Thursday, 16 April 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Syed Badar Saeed
  4. Police Walay Ka Karva Sach

Police Walay Ka Karva Sach

محکمہ پولیس ایسا موضوع ہے جس پر بحث و مباحثہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ عام طور پر اس ادارے کا نام ذہن میں آتے ہی سخت گیر اور روایتی تھانہ کلچر کا تصور ابھرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسی محکمے کے بطن سے ایسے جوہرِ قابل بھی منظر عام پر آئے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، علمی قابلیت اور دیانت داری سے وردی کا وقار بلند کیا۔

شہریوں پر جب بھی ظلم ہو وہ پولیس کے نام نامہ لکھ دیتے ہیں جسے درخواست کہا جاتا ہے پھر پولیس ایف آئی آر کی شکل میں ایک نامہ لکھ دیتی ہے اور اس کے بعد پولیس نامہ کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔ کبھی شہری پولیس کے خلاف کسی بڑی اتھارٹی کو نامہ لکھ دیتا ہے تو کبھی تفتیشی آفیسر کوئی نامہ لکھ کر کیس کی فائل میں رکھ دیتا ہے۔ اس بار البتہ ہمیں جو پولیس نامہ ملا وہ دو جلدوں پر تھا۔ پہلا پولیس نامہ دیکھ کر پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 360 یاد آئی جس کا تعلق کسی کو "پاکستان سے اغوا کرکے لیجانا" ہے یہ پولیس نامہ اتنے ہی صفحات پر مشتمل ہے۔

دوسرا پولیس نامہ دیکھ کر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 509 یاد آئی جو بہت اچھی ہے یعنی خواتین کی عفت کے تحفظ سے متعلق ہے۔ ہمیں دونوں پولیس ناموں میں پھنسانے والے قلم فاونڈیشن کے روح رواں علامہ عبدالستار عاصم ہیں۔ اس وقت پاکستان میں کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے جو چند ادارے انتہائی متحرک ہیں ان میں علامہ عبدالستار عاصم اور ان کا ادارہ قلم فاونڈیشن انٹرنیشنل سر فہرست ہے۔

مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ کس طرح اہم شخصیات کو تلاش کرتے ہیں، انہیں آپ بیتی لکھنے پر آمادہ کرتے ہیں اور پھر انتہائی خوبصورت انداز میں اسے شائع کرتے ہیں۔ نوجوان نسل کے لیے بزرگ نسل کے تجربات کو محفوظ کرنا اور تاریخ کا حصہ بنانا بہت مشکل کام ہے جو علامہ عبدالستار عاصم بہت آسانی سے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ پنجاب پولیس کے سابق ایس ایس پی راجہ محمد فاروق ساجد کی خودنوشت پولیس نامہ (اول و دوم) اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو نہ صرف ایک پولیس افسر

کے ذاتی سفر کی روداد ہے بلکہ پاکستان کی انتظامی اور سیاسی تاریخ کے کئی گمشدہ اور اہم گوشوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ یہ کتاب ایک ایسی تاریخی دستاویز بن چکی ہے جس کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو پاکستان میں پولیسنگ کے ارتقا اور ریاست کے اندرونی معاملات کو سمجھنا چاہتا ہے۔

میں نے یہ کتاب پڑھنا شروع کی تو مکمل کرنے کے بعد احساس ہوا میں نے دو روز سے کچھ نہیں کھایا۔ اگر کچھ کھایا تھا تو پھر یاد نہیں رہا کہ اس کتاب میں موجود پولیسنگ کی تاریخ اور دلچسپ واقعات نے اپنے سوا کہیں اور جانے ہی نہ دیا۔ اسی طرح پولیس پر ایک شاندار کام صدارتی ایوارڈ یافتہ محقق ایم آر شاہد نے شہدائے پولیس (اول، دوم) لکھ کر سر انجام دیا تھا جس میں پنجاب پولیس کے شہدا کی تاریخ مرتب کی گئی ہے۔ اس میں ہمیں پتا لگتا ہے کہ کتنے کڑیل جوان ہمارا تحفظ کرتے کرتے شہید ہو گئے اور ان کا ذکر تک نہ ہوا۔

پولیس نامہ کے مصنف راجہ فاروق ساجد نے اپنی چالیس سالہ طویل ملازمت کے دوران نظام کے سرد و گرم کو بہت قریب سے دیکھا۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر چھوٹے شہروں کی پولیسنگ سے شروع ہو کر اسلام آباد کے ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاوس کی اہم ترین ذمہ داریوں تک پھیلا ہوا ہے۔ پولیس نامہ کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں صرف جرم و سزا کی داستانیں ہی نہیں بلکہ اس میں سماجی رویوں کا گہرا مشاہدہ موجود ہے۔

پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور سے لے کر سانحہ بہاولپور میں جنرل ضیا الحق کی شہادت تک اور چودھری محمد اشرف مارتھ سے لے کر ملک محمد اشرف کے بہیمانہ قتل تک کے واقعات کو مصنف نے جس بصیرت اور معنی خیز معلومات کے ساتھ قلمبند کیا ہے وہ قاری کو اس عہد کے پسِ پردہ حقائق تک لے جاتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ ایک پولیس افسر کس طرح خاموشی سے قومی تاریخ کے بڑے حادثات کا عینی شاہد بنتا ہے۔ میرا سیاست دانوں کو مشورہ ہے کہ "غیر پولیسانہ" کاموں کے دوران پولیس افسران سے دور رہا کریں کیونکہ یہ عینی شاہد بن سکتے ہیں۔ کتاب کا ایک دلچسپ پہلو پولیس ٹریننگ کالج سہالہ کی یادیں ہیں جہاں علمی اور ادبی شخصیات کے ذریعے افسران کی ذہنی آبیاری کی جاتی تھی۔

مصنف نے شکیل علوی جیسے اساتذہ کا ذکر کیا ہے جو تعزیراتِ پاکستان (PPC) جیسے خشک قانون کو بھی فنِ گفتگو اور انسانی نفسیات کے تڑکے کے ساتھ پڑھایا کرتے تھے۔ ایسے اساتذہ زیرِ تربیت افسروں کے چہروں سے ان کی ذہنی حالت کا اندازہ لگا لیتے تھے اور فی البدیہہ سوالات سے انہیں چونکا دیتے تھے۔ یہ تذکرہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پولیس کے ادارے میں ہمیشہ سے ایسے لوگ موجود رہے ہیں جو صرف قانون نافذ کرنے والے نہیں بلکہ علم و دانش کے مربی بھی تھے۔

راجہ فاروق ساجد نے نظام کی ستم ظریفی اور پولیس کے محکمے میں موجود مخصوص مزاج کو بھی بڑی بے باکی سے بیان کیا ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ کسی زمانے میں یہ محکمہ پڑھے لکھے لوگوں کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا اور میٹرک پاس ہونا بھی بڑی قابلیت شمار ہوتی تھی۔ کتاب میں منشی تھانہ گوجر خان چودھری امیر خان اور سید نصر بیدار شاہ جیسے جیتے جاگتے کرداروں کا ذکر ہے جو اپنی سادہ لوحی، مخصوص لہجے اور خوش خوراکی کی وجہ سے محکمے کی رونق تھے۔ شاہ جی جیسے کرداروں کی زندگی اور ان کی اچانک موت کے قصے بتاتے ہیں کہ پولیس کی وردی کے پیچھے بھی ایک ایسا انسان چھپا ہوتا ہے جو دوستی، محبت اور خلوص کے جذبوں سے لبریز ہوتا ہے۔

یہ انسانی پہلو اس ادارے کے بارے میں عوامی تاثر کو بدلنے میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ کتاب موجودہ دور کے پولیس افسران اور جوانوں کے لیے نصاب کی حیثیت رکھتی ہے تاکہ وہ اپنے بزرگوں کے تجربات سے سیکھ سکیں کہ مشکل حالات میں فرض شناسی کی اعلیٰ مثالیں کیسے قائم کی جاتی ہیں۔ آج کی نئی نسل کے لیے بھی یہ کتاب پاکستان کی انتظامی تاریخ کو سمجھنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے کیونکہ اس میں وہ حقائق ہیں جو عام طور پر سرکاری فائلوں یا روایتی تاریخ کی کتابوں میں جگہ نہیں پا سکے۔ اگر آپ پاکستان کے زمینی حقائق سمجھنا چاہتے ہیں تو پولیس نامہ لازمی پڑھیں آپ پر کئی حقیقتیں عیاں ہوں گی۔