Thursday, 06 May 2021
  1.  Home/
  2. Nusrat Javed/
  3. Mamta Ne Magar Himmat Nahi Haari

Mamta Ne Magar Himmat Nahi Haari

ہندو انتہا پسندی کے جنونی "پرچارک" کی شناخت کے ساتھ شروع ہوئے نریندر مودی کے بارے میں اس صدی کے آغاز سے یہ تاثر اجاگر ہونا شروع ہوا کہ انتخابی میدان میں اسے شکست سے دو چار کرنا ممکن نہیں۔ بھارت کی وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر بالآخر 2014میں پہنچ کر اس تاثرکو اس نے ٹھوس حقیقت کی صورت دینا شروع کردی۔ پانچ سال بعد ہوئے انتخاب میں بھی اس نے اپنے سیاسی مخالفین کو حواس باختہ کردیا۔ اس کے بعد گماں یہ پھیلنا شروع ہوا کہ مودی کے "طلسم" کا توڑ اب ممکن ہی نہیں۔

بھارت کی سیاسی حرکیات پر گہری نگاہ رکھنے والوں کا اگرچہ اصرار رہا کہ مودی کی ذات سے کوئی "طلسم" ہرگز وابستہ نہیں ہے۔ اس کی جماعت نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے "ہندو دھرم خطرے میں ہے" کی دہائی مچائی۔ مبینہ خطرے کا واویلا مچاتے ہوئے دیگر جماعتوں کو بھارتی مسلمانوں کے "ناز نخرے" اٹھانے میں مبتلا دِکھایا۔ مودی اور اس کے کارندے بضد رہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے دوران تمام "ہندو" اگر یکسو ہوکر کسی ایک جماعت کی حمایت میں ووٹ ڈالیں تو مسلمان اپنی "اوقات"میں آجائیں گے کیونکہ اوسطاََ ہر انتخابی حلقے میں ان کی تعداد 20فی صد سے زیادہ نہیں۔

اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اُگلتے ہوئے اس کی جماعت 2014سے مرکز اور بھارت کے کئی صوبوں میں برسر اقتدار ہے۔ سیاسی مبصرین کی بے پناہ اکثریت مایوسی میں تسلیم کرتی رہی کہ مودی کا عروج عالمی سطح پر ابھرتے اس رحجان کا حقیقی نمائندہ بھی ہے جو ٹرمپ جیسے نسل پرستوں کو "عوام کی حمایت" سے برسراقتدار لاتا ہے۔ ایسے افراد خود کو "قوم پرستی" اور "حب الوطنی" کے حتمی اجارہ دار بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کی سیاست پر تنقید کرنے والوں کو "غدار" پکارا جاتا ہے۔ روایتی میڈیا "بزنس ماڈل" کی وجہ سے ایسے رہنمائوں کے نقادصحافیوں کو نوکریوں سے نکالنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یوں ہمہ وقت مودی جیسے حکمرانوں کی شخصیت کے بارے میں "بلے بلے" کا ماحول بنا رہتا ہے۔ یہ ماحول بالآخر "تبدیلی" کی امید کا خاتمہ کردیتا ہے۔ عوام کی بے پناہ اکثریت اپنے ہی منتخب کردہ حکمرانوں کے روبرو شہنشاہوں کی رعایا کی طرح سرجھکا دیتی ہے۔

فارسی کا ایک محاورہ مگر اصرار کرتا ہے کہ ہر عروج کا زوال بھی یقینی ہے۔ بھارتی سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے میں یہ دعویٰ کرنے کو مجبور ہوں کہ اتوار کے روز بھارتی بنگال کی صوبائی اسمبلی کے لئے ہوئے انتخاب کے نتائج نے مودی کے نام نہاد "طلسم" کو بالآخر توڑ دیا ہے۔ مودی سے نجات پانے کے بے شمار راستے اب اس کی مخالف سیاسی جماعتوں کو نظرآنا شروع ہوجائیں گے۔

