Monday, 31 August 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Muqadas Bhoomi Ki Behas

Muqadas Bhoomi Ki Behas

اردو نثر پر کامل گرفت کے حامل افراد سے حسد کی حد تک گھبراجاتا ہوں۔ کالم نگار وجاہت مسعود کا شمار بھی اس حوالے سے مجھے مرعوب کرنے والے لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ ان سے ملاقات سے کئی برس قبل ہی ان کے رعب میں مبتلا ہوچکا تھا۔ بسااوقات ان کی رائے سے شدید اختلاف کے باوجود ان کے کالموں کو نظرانداز اس لئے بھی نہ کرپایا کیونکہ انہیں پڑھتے ہوئے اردو کے چند ایسے الفاظ کا بھی علم ہوجاتا ہے جو عموماََ سننے اور پڑھنے کو نہیں ملتے۔ ان کے کالم پڑھنے سے قبل دائیں ہاتھ پر ہمیشہ ان کے استعمال کردہ چند الفاظ کے معنی جاننے کے لئے اردو لغت رکھنا پڑی۔

ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال کے چند بے تکلف دوستوں کے طفیل دنیا کے مختلف دقیق معاملات پر ان کی گفتگو سننے کے مواقع ملے ہیں۔ ان کے خیالات کی ندرت اور سادہ پنجابی میں انہیں برجستہ بیان کرنے کی خوبی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ چند ماہ قبل انہوں نے علم معیشت جیسے خشک موضوع پر تسلسل سے چند کالم لکھے۔ ان کے بیشتر خیالات سے اختلاف کے باوجود زبان پر ان کی گرفت نے مجھے چونکادیا۔ مزید حیرانی ان کے کالم پڑھتے ہوئے اس امر پر بھی ہوئی کہ ان کی لکھی اردو کو فارسی کے اساطیری شاعر رومی، حافظ اور سعدی نے بھی گہرائی فراہم کررکھی ہے۔

اگست کے مہینے میں لنگڑیال صاحب نے قیام پاکستان کے حوالے سے سود و زیاں کا حساب لگانے کو چند کالم لکھے۔ سود و زیاں کی مشق کی طرف بڑھنے سے قبل مگر مسلم شناخت کے حوالے سے قیام پاکستان کو تاریخی اعتبار سے ناگزیر ٹھہرایا۔ مذکورہ تناظر میں وجاہت مسعود نے قیام پاکستان سے قبل برطانوی ہند میں مقبول سیاست کو مذہبی تفریق بھڑکانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کا خیال تھا کہ اصولی اور پرخلوص جمہوری رویے اور نظام مذہبی نفرتوں کو سیاسی اعتبار سے بتدریج ختم کرسکے تھے۔ ہمارے ہاں مگر ایسا نہیں ہوپایا۔

اردو نثر کے علاوہ عمر تمام انگریزی اخبارات کے لئے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹنگ کرنے والے اس کم علم کوتاریخ زیر بحث لاتے ہوئے بھی ہمیشہ خوف آتا ہے۔ چند کتابوں کے سرسری مطالعے کے بعد تاریخی تضادات کے بارے میں رائے دینے کی جسارت کے لئے جو ڈھٹائی درکار ہے مجھے میسر نہیں۔ ہرگز اس قابل نہیں ہوں کہ وجاہت مسعود اور لنگڑیال صاحب کے مابین جمہوری نظام کے طفیل تکثریت یا سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیں مذہبی اور ثقافتی شناخت سے بالاتر ہوکر ریاست کے تمام شہریوں کو برابر تسلیم کرنے کے حوالے سے جو بحث چھڑی ہے اس میں کس کا استدلال معقول سنائی دیتا ہے۔

لنگڑیال صاحب کے حالیہ مضمون میں البتہ 1937ء کے برس برطانوی ہند میں ہوئے انتخابات کے نتیجے میں مختلف صوبوں میں کانگریسی حکومتوں کے قیام کا ذکر ہوا ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ مذکورہ حکومتوں کے دوران اکثریتی جماعت کی جانب سے ڈھٹائی کے ساتھ مسلط کی ہندو عصبیت نے بالآخر 1940ء کی قرارداد اور 1947ء میں تقسیم کو ٹھوس جواز فراہم کئے۔ یہ کالم مگر لنگڑیال صاحب یا پیارے وجاہت مسعود میں سے کسی ایک کے دفاع میں نہیں لکھ رہا۔ ہفتہ 29اگست کی صبح لنگڑیال صاحب کا کالم پڑھتے ہوئے ایک سوال اچانک ذہن میں کوندا اور ابھی تک وہیں اٹکا ہوا ہے۔ اسے ا?ج کے کالم میں بیان کئے بغیر فکری بدہضمی اور خلفشار سے جند چھڑانہیں پاؤں گا۔

