپنیوں کے حصص وحشیانہ اندازمیں بیچنے یا خریدنے کی وجہ سے مارکیٹ میں "بحران" پیدا کرسکتے تھے۔ لندن کا اسٹاک ایکس چینج یاد رہے کہ ان دنوں دنیا کا طاقتور اوررحجان ساز ایکس چینج تصور ہوتا تھا کیونکہ وہ ایک ایسی "ایمپائر یا سلطنت" کے دارالحکومت میں واقع تھا جس کے زیر نگین علاقوں میں برٹش انڈیا سمیت افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے علاوہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھی شامل تھے۔ اس کے سٹاک ایکس چینج کو معمول کے مطابق اور "قابو"میں رکھنا سامراج کی مجبوری تھی۔
1947ء میں جھنڈے کی تبدیلی سے خود کو "آزاد" ملک تصور کرلینے کے باوجود ہم سامراج کی متعارف کردہ ریاست برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس روایت کو ناپسند کرنے کے باوجود مجھے شام پانچ بجے سے قبل قومی اسمبلی پہنچنا تھا۔ پریس گیلری میں بیٹھ کر بجٹ تقریرسننا بجٹ کے اعدادوشمار کے علاوہ بے شمار چیزیں آپ کے سامنے عیاں کرتا ہے۔ 1990ء کے وسط تک صحافیوں کی محدود تعداد پارلیمانی کارروائی رپورٹ کرنے کے قابل گردانی جاتی تھی۔
اب ایسے رپورٹروں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوچکا ہے۔ صحافیوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ مگر اراکین پارلیمان نے بتدریج خود کو پارلیمان ہی میں موجود ایسے کونوں کھدروں تک محدود رکھنا شروع کردیا جہاں صحافیوں کی رسائی ممکن نہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کی بے پناہ اکثریت دل سے اب صحافیوں کی عزت بھی نہیں کرتی۔ انہیں "بکاؤ مال" تصور کرتے ہوئے سرسری سلام دُعا کے قابل بھی نہیں سمجھتی۔ دیانتداری سے یہ اعتراف کرنے کو بھی مجبور ہوں کہ اپنی قدروعزت گنوانے میں ہم اخبار نویس بطور کمیونٹی ذمہ دار ہیں۔ سیاستدانوں کی رعونت ہماری ناقدری کی واحد وجہ نہیں۔
پریس گیلری پہنچ کر بھی ان دنوں وزیر خزانہ کی تقریر سننا ناممکن ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی کے بعد سے ہر حکومت کو بجٹ پیش کرنے کے دن اپوزیشن کے شورشرابے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سلسلہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ مزید ناقابل برداشت ہوتا چلا گیا۔ ان دنوں قومی اسمبلی میں عددی اعتبار سے عمران خان کی بنائی تحریک انصاف واحد اکثریتی جماعت ہے۔ اس نے مگر حکومت بنانے سے انکار کردیا تو شہباز شریف کو اِدھر اُدھر سے تنکے جمع کرکے موجودہ حکومتی بندوبست تشکیل دینا پڑا۔ جو حکومتی بندوبست ان کی قیادت میں چل رہا ہے وہ عمران خان کو جیل میں رکھنے کو بضد ہے۔
اس ضد کے ردعمل کے طورپر تحریک انصاف کے اراکین پارلیمان بجٹ دستاویز کو ڈیسکوں پر زور سے مارتے ہوئے اپنے قائد کی رہائی کے نعرے بلند کرتے ہوئے وزیر خزانہ کی تقریر کو پریس گیلری میں بیٹھ کر سننے کے ناقابل بنادیتے ہیں۔ پریس گیلری میں صحافیوں کی کثیر تعداد اپنی نشستوں پر فقط یہ دیکھنے کو بیٹھی رہتی ہے کہ تحریک انصاف کے کتنے اراکین واقعتا "پرجوش" ہیں اور ان میں سے چند افراد کے اہم وزراء کے ساتھ "بدن بولی" کے ذریعے کونسے پیغامات کا تبادلہ ہورہا ہے۔
پریس گیلری میں بیٹھ کر وزیر خزانہ کی تقریر سننے کی ہوس میں یہ قلم گھسیٹ چار بجے کے قریب پارلیمان ہائوس کے قریب پہنچ گیا تاکہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے اسمبلی کی راہداریوں میں چند متحرک سیاستدانوں سے اچانک ملاقات کی بدولت کوئی "اندر کی خبر" مل جائے۔ پارلیمان ہائوس اسلام آباد کی "شاہراہ دستور" پر واقع ہے۔ اسی سڑک پر ایوان صدر، وزیر اعظم کا گھر اور دفتر کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے دفاتربھی ہیں۔ مجھ جیسے لوگ عموماََ پاک سیکرٹریٹ کے سامنے واقع پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر کی عمارت کے سامنے سے گزرکر پارلیمان ہائوس کی جانب بڑھتے ہیں۔
منگل کی سہ پہر چار بجے مگر اس راستے کو پولیس نے رکاوٹیں لگاکر بند کردیا تھا۔ وجہ اس کی سرکاری ملازموں کا ایک جلوس تھا۔ اس کے شرکاء کی تعداد کسی بھی صورت 500سے زیادہ افرادپر مشتمل نہیں تھی۔ وہ تشدد کو مائل بھی نظر نہیں آرہے تھے۔ اسلام آباد پولیس انہیں بآسانی گھیرے میں لے کر کسی مخصوص جگہ تک محدود رکھ سکتی تھی۔ اپنے فرض پر توجہ دینے کی بجائے پولیس نے مگر پارلیمان تک رسائی ناممکن بنادی۔ دلاسہ اگرچہ یہ دیا کہ کنونشن سنٹر کے مقام سے شاہراہ دستور میں داخل ہوا جاسکتا ہے۔
اسلام آباد کے جغرافیے سے ناواقف افراد کو سمجھانا بہت مشکل ہے کہ سیکرٹریٹ سے کنونشن سنٹر کتنا دور ہے۔ بہرحال پریس گیلری میں بیٹھنے کی ہوس میں تپتے سورج تلے یہ سفر(اگرچہ گاڑی میں بیٹھے) کرنا پڑا۔ اس مقام کو بھی لیکن ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا تھا۔ وہاں تعین پولیس کی نفری کو مجھے یہ سمجھانے میں بہت دیر لگی کہ جس جلوس سے وہ گھبرائے ہوئے ہیں اس کا ڈی چوک تک پہنچنا ممکن نہیں رہا۔ مجھ جیسے لوگوں کے لئے اگر یہ سڑک کھول دی جائے تو ہم بآسانی پارلیمان پہنچ سکتے ہیں۔ تپتے سورج کے تلے 20منٹ تک کھڑے ہوئے میں فریاد کرتا رہا کہ خدارا اپنے ہاتھ میں رکھے وائرلیس استعمال کرو اور سڑک کے دوسرے کنارے پر موجود نفری سے رابطہ کرکے جان لو کہ میں درست کہہ رہا ہوں یا نہیں۔
مجھے تنخواہ کا چیک جاری کرنے سے قبل اس پر واجب ٹیکس منہا کرلیا جاتا ہے۔ اس "ٹیکس گزار" کی فریاد کو جو عمر کے آخری حصے میں ہمارے نام نہاد "مہذب" کہلاتے معاشرے میں "بزرگ" شمار ہونا چاہیے، ناکے پر تعین نفری "حقارت" سے نظرانداز کرتی رہی۔ بالآخر میں اپنی آواز بلند کرنے کو مجبور ہوا تو کافی لمبی تقریر کے بعد ایک چھوٹے افسر کو اس امر پر قائل کرپایا کہ وہ سیکرٹریٹ کے قریب لگے نا کے کی نفری سے وائرلیس کے ذریعے پتہ کرلے کہ ملازموں کا جلوس پارلیمان تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔ صاحب بہادر کا دل مہربان ہوا تو مجھے پارلیمان ہائوس تک جانے کی اجازت مل گئی۔ یقین مانیں ناکے کے مقام سے پارلیمان کے چوک تک ساری سڑک خالی تھی۔
جو ریاست "شاہراہ دستور" کو بجٹ پیش ہونے کے دن بھی رواں رکھنے میں ناکام رہے اسے سانس لینے کے علاوہ ہر ممکن شے اور عمل پر ٹیکس لگاتے ہوئے کچھ شرم محسوس کرنی چاہیے۔