نئے امکانات کے درکھولنے کا تمام تر کریڈٹ بھارتی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنیرجی کو جاتا ہے۔ وہ 2011سے اپنے صوبے میں برسراقتدار ہے۔ نریندر مودی اور اس کے "چانکیہ"-امیت شا- کو یقین تھا کہ 2021میں بھارتی بنگال کی صوبائی اسمبلی کے لئے جو انتخابات ہوں گے بھارتیہ جنتا پارٹی انہیں بآسانی جیت جائے گی۔ ممتا گزشتہ دس برس سے اپنے صوبے میں برسراقتدار ہے۔ اس کے کئی نامور چمچے ایسی حرکات میں بھی ملوث رہے جن کی وجہ سے وہ میڈیا اورعوام کی نظروں میں بھتہ خور "دادا" مشہور ہوئے۔ بھارتی بنگال میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے محض "گڈ گورننس" کی خواہش کا اظہار کرنے کے بجائے مودی اور اس کی جماعت نے تمام تر توجہ مگر بھارتی بنگال میں ہندو مسلم نفرت ابھارنے تک مرکوز رکھی۔ ممتا بنیرجی پر مسلسل الزام لگایا گیا کہ وہ صرف مسلمانوں کی "دیدی" یعنی بڑی بہن ہے۔ اس تناظر میں اسے "جہادی دیدی" بھی پکارا گیا۔ انتخابی مہم کے دوران کئی مقامات پر اسے ہندو انتہا پسندی سے بپھرے ہجوم نے "جئے شری رام" کے نعرے لگاتے ہوئے خوفزدہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ ہجوم کی جانب سے پھیلائی افراتفری کی بدولت وہ انتخابی مہم کی گہما گہمی میں پھسل بھی گئی۔ بقیہ انتخابی مہم اس نے وہیل چیئرمیں بیٹھ کر چلائی۔

ممتا کے جنونی حامیوں کو بھی اعتماد نہیں تھا کہ اتوار کے روز جو نتیجہ آیا ہے وہ اس کی "تری نامول"کانگریس کوصوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت فراہم کردے گا۔ ایسی شاندار جیت کے ہوتے ہوئے لطیفہ یہ بھی ہوا ہے کہ ممتا بذات خود جس صوبائی اسمبلی کی نشست پرکھڑی ہوئی تھی وہاں ہوئے ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد تقریباََ دو ہزار ووٹوں کے فرق سے ہار گئی ہے۔ 1990کی دہائی سے پہلی بار بھارت کے انتہائی"خودمختار"الیکشن کمیشن کو اس کی وجہ سے نریندر مودی کا "سہولت کار" ٹھہرایا جارہا ہے۔ بھارتی آئین میں میسر سہولت کی وجہ سے ممتا مگر صوبائی اسمبلی کا رکن نہ ہوتے ہوئے بھی آئندہ چھ ماہ تک بھارتی بنگال کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر برقرار رہ سکتی ہے۔ جلد ہی کسی ضمنی انتخاب کی بدولت اس کا منتخب ہوجانا بھی یقینی نظر آرہا ہے۔

بھارتی بنگال میں مودی اور اس کے "چانکیہ" کو جس ذلت آمیز شکست سے دو چار ہونا پڑا ہے اس کی وجوہات ایک تفصیلی کالم کے ذریعے ہی بیان کی جاسکتی ہیں۔ فی الوقت ممتا کا "طلسم" سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ٹھوس وجوہات جو بھی رہی ہوں ممتا بنیرجی کی شخصیت اور جنونی لگن نے بھی اپنے تئیں مودی اور اس کے "چانکیہ" کوپچھاڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسی باعث اس کی ذات پر توجہ دینا لازمی ہے۔

ممتا بنیرجی کلکتہ کے جنوب میں واقع ایک غریب بستی میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ سترہ برس کی تھی تو اس کا والد اس دنیا میں نہیں رہا۔ بیوہ ماں کے چھ بچوں نے بہت مشقت سے زندگی کی مشکلات کا سامنا کیا۔ ممتا بنیرجی ان میں سب سے نمایاں رہی۔

