پاکستان ترقی پذیر مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے نہایت حساس ملک ہے جہاں قدرتی آفات اب غیر معمولی واقعات نہیں بلکہ بلکہ حقیقت بن چکے ہیں۔ گزشتہ برس جنوبی پاکستان کے کئی حصے شدید سیلاب اور طوفانی بارشوں کی لپیٹ میں آئے، ہزاروں ایکڑ زرعی زمین زیرِ آب آ گئی، سیکڑوں گھر تباہ ہوئے اور بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
یہ محض ایک سال کی بات نہیں ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس وسیع تر بحران کی جھلک ہے جو ہر گزرتے سال کے ساتھ شدت اختیار کر رہا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جدید ٹیکنالوجی خصوصاً آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہمیں ان خطرات سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے؟ میرے خیال میں ایسا ممکن ہے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی موسمیاتی اداروں کے مطابق پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
2022 کے تباہ کن سیلاب نے پوری دنیا کے سامنے یہ حقیقت عیاں کر دی تھی جس میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 1700 سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ گزشتہ برس پاکستان میں آنے والے سیلاب اسی سلسلے کی کڑی تھے جہاں مقامی انتظامیہ کو بروقت معلومات نہ ملنے کے باعث ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں مشکلات پیش آئیں۔
یہی وہ خلا ہے جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی طاقت اس کی ڈیٹا کو تیزی سے پروسیس کرنے اور مستقبل کی پیشگوئی کرنے کی صلاحیت ہے۔ موسمیاتی ماڈلز، سیٹلائٹ ڈیٹا، دریاوں کے بہاو، بارشوں کے پیٹرنز اور زمین کی نمی جیسے عوامل کو یکجا کرکے اے آئی ایسے سسٹمز تشکیل دے سکتی ہے جو سیلاب یا طوفان کے امکانات کی بروقت اور زیادہ درست پیشگوئی کریں۔ مثال کے طور پر اگر دریائے سندھ یا اس کی معاون ندیوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے لگے تو اے آئی سسٹم فوری طور پر متعلقہ اداروں اور مقامی آبادی کو الرٹ جاری کر سکتا ہے جس سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ برس جلال پور جیسے علاقوں میں اگر ایسے سسٹمز فعال ہوتے تو ممکن تھا کہ لوگوں کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جاتا۔ اسی طرح اے آئی ڈرونز اور سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے متاثرہ علاقوں کی نگرانی ممکن بناتی ہے۔ سیلاب کے دوران اکثر زمینی راستے منقطع ہو جاتے ہیں جس سے امدادی کارروائیاں سست پڑ جاتی ہیں۔ ایسے میں سے آئی اے جڑے ڈرونز متاثرہ علاقوں کی تصاویر اور ویڈیوز فراہم کرکے یہ بتا سکتے ہیں کہ کہاں لوگ محصور ہیں، کہاں پانی کی سطح زیادہ ہے اور کہاں فوری امداد کی ضرورت ہے۔ اس طرح ریسکیو ٹیمیں اندھیرے میں تیر چلانے کے بجائے ٹھوس معلومات کی بنیاد پر فیصلے کر سکتی ہیں۔ اس سال کے آغاز سے ہی پاکستان میں موسمیاتی پیٹرنز میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
سردیوں کا دورانیہ کم اور درجہ حرارت نسبتاً زیادہ رہا جبکہ کچھ علاقوں میں غیر متوقع بارشیں اور ژالہ باری بھی دیکھنے میں آئی۔ محض مارچ میں ہی ہمیں پہلے گرمی پھر سردی، آندھی، بارش اور ژالہ باری جیسے موسم ایک ہی مہینے میں دیکھنے کو ملے۔ ماہرین کے مطابق یہ موسمیاتی بے ترتیبی اس بات کی علامت ہے کہ آنے والے مہینوں میں شدید موسم، جیسے ہیٹ ویوز، اچانک بارشیں اور ممکنہ سیلاب مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ایسے میں روایتی طریقہ کار اکثر سست اور ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔
ہمیں پیشگی تیاری کی ضرورت ہے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس اس میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے۔ ان حالات میں بڑی تعداد میں نقل مکانی کے مسئلے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے نