Thursday, 30 April 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Digital Pakistan: 2 Kharab Se Ziada Kamane Walay Pakistani Naujawan

Digital Pakistan: 2 Kharab Se Ziada Kamane Walay Pakistani Naujawan

جس وقت ہم پاکستان کی معاشی بدحالی اور ڈالرز کی قلت کا رونا رو رہے ہیں تو عین اسی وقت ہمارے ملک کے گلی کوچوں میں بیٹھے نوجوان اپنے لیپ ٹاپس کے ذریعے ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا اعتراف اب عالمی ادارے بھی کرنے لگے ہیں۔ پاکستان دنیا بھر میں فری لانسر کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے۔

ہماری "ڈیجیٹل لیبر" نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں 85 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کمائے جو کہ معمولی رقم نہیں ہے۔ جہاں روایتی صنعتیں جمود کا شکار ہیں وہاں ہماری "ڈیجیٹل لیبر" نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 28 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا نمایاں اضافہ کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کا اصل اثاثہ اس ملک کی نوجوان نسل ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے نہ کسی سرکاری نوکری کا انتظار کیا اور نہ ہی ملکی حالات کے پیشِ نظر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہے بلکہ اپنی مہارت کو عالمی منڈی میں بیچ کر ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمایا۔

پاکستانی روپے میں اس رقم کا حجم دیکھا جائے تو یہ 2 کھرب 38 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ کئی چھوٹے محکموں کے سالانہ بجٹ اس کے سامنے ہیچ نظر آتے ہیں۔ فری لانسنگ اب محض ایک "پارٹ ٹائم" مشغلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک مکمل صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ گرافک ڈیزائننگ سے لے کر سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ تک اور مواد نویسی سے لے کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے پیچیدہ ماڈلز تک پاکستانی نوجوان دنیا بھر کی کمپنیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سارا سرمایہ کسی بڑے کارخانے، چمنی سے نکلتے دھوئیں یا بھاری مشینری کے بغیر حاصل ہوا ہے۔ اس صنعت کا کارخانہ ایک چھوٹا سا کمرہ اور اس کا خام مال صرف انسانی دماغ اور انٹرنیٹ کنکشن ہے۔ ایسی کامیابی کے پیچھے وہ ہمت اور جنون کارفرما ہے جو عام طور پر نظر نہیں آتا۔ ایک پاکستانی فری لانسر جب رات کے پچھلے پہر جاگ کر کسی غیر ملکی کلائنٹ کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے گھر کا چولہا نہیں جلا رہا ہوتا بلکہ پاکستان کے گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا بھی دے رہا ہوتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو بجلی کی لوڈ شیڈنگ، سست انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ادائیگیوں کے مسائل (جیسے پے پال کی عدم دستیابی) کے باوجود ہمت نہیں ہارتے۔ دو کھرب 38 ارب روپے سے زائد کی یہ آمدنی ان تمام رکاوٹوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ یہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم ان نوجوانوں کو صرف تھوڑی سی سہولت اور بہتر انفراسٹرکچر فراہم کر دیں تو یہ رقم چند سال میں اربوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ حکومت پاکستان اس حوالے سے سنجیدہ ہے۔ چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود نے نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل پاکستان سیمینارز کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں انہیں نبیل اعوان اور آمنہ فیاض سمیت انتہائی محنتی اور پروفیشنل ٹیم کی معاونت حاصل ہے۔ اگر پیشہ ورانہ لحاظ سے دیکھا جائے تو وقت آ گیا ہے کہ ریاست فری لانسنگ کو ایک باقاعدہ معاشی شعبے کے طور پر تسلیم کرے۔ 28 کروڑ ڈالر کا حالیہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ ہمیں اب روایتی ڈگریوں کے حصار سے نکل کر "سکل بیسڈ" تعلیم کی طرف جانا ہوگا۔

سرکاری کالجز میں اس حوالے سے ماہرین کی بھرتیاں اور کورسز متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ جب ایک فری لانسر پاکستان میں بیٹھ کر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے مقابلہ کرتا ہے تو وہ صرف پیسے نہیں کماتا بلکہ ملک کا برانڈ امیج بھی بہتر بناتا ہے۔ عالمی منڈی میں "میڈ ان پاکستان" سافٹ ویئر اور سروسز کی مانگ بڑھ رہی ہے جو کہ طویل مدت میں ملکی برآمدات کے لیے ایک نیک شگون ہے۔ اس کی حالیہ مثال کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان صالح آصف ہے جس نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

صالح آصف کی شریک بانی اے آئی کمپنی "کرسر" کو ایلون مسک کی کمپنی SpaceX کی جانب سے 60 ارب ڈالر میں خریدنے کی پیشکش کر دی گئی ہے جس کے بعد کراچی کے نکسر کالج اور پھر ایم آئی ٹی سے تعلیم یافتہ صالح آصف کی اس کمپنی کی مالیت پاکستان کے کل سالانہ بجٹ سے بھی تجاوز کر گئی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کے دور میں ایک پاکستانی دماغ کی علمی و فنی قوت کسی بھی ملک کی مجموعی معیشت پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ اس کامیابی نے نہ صرف عالمی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا بلکہ لاکھوں پاکستانی فری لانسرز کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے میدان میں مہارت حاصل کرکے وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

صالح آصف کی کمپنی کی مارکیٹ ویلیو پاکستان کے وفاقی بجٹ سے زیادہ یعنی 60 ارب ڈالر تک پہنچنا اور گزشتہ نو ماہ میں پاکستانی نوجوانوں کی دو کھرب 38 ارب سے زائد کی کمائی رقم ان تمام پاکستانیوں کے لیے واضح پیغام ہے جو مایوسی کا شکار ہو کر ملک چھوڑنے کی باتیں کرتے ہیں۔ راستہ کٹھن ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ 2 کھرب 38 ارب روپے کی یہ رقم پاکستانی نوجوانوں کی کامیابی کی دستاویز ہے۔ اگر ہم اپنی توجہ جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر مرکوز رکھیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل حب بن کر ابھرے گا۔

یہ فری لانسرز ہمارے معاشی مستقبل کے معمار ہیں ان کی قدر کرنا اور انہیں سازگار ماحول فراہم کرنا اب ریاست اور معاشرہ دونوں کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ ہمیں ماننا ہوگا کہ پاکستان کی تقدیر اب صرف کھیتوں یا کارخانوں میں نہیں بلکہ ان لیپ ٹاپس کی سکرینوں پر لکھی جا رہی ہے جو کوئی غریب طالب علم چھوٹے سے گھر کے کمرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر استعمال کر رہا ہے۔ یہی نوجوان پاکستان کی اصل طاقت ہے۔