Saturday, 21 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Ghaza Aman Board Ka Iftitahi Ijlas Aur Hamara Makhmasa

Ghaza Aman Board Ka Iftitahi Ijlas Aur Hamara Makhmasa

خواہ مخواہ کی بحث میں الجھنے کے بجائے مان لیتے ہیں کہ دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان کا روایتی میڈیا بھی سب اچھا بتانے اور دکھانے کا عادی ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا پر چھائے حق گو صحافیوں کو مگر کیا ہوا ہے؟ ان میں سے ایک "ذہن ساز" بھی مجھ جیسے عام پاکستانی کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کررہا کہ جمعرات 19فروری2026ء کا دن وطن عزیز کے لئے ہی نہیں بلکہ ہمارے خطے خصوصاََ مشرق وسطیٰ کے لئے بھی ایک تاریخ ساز دن شمار ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں اس دن صدر ٹرمپ کے تجویز کردہ "بورڈ آف پیس" کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوناہے۔

نظر بظاہر مذکورہ بورڈ کے قیام کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کو یقینی اور دیرپا بنانے کے بعد بھاری بھر کم سرمایہ کاری کے ذریعے گزشتہ تین برسوں سے وحشیانہ اسرائیلی بمباری کی زد میں آئی سمندر سے متصل پٹی کو جدید اور خوشحال بستی میں تبدیل کردینا ہے۔ اسرائیل وہاں سے اپنی فوجیں نکالنے کو آمادہ ہے۔ اس سے قبل مگر بضد ہے کہ نام نہاد عالمی برادری کی نگرانی میں حماس کے متحرک کارکن ہتھیار پھینک کر "نیک چال چلن"کا وعدہ کریں۔ حماس کے غیر مسلح ہوجانے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسلامی ممالک سے بھیجے فوجی دستے امن وامان یقینی بنائیں گے۔ معمولات زندگی بحال کرنے کی ذمہ داری فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک ٹیم کو سونپی جائے گی جو بتدریج پولیس سمیت ریاستی تنظیم کے دیگر ادارے بھی تشکیل دے گی۔

"بورڈ آف پیس" نے غزہ کے حوالے سے جو اہداف چنے ہیں "نیک نیتی" کا مظہر ہیں۔ انگریزی کا ایک محاورہ مگر متنبہ کرتا ہے کہ جہنم کے تمام راستے "نیک نیتی" ہی تلاش کرتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کے کسی بھی خطے میں امن وامان یقینی بنانے کے لئے اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ اس بین الاقوامی ادارے کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ہیں جنہیں ویٹو کا اختیار بھی حاصل ہے۔ ان ممالک کی بالادستی کے سبب کشمیر سمیت کئی اہم قضیے ابھی تک حل نہیں ہوپائے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا کے کئی خطوں اور ممالک میں اقوام متحدہ ہی نے جنگ بندی کے لئے کلیدی کردار ادا کیا۔ جنگ بندی کے بعد دائمی امن یقینی بنانے کے لئے بھی اقوام متحدہ ہی کے پرچم تلے دنیا کے مختلف ممالک کے بھیجے فوجی دستے متحرک رہے ہیں۔

فرانس سمیت دنیا کے کئی ممالک کوخدشہ لاحق ہے کہ غزہ میں قیام امن یقینی اور مستقل بنانے کے نام پر امریکی صدر کا تشکیل دیا "بورڈ آف پیس" درحقیقت اقوام متحدہ کے متوازی ادارے کی حیثیت اختیار کرنے کی "پرکار" کوشش ہے۔ غزہ میں "گھس جانے کے بعد"بورڈ آف پیس دنیا کے دیگر خطوں میں شروع ہوئی جنگوں کو رکوانے کے لئے بھی اقوام متحدہ کو نظرانداز کرتے ہوئے حتمی کردار ادا کرسکتا ہے۔

