سوشل میڈیا پر شور مچا ہوا ہے کہ فلاں چینل سے اتنے صحافی نکال دئیے گئے اور فلاں چینل سے اتنے۔ د لچسپ امر تو یہ ہے کہ اس چینل کا زیادہ شور مچا ہوا ہے جس کے بارے مشہور ہے کہ اس میں سب سے زیادہ سہولتیں اور تنخواہیں دی جا رہی ہیں، جہاں سب سے زیادہ بونس لگ رہے ہیں۔ ہم اس چینل کے مالک کے ساتھ غالباً ایک برس پہلے گپ شپ کر رہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے، مجھے علم ہے کہ صحافت بطور کاروبار گھاٹے کا سودا ہے اور جو یہ گھاٹا نہ اٹھا سکتا ہو اسے اس کاروبار میں آنا ہی نہیں چاہئے۔
میں نے ان کے چینل کے ایک ذمے دار سے گذشتہ رات ایک کھانے کی میز پر کہا کہ ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہیں جواب نہیں دینا چاہئے تھا کیونکہ میڈیا ایکسپرٹ کے طور پر میں جانتا ہوں کہ خبر ہمیشہ اپنے ردعمل سے چھوٹی یا بڑی ہوتی ہے، جس خبر کا ردعمل بڑا ہوگا وہ بڑی ہوجائے گی اور جس کا ردعمل چھوٹا وہ چھوٹی۔ کیا یہ دلچسپ نہیں کہ جس چینل سے ابھی کوئی بندہ عملی طور پر نکالا نہیں گیا اس کا سکینڈل بن گیا اور جس نے ڈیڑھ سو سے زائد ورکر فارغ کر دئیے اس کا کوئی ذکر ہی نہیں کر رہا۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس چینل کا واویلا اس لئے زیادہ ہوگا کہ اس کا مالک ایک سیاسی شخصیت ہے۔
کیا آپ کو یاد ہے کہ اسی سیاسی شخصیت کی ہاؤسنگ سوسائٹی کے چند بلاکس سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے تھے تو کیسا شور مچا تھا حالانکہ یہ پاکستان کی واحد ہاوسنگ سوسائٹی تھی جس نے اپنے خرچے پر بند بنایا، اپنے رہائشیوں کو سامان کی منتقلی ہی نہیں بلکہ سیلاب کے دنوں میں ہوٹلوں تک میں رہائش کی سہولت دی، اس دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جبکہ دوسری طرف آبادیوں کی آبادیاں ڈوب گئی تھیں اور کسی نے حال تک نہ پوچھا تھا۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر وائرل سٹوری کے پیچھے ایک اورسٹوری ہوتی ہے جو زیادہ سچی اور زیادہ دلچسپ ہوتی ہے مگر بعض اوقات ناقابل بیان۔
میں بطور صحافی تین عشروں اور بطور ایڈیٹر تین برس کے تجربے کے بعد دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اخبارات اور ادارے بچائے جا سکتے ہیں، بہرحال، یہ بات بھی درست کہ اس وقت میڈیا ہاؤسز کو مسائل کا سامنا ہے جن میں معاشی مسائل سب سے بڑے ہیں مگر مجھے ایک بات کہنے دیجئے کہ ان مسائل میں بھی دو کرداروں کا ذکر بہت زیادہ ضروری ہے۔ پہلے کردار مالکان ہیں کہ اگر آپ میڈیا ہاؤسز کے مالک بن کے اہمیت لیتے ہیں، اس کے ذریعے دیگر کاروباری فوائد سمیٹتے ہیں تو پھر آپ کو اس کی قیمت بھی دینی ہوگی اور بہت سارے اچھے مالکان یہ قیمت بخوشی ادا کر رہے ہیں مگر میں اس سے بھی آگے بڑھ کے بات کرتا ہوں کہ میڈیا میں Survival of the fittest کی تھیوری چل رہی ہے لہٰذاآپ کو اس Cut throat Competition میں اپنی جگہ بنانی ہوگی ورنہ آپ ختم ہوجائیں گے۔
راز کی بات یہ بھی ہے کہ اس وقت صحافتی اداروں کی اسی سے نوے فیصد تک بقا حکومتی اشتہارات پر ہی ہے کہ اگرٹاپ کے دو، چار اداروں کو نکال دیا جائے تو باقی سب حکومتی اشتہارات کے بغیر تین ماہ بھی نہیں نکالیں گے اور بند ہوجائیں گے کیونکہ اشتہارات تیزی کے ساتھ پرنٹ ہی نہیں بلکہ الیکٹرانک میڈیا سے بھی سوشل میڈیا کی طرف جا رہے ہیں۔ ایسے میں اخبارات کے مدیران اورچینلوں کے سی ای اوز پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی صحافت میں توازن برقرار رکھیں۔
