Wednesday, 10 June 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi
  4. Jang, Maeeshat Aur Taqat Ke Badalte Pemaane

Jang, Maeeshat Aur Taqat Ke Badalte Pemaane

بین الاقوامی سیاست کی تاریخ میں بعض جنگیں اپنی عسکری شدت سے زیادہ اُن سوالات کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہیں جو وہ عالمی نظام کے سامنے چھوڑ جاتی ہیں۔ حالیہ ایران-امریکہ-اسرائیل تناؤ بھی محض میزائلوں، ڈرونز اور فضائی حملوں کا قصہ نہیں بلکہ اکیسویں صدی کی جنگی معیشت، دفاعی حکمتِ عملی اور طاقت کے روایتی تصورات کا ایک غیرمعمولی امتحان بن کر سامنے آیا ہے۔ اس تصادم نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ جدید دنیا میں عسکری برتری کا مفہوم تبدیل ہو رہا ہے اور طاقت کے پرانے پیمانے تیزی سے اپنی معنویت کھوتے جا رہے ہیں۔

طویل عرصے تک عالمی طاقتوں کا یہ یقین رہا کہ جدید ترین ٹیکنالوجی، وسیع مالی وسائل اور مہنگے ترین دفاعی نظام کسی بھی خطرے کو مؤثر انداز میں روک سکتے ہیں۔ لیکن حالیہ تنازعے نے اس تصور میں کئی دراڑیں ڈال دی ہیں۔ اربوں ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ دفاعی ڈھانچوں کو ایسے خطرات کا سامنا کرنا پڑا جن کی تیاری اور تعیناتی نسبتاً کم خرچ تھی۔ اس منظرنامے نے عسکری ماہرین، معاشی تجزیہ نگاروں اور پالیسی سازوں کو ایک نئے سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ کیا مستقبل کی جنگوں میں سرمایہ ہی فیصلہ کن عنصر رہے گا یا حکمتِ عملی، لچک اور اختراع اس سے بھی زیادہ اہم کردار ادا کریں گے؟

جدید جنگی فلسفے کا ایک بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ دفاع ہمیشہ حملے سے زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ حالیہ کشیدگی نے اس اصول کو پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کر دیا۔ کم لاگت والے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کے لیے ایسے انٹرسیپٹر نظام استعمال کیے گئے جن کی قیمت خود حملہ آور ہتھیاروں سے کئی گنا زیادہ تھی۔ گویا ایک محدود سرمایہ کاری مخالف فریق کو کہیں زیادہ اخراجات پر مجبور کر رہی تھی۔ یہی وہ معاشی حقیقت ہے جس نے اس تنازعے کو صرف عسکری نہیں بلکہ مالیاتی اور تزویراتی جنگ بھی بنا دیا۔

اس صورتحال نے دفاعی صنعت کے ایک دیرینہ تصور کو بھی چیلنج کیا ہے۔ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ٹیکنالوجی میں برتری خود بخود تحفظ کی ضمانت بن جاتی ہے، لیکن اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی افادیت کا انحصار صرف اس کی جدت پر نہیں بلکہ اس کی معاشی پائیداری پر بھی ہے۔ اگر کسی دفاعی نظام کو برقرار رکھنے یا استعمال کرنے کی قیمت مسلسل بڑھتی جائے تو بالآخر وہ خود ایک معاشی بوجھ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے آج دنیا کے بڑے عسکری مراکز صرف ہتھیاروں کی صلاحیت نہیں بلکہ ان کی لاگت اور طویل المدتی افادیت کا بھی ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں۔

اس تنازعے کا ایک اور اہم پہلو نفسیاتی جنگ کا عنصر ہے۔ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ کارزار میں نہیں لڑی جاتی بلکہ تصورات، تاثر اور توقعات کے محاذ پر بھی جاری رہتی ہے۔ بعض اوقات کسی حملے کا اصل مقصد مادی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ مخالف کے اعتماد، منصوبہ بندی اور دفاعی حکمتِ عملی کو غیر یقینی کیفیت سے دوچار کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نسبتاً محدود حملے بھی بعض اوقات بڑے جغرافیائی اور سیاسی اثرات مرتب کر دیتے ہیں۔ طاقت کے مراکز کو یہ احساس دلانا کہ اُن کے تمام حفاظتی انتظامات مکمل طور پر ناقابلِ نفوذ نہیں، بذاتِ خود ایک اہم تزویراتی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔

یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ آج کی جنگیں سادہ خیر و شر کے بیانیوں میں نہیں سمٹتیں۔ موجودہ عالمی نظام میں ہر عسکری کارروائی کے پس منظر میں توانائی کی منڈیاں، دفاعی اخراجات، مالیاتی منافع، سفارتی توازن اور علاقائی سیاست جیسے متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی تنازعے کا تجزیہ صرف میزائلوں اور فوجی نقل و حرکت کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے معاشی اثرات بعض اوقات میدانِ جنگ کے نتائج سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

حالیہ کشیدگی نے ایک اور بنیادی حقیقت کو بھی آشکار کیا ہے کہ طاقت اب محض وسائل کے حجم کا نام نہیں رہی۔ کم وسائل رکھنے والے فریق اگر تخلیقی سوچ، غیر روایتی حکمتِ عملی اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال کریں تو وہ کہیں زیادہ طاقتور حریفوں کے لیے غیر متوقع مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عسکری برتری ہمیشہ عددی یا مالیاتی برتری کی مرہونِ منت نہیں رہی بلکہ کئی مواقع پر ذہانت، صبر اور حکمتِ عملی نے وسائل کی کمی کو پورا کیا ہے۔

درحقیقت یہ تنازعہ عالمی دفاعی سوچ میں ایک نئے دور کی آمد کا اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسا دور جہاں اربوں ڈالر کے ہتھیار اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام اپنی اہمیت برقرار رکھیں گے، مگر ان کے ساتھ ساتھ کم لاگت، تیز رفتار اور غیر متوقع حربوں کی قدر بھی بڑھتی جائے گی۔ آنے والے برسوں میں ممکن ہے کہ جنگی منصوبہ ساز صرف عسکری قوت نہیں بلکہ معاشی برداشت، تکنیکی موافقت اور تخلیقی صلاحیت کو بھی قومی سلامتی کے بنیادی ستونوں میں شمار کریں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ تنازعے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔ اب صرف یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کس کے پاس زیادہ وسائل ہیں بلکہ یہ بھی کہ کون اپنے وسائل کو زیادہ دانش مندی، کفایت اور مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مستقبل کی جنگیں شاید بارود سے کم اور بصیرت سے زیادہ جیتی جائیں گی اور یہی وہ حقیقت ہے جو عالمی سیاست کے نئے باب کی بنیاد رکھ رہی ہے۔