امریکہ کی براہ راست نگرانی میں تشکیل دئے "بورڈ آف پیس" کو "نیک نیتی" کے جواز کے ساتھ "ہاتھی کے پائوں میں سب کے پائوں " والی حقیقت کے تناظر میں دنیا کے بیشتر ممالک کڑوی گولی کی صورت قبول کرسکتے تھے۔ "بورڈ آف پیس" مگر امریکی پارلیمان کے بنائے کسی قانون کے تحت تشکیل نہیں دیا جارہا۔ ٹرمپ نے بطور صدر اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اسے "ایجاد" کیا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اس کی معیادِ صدارت گزرجانے کے بعد اس ادارے کا مستقبل کیا ہوگا؟

ٹرمپ اس سوال کا جواب فراہم کرنے کو رضا مند نہیں۔ مصر ہے کہ اس کی نیک نیتی پر اعتماد کرتے ہوئے اس بورڈ میں شمولیت اختیار کرلی جائے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کو مستقل بنانے کے بعد وہاں روزمرہّ زندگی کی بحالی کا عمل شروع کیا جاسکے۔ تقریباََ 60ممالک کو اس نے جمعرات کے دن منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت کیلئے بلایا۔ اکثریت نے مذکورہ بالا تحفظات کی روشنی میں معذرت کرلی۔ پاکستان مگر اس اجلاس میں شریک ہورہا ہے۔ ہماری نمائندگی بھی وزیر اعظم کی ذاتی موجودگی کی صورت ہورہی ہے۔

گفتار کے بے شمار غازی پاکستان کی بورڈ آف پیس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بارے میں تندوتیز سوالات اٹھارہے ہیں۔ انہیں اٹھاتے ہوئے یہ حقیقت فراموش کی جارہی ہے کہ گزشتہ برس کے مئی میں امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے مابین ممکنہ طورپر ایٹمی شوڈائون کی طرف بڑھتی جنگ کو رکوایا تھا۔ جنگ بندی کے بعد وہ دنیا کو مسلسل یہ تاثر دیتا رہا کہ مئی 2025ء کی جنگ کے دوران پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں فضائی برتری حاصل کرلی تھی۔ ہماری تحسین کے علاوہ بھارت کے روس سے تیل خریدنے سے ناراض ہوکر اس نے امریکہ آنے والی بھارتی مصنوعات پرتعزیری ٹیکس بھی لاگو کردئے۔ اس کے تجویز کردہ "بورڈ آف پیس" میں شمولیت سے انکار مندرجہ بالا تناظر میں پاکستان کو ٹرمپ کی دانست میں ایک ناقابلِ اعتبار دوست بناکرپیش کرسکتا تھا۔

ٹرمپ کے علاوہ عرب اور خصوصاََ خلیجی ممالک میں ہمارے سعودی عرب جیسے برادر ملک بھی ہیں۔ ان کی فراہم کردہ رقوم کی بدولت ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پاکستان کو "دیوالیہ" دکھانے سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ ان ممالک کی اکثریت چاہتی ہے کہ پاکستان غزہ میں امن وخوشحالی کی بحالی یقینی بنانے کے لئے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لئے اہم کردار ادا کرے۔ برادر ممالک کی خواہشات کو ہم معاشی مجبوریوں کی وجہ سے نظرانداز نہیں کرسکتے۔ ان ممالک کی مدد اور خاموش سفارت کاری کے نتیجے ہی میں اسرائیل کا وزیر اعظم نیتن یاہو بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔ اس کی عدم موجودگی پاکستان، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک کی اس سوچ کا احترام ہے جو فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو جائز ریاست تسلیم نہیں کرتی۔

اپنے برادر ممالک کے ساتھ مل کر ہی ہم ٹرمپ کو سمجھاسکتے ہیں کہ غزہ میں پاکستانی فوج کے دستے قیام امن یقینی بنانے کے لئے فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ حماس کو غیر مسلح کرنے کا فریضہ مگر ان کے سپرد کرنا ممکن نہیں کیونکہ پاکستان قیام اسرائیل کے پہلے روز ہی سے اسے ایک ناجائز ریاست ٹھہراتا ہے۔ تنے ہوئے رسے پر چلتے ہوئے پاکستان کو ماہرانہ سفارت کاری کے ذریعے "سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے" والی حکمت عملی دریافت کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ بورڈ آف پیس کے بارے میں فقط جذباتی تقریروں کے ذریعے لوگوں کو گمراہ ہی کیا جاسکتا ہے۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.