یہ ایک عملی بات ہے کہ آپ کا بزنس ڈپیارٹمنٹ کسی ایک پارٹی سے ایک، دو یا پانچ لاکھ کا اشتہار بھی لاتا ہے تو اس پارٹی کے مفادات کا خیال رکھتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ حکومت سے کئی کئی ملین کا بزنس ہر ماہ لے رہے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ اس کلائنٹ کی یکطرفہ ایسی تیسی بھی کر رہے ہوں، ا س کا موقف تک دینے کو تیار نہ ہوں۔ ہمارے ایک استاد کہا کرتے ہیں کہ وہ صحافی ہی کیا جو بات کہہ جائے اور پکڑا بھی جائے۔
میں ایک بڑے انگریزی ادارے کے ایڈیٹر کا سوشل میڈیا پر بار بار شئیر ہونے والا بیان دیکھ رہا تھا، افسوس، انہوں نے اپنی بہت ہی معیاری اردو ویب سائیٹ بند کروا دی اور اب وہ اسے آزادی صحافت قرار دے رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ صحافت کی آزادی ہی ہو کہ آپ جو کچھ کہنا چاہتے ہیں وہ مادر پدر آزادی کے ساتھ کہہ رہے ہوں چاہے وہ اپنی فوج کے شہیدوں کو شہید کہنے سے انکار ہی کیوں نہ ہو مگر کوئی بھی آزادی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی اور میں کسی ایڈیٹر کو یہ کریڈٹ لینے کی اجازت نہیں دے سکتا کہ اس کی مہم جوئی یا نان پروفیشنل ازم کی وجہ سے اس کا ادارہ دیوالیہ اور اس کے کارکن بے روزگار ہو رہے ہوں، میرے خیال میں ایسی صورتحال پیدا ہو رہی ہو تو اس ایڈیٹر کو سب سے پہلے بے روزگار ہونا چاہیے۔
اپنی رائے میں ایک توازن ضروری ہے مگر اس میں مضحکہ خیز حد تک عدم توازن بھی نہیں ہونا چاہئے۔ میرے پاس روزانہ صبح ایک اخبار آتا ہے جس کے ایڈیٹر بہت بڑے اور بزرگ یوتھیے ہیں مگر ان کا اخبار حکومتی مالش میں اس حد تک آگے ہوتا ہے کہ شائد ہی کسی روز حکومتی عہدیداروں کابیان لیڈ اور سپر لیڈ نہ ہو۔
ایک ٹریڈ یونین اپروچ یہ بھی ہے کہ آپ سب کچھ سیٹھ پر ڈال دیں کہ وہ بہت برا ہے مگر میرا سوال ہے کہ یہی سیٹھ صحافت میں آیا تو صحافیوں کی تنخواہوں میں کئی کئی گنا اضافہ ہوا، ورنہ میں نے پرنٹ میڈیا کی جرنلزم بھی کی ہوئی ہے اور اچھی طرح جانتا ہوں کہ پرنٹ سے الیکٹرانک میڈیا میں آنے سے تنخواہ میں کتنا بڑا جمپ ملتا تھا، آج بھی الیکٹرانک میڈیا کی تنخواہیں اخبارات سے کہیں زیادہ بہتر ہیں مگر ہمیں ماننا ہوگا کہ بہت سارے میڈیا مالکان کا اب شوق پورا ہو چکا ہے، ان کا دل بھر چکا ہے، وہ اس کی حقیقت جان چکے ہیں کہ اس میں مصیبت زیادہ اور راحت کم ہے مگر اس کے باوجود یہ منہ کو ایسی لگی ہے کہ رکھی بھی نہیں جاتی اور چھوڑی بھی نہیں جاتی۔
مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں آج کی ناکامی مالکان کی نہیں بلکہ ان چرب زبان صحافیوں کی ہے جنہوں نے مالکان کو سنہرے خواب دکھائے اور پھر وہ خواب پورے نہ کر سکے۔ ایسے چرب زبان صحافی خود لاکھوں اور کروڑوں لے جاتے ہیں مگر جب مشکل وقت آتا ہے کہ تو مالک کے سامنے اخراجات پورے کرنے کے لئے تیس تیس اور چالیس چالیس ہزار ماہانہ لینے والے کارکنوں کی فہرستیں رکھ دیتے ہیں کہ ان کے نکال دینے سے بزنس لاسز کم ہوجائیں گے۔ صحافیوں کے بہت سارے مسائل جنگل کے وہ مسائل ہیں جن میں لوہے کا کلہاڑا جنگل کے درخت اس لئے کاٹ رہا ہوتا ہے کیونکہ اس میں لکڑی کا ہی دستہ لگا ہوتا ہے۔
جاری ہے۔۔