Thursday, 19 March 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Mehangai Aur Jang Ke Daur Mein Naye Mawaqe

Mehangai Aur Jang Ke Daur Mein Naye Mawaqe

اس میں دو رائے نہیں کہ مہنگائی، بڑھتی ہوئی فیول قیمتیں، بےروزگاری اور عالمی سیاسی کشیدگی ایک بار پھر ہمیں اسی چیلنجنگ دور کی یاد دلا رہی ہیں جو کرونا کے دوران تھا۔ اس وقت لاک ڈاون، ورک ایٹ ہوم پالیسیز، فیول کی بچت اور کاروباری سرگرمیوں کی محدودیت نے زندگی کے روایتی انداز کو کنٹرول کر لیا تھا۔

آج بھی ہم انہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ روزمرہ کی ضروریات مہنگی ہو رہی ہیں، آمدنی کے ذرائع محدود ہیں اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں انتہائی کم عرصہ میں فیول کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے جس نے ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے پر شدید اثر ڈالا ہے۔ عام شہری پریشان ہوا ہے اور اشیائے ضروریات مہنگی ہو رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پٹرول مزید مہنگا ہو سکتا ہے یہ بھی سچ ہے کہ ہر بحران کے ساتھ ایک موقع بھی چھپا ہوتا ہے۔

کرونا کے دوران ہم نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنی ملازمتیں کھو بیٹھے، چھوٹے کاروبار بند ہوئے اور آمدنی کے ذرائع کم ہوئے لیکن دوسری جانب اسی دوران ایک نیا طبقہ تیزی سے ابھرا جو آن لائن بزنس، ڈیجیٹل سروسز اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں داخل ہوا۔ مثال کے طور پر یوٹیوب آٹومیشن چینلز نے کچھ افراد کے لیے ماہانہ لاکھوں روپے کی آمدنی پیدا کی اور ای کامرس کے ذریعے چھوٹے کاروباری افراد نے عالمی منڈی تک اپنی مصنوعات پہنچائیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کرونا کے ابتدائی چھ ماہ میں صرف امریکہ میں 4.2 ملین افراد نے آن لائن فری لانچنگ کے ذریعے اپنے لیے نیا روزگار پیدا کیا جبکہ بھارت میں اسی عرصے میں ای کامرس سیلز میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ آج بھی حالات اسی راہ پر ہیں۔ بڑھتی قیمتیں اور جنگ کی صورت حال اکثر لوگوں میں مایوسی پیدا کر رہی ہے لیکن یہ صورت حال وہ موقع بھی فراہم کرتی ہے جہاں ہم لوکل مارکیٹ سے گلوبل مارکیٹ تک پہنچ سکتے ہیں۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ، یوٹیوب آٹومیشن اور ای کامرس

جیسی سکلز ہی وہ دروازے ہیں جو محنت اور عزم رکھنے والے لوگوں کے لیے نئی دنیا کا راستہ کھول سکتے ہیں۔ اگر آپ صرف چھ مہینے میں AI اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی بنیاد سیکھ لیں تو آپ گھر بیٹھے چھوٹے پروجیکٹس کے ذریعے ماہانہ ایک لاکھ سے سے دو لاکھ روپے تک آمدنی پیدا کر سکتے ہیں جبکہ کچھ کامیاب لوگ چھوٹے آن لائن بزنس سے لاکھوں ماہانہ کما رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مشکلات ہمیشہ عارضی ہوتی ہیں جبکہ علم اور سکلز مستقل اثاثہ بنتے ہیں۔

کرونا کے دوران جو لوگ صرف موجودہ ملازمتوں پر انحصار کرتے رہے وہ مالی دباؤ کا شکار ہوئے لیکن جنہوں نے آن لائن سکلز، ای کامرس یا یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر مہارت حاصل کی وہ آج بھی معاشی مشکلات کے باوجود مستحکم ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ کی موجودہ قدر 6.5 ٹریلین ڈالر ہے اور ہر سال تقریباً 15 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آن لائن کاروبار کے لیے مواقع نہ صرف موجود ہیں بلکہ روز بروز بڑھ رہے ہیں۔

گھر بیٹھے کام کرنے کے لیے صرف ایک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کنکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوٹیوب آٹومیشن کے ذریعے آپ ایک چھوٹے چینل کو خودکار کرکے ماہانہ لاکھوں ویوز حاصل کر سکتے ہیں جس کے بعد اسی چینل پر ملنے والے اشتہارات سے آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح ای کامرس کے ذریعے پاکستانی ہینڈی کرافٹ، فیشن یا ڈیزائن پروڈکٹس عالمی مارکیٹ میں بیچ کر سالانہ لاکھوں روپے کمائے جا سکتا ہے۔

آپ لاہور کی شاہ عالمی مارکیٹ اور لندن یا دبئی کے درمیان ایک کمپنی بن سکتے ہیں۔ یہ محض امکانات نہیں ہیں بلکہ حالیہ ڈیٹا اور تجربات کی روشنی میں سامنے آنے والی حقیقی کامیابی ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ اور AI سکلز صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ آپ کے بزنس اور آئیڈیاز کو بہتر بنانے کا ذریعہ بھی ہیں۔ مثال کے طور پر AI ٹولز آپ کو مارکیٹ کی طلب، صارفین کی ترجیحات اور کمپٹیٹرز کی حکمت عملی کا فوری تجزیہ فراہم کر سکتے ہیں جس سے کاروبار کم وقت اور کم سرمایہ میں بڑھ سکتا ہے۔

سوشل میڈیا مارکیٹنگ کے ذریعے آپ محدود بجٹ میں ہزاروں متعلقہ افراد تک پہنچ سکتے ہیں جو روایتی مارکیٹنگ کے ذریعے ممکن نہیں۔ یقیناََ حالات اچھے نہیں ہیں لیکن یہ مایوسی کی بجائے امید کی کرن دکھا رہے ہیں۔ شاید یہ قدرت کی طرف سے مہیا کیا جانے والا ایک موقع ہے کہ ہم روایتی انداز کی بجائے جدید سکلز کی مدد سے سمارٹ ورک کی طرف قدم رکھیں۔ یاد رکھیں ہر بڑا چیلنج دراصل نئے خیالات اور سکلز کو اپنانے کا وقت ہوتا ہے۔

آج کی دنیا میں مہارت اور جدت آپ کی سب سے بڑی دولت ہے۔ اگر آپ نے پہلے اس موقع سے فایدہ نہیں اٹھایا تو اب وقت ہے کہ اس راستے پر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے نئے سفر کا آغاز کریں۔ ایک آن لائن کورس سیکھنا، یوٹیوب چینل کا آغاز یا پھر فری لانسنگ پلیٹ فارم پر پروفائل بنانا بظاہر چھوٹا قدم ہے لیکن یہی چھوٹے قدم ایک مضبوط بنیاد رکھتے ہیں جو مستقبل میں بڑی کامیابیوں کی ضمانت ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مشکلات ہمیشہ انسان کو آزمانے کا ذریعہ ہوتی ہیں لیکن جو شخص علم اور مہارت کو اپناتا ہے وہ مشکلات کو مواقع میں بدل دیتا ہے۔

کرونا کے تجربے نے یہ واضح کر دیا کہ جو لوگ محنت، حکمت اور جدت کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں وہ معاشی بحران کے دوران بھی مضبوط رہ سکتے ہیں۔ لہٰذا آج پٹرول کے بڑھتے ہوئے نرخ، مہنگائی اور جنگ کی صورتحال کے باوجود ہمارے پاس وہ وسائل اور مواقع موجود ہیں جو ہمیں عالمی سطح پر کامیاب بنا سکتے ہیں۔ کامیابی محض قسمت یا حالات پر نہیں بلکہ علم، حکمت اور محنت پر منحصر ہے۔ ہر شخص جو آج نئی سکلز سیکھتا ہے، اپنے بزنس کو آن لائن لے جاتا ہے یا یوٹیوب اور ای کامرس میں قدم رکھتا ہے وہ کل کے معاشی بحران سے نکل سکتا ہے۔

یہی وقت ہے کہ ہم مایوسی کو پس پشت ڈالیں، مواقع کو پہچانیں اور محنت کے ساتھ مستقبل کی سمت متعین کریں۔ دنیا بدل رہی ہے۔ موجودہ حالات نے ہمیں ایک بار پھر جھنجھوڑا ہے کہ ہم اپنی نئی سمت متعین کر لیں۔ یہ فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے کہ ساری عمر مہنگائی، پٹرول کی قیمت اور تیزی سے پھیلتی بےروزگاری کی شکایت کرنی ہے یا پھر اپنے حالات بہتر کرنے کے لیے نیا قدم اٹھانا ہے۔