ہندو مسلم کی تفریق کو ہندوتوا نے وحشت سے بھڑکایا۔ مہاراشٹر کے برہمن خاندان میں پیدا ہوا ونائیک دامودرساورکر ہندوتوا سوچ کے بانیوں میں شامل ہے۔ اپنے انتہا پسندانہ خیالات اور سیاست کی وجہ سے 1910ء میں گرفتار ہوا۔ سامراجی سرکار نے اسے عمر قید کی سزا سنائی اور کالا پانی یعنی انڈیمان جزیرے بھیج دیا۔ اپنی گرفتاری کے دوران اس نے "ہندوکون ہے" کی تعریف ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ جو سوچا وہ 1923ء میں ایک کتاب کی صورت مرتب کردیا۔ اپنے حالیہ مضمون میں لنگڑیال صاحب نے اس کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ساورکر کی نگاہ میں ہندو کی پدری سرزمین بھارت ہونی چاہیے۔ علاوہ ازیں اس کی مقدس بھومی بھی بھارت ہونا ضروری ہے۔ ساورکرکے طے کئے اصولوں کی روشنی میں لنگڑیال صاحب نے درست بنیادوں پر اصرار کیا کہ بھارتی مسلمانوں کی پدری سرزمین بھارت ہوسکتی ہے۔ ان کی مقدس بھومی مگر بھارت نہیں۔ ہمارا قبلہ بلکہ اس کے جغرافیے سے باہر ہے۔ یوں مسلمان کا "جرم" اس کا فعل نہیں اس کا ایمان ہے اور بقول لنگڑیال صاحب "جہاں فردِ جرم ایمان پر ہو وہاں کوئی وکیل صفائی کام نہیں آتا۔ "

پدری سرزمین اور مقدس بھومی کے الفاظ پڑھے تو میں ہندو-مسلم تضادات کو یکسر فراموش کرتے ہوئے ایک اور سوال پر توجہ دینے کو مجبور ہوگیا جس کا وجاہت مسعود اور لنگڑیال صاحب کے مابین چھڑے فکری مباحثے سے دور پرے کا بھی تعلق نہیں تھا۔ ہندو-مسلم کے علاوہ پنجاب سے مذہبی شناخت کے حوالے سے سکھ مت بھی اُبھراتھا۔ سکھوں کی پدری سرزمین یقیناََ بھارت ہے۔ "مقدس بھومی" کے حوالے سے مگر ان کا آج کے بھارت سے تعلق جوڑنا نہایت مشکل ہے۔ ساورکرکے "ہندو کون ہے؟" کے پیمانے سے غور کیا جائے تو ان کے مقدس مقامات آج کے پاکستان میں ہیں۔ ننکانہ صاحب، حسن ابدال اور کرتارپور سکھ مذہب کے بانی باباگورونانک کی ذات کے حوالے سے ان کیلئے مقدس ترین ہیں۔

آج کا بھارت وسیع تر معنوں میں گویا سکھوں کی بھی ساورکر کی سوچ کے مطابق "مقدس بھومی" نہیں۔ یہ نکتہ ذہن میں کوندا تو 1984ء کا برس یاد آگیا۔ ان دنوں کی بھارتی وزیر اعظم اس برس اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل ہوئی تھی۔ مذکورہ قتل کے دو ہفتے گزرجانے کے بعد میں زندگی میں پہلی بار بھارت گیا تھا۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی جابجا خاکستر عمارتیں نظر آئیں۔ اندرا کے قتل کی وجہ سے پھیلے اشتعال کی بدولت دلی میں تین دنوں تک قتل عام جیسے حالات رہے۔ سکھوں کے مکان اور دکانیں لوٹ کر جلادی گئی تھیں۔ مجھے بے تحاشہ ایسے سکھوں سے بھی ملنے کا موقع ملا جنہوں نے جان بچانے کے لئے اپنی مذہبی شناخت -پگڑی، لمبے بال اور داڑھی- کو مٹادیا تھا۔

"مقدس بھومی" کے لفظ پر غور کرتے ہوئے مسلسل اس فکر میں مبتلا ہوں کہ ہندوتوا بھارت کو مذہبی نفرت کی بنیاد پر بالآخر ایک اور بٹوارے کی جانب بھی دھکیل سکتی ہے۔ اس کے پاکستان پر کیا اثرات ہوسکتے ہیں؟ ان کے بارے میں سوچنے کا حوصلہ نہیں۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.