بہت لگن اور محنت سے اس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ہمارے ہاں بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ اس نے ایم اے کی ڈگری "اسلامی تعلیمات" کے مضمون میں حاصل کررکھی ہے۔ اس کے علاوہ رزق کا حصول یقینی بنانے کے لئے وکیل اور "اُستانی" بنانے کے قابل ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ طالب علمی کے دوران اس نے سیاست میں سرگرم حصہ بھی لینا شروع کردیا تھا۔ خود کو کئی برس تک اندراگاندھی کی کانگریس کا جی دار وفادارر کھا۔

بھارتی بنگال میں کمیونسٹ انتخابی عمل سے گزرتے ہوئے 34سال تک برسراقتدار رہے ہیں۔ ممتا بنیرجی اپنی جماعت کو سمجھاتی رہی کہ اس میں شامل ہوئے "صاحب" لوگ"غریب کسانوں " کے نمائندہ ہونے کی دعوے دار کمیونسٹ پارٹی کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ بہتر ہوگا کہ بھارتی بنگال کے شہروں میں تیزی سے پھیلتی غریب بستیوں کے باسیوں کے ساتھ درد کے رشتے استوار کئے جائیں۔ کانگریس پر حاوی "صاحبان" نے اس کی فریاد کو سنجیدگی سے نہیں لیا تو 1998میں اس نے "تری نامول" کے نام سے اپنی "کانگریس"بنالی۔"تری نامول" کو انگریزی میں Grassrootsکہا جاتا ہے۔ یوں اس نے اپنی کانگریس کو حقیقی سیاسی کارکنوں کی جماعت بنانے کا ارادہ کیا۔ اس حقیقت کو بھی اس نے کبھی فراموش نہیں کیا کہ بھارتی بنگال میں مسلمانوں کی تعداد 30فی صد ہے۔ ان کی اکثریت کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار میں خود کو ہندوانتہا پسندی سے محفوظ تصور کرتی رہی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کا ہیڈکوارٹر جس عمارت میں قائم ہے اس کا نام "مظفر بھون" ہے۔ کلکتہ کے عین مرکز میں مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ایک علاقہ ہے جسے "مولاعلی چوک" پکارا جاتا ہے۔ اس علاقے میں ایک خوش حال گھرانے سے اُبھرے "کامریڈ مظفر" کو یہ عمارت ورثے میں ملی تھی جسے انہوں نے اپنی جماعت کو دان کردیا تھا۔

ٹھوس سیاسی حقائق کی بنا پر ممتاکی اولیں ترجیح یہ رہی کہ مسلمان ووٹروں کی اکثریت کو اعتماد دلایا جائے کہ اندراگاندھی کے نام سے منسوب "کانگریس"کے مقابلے میں اس کی تری نامول کانگریس مسلمانوں کی کمیونسٹ پارٹی سے بھی بڑھ کردوست اور مددگارہے۔ یہ پیغام دینے کے لئے اس نے جو انتخابی نشان چنا وہ گھاس میں خودرواُگے دو پھول ہیں جو ایک ہی شاخ پر پھوٹتے ہیں۔ اس انتخابی نشان کو ممتا بنیر جی بنگلہ زبان کے ایک عظیم شاعر قاضی نذراسلام کے اُس شعر کی تعبیر قرار دیتی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ "بنگال کی زمین میں سے ایک ہی شاخ سے دو پھول قدرتی طورپر نمودار ہوئے جن میں ایک ہندو کہلاتا ہے اور دوسرا مسلمان"۔ مذکورہ انتخابی نشان کو بھی مودی اور اس کے چانکیہ نے "دیدی" کو "جہادی" ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا۔ تمام تر اُتار چڑھائو کے باوجود غریب گھرانے سے ابھری ممتا نے مگر ہمت کبھی نہیں ہاری۔ اتوار کے روز اس کی لگن نے مودی کا "طلسم" بھی توڑ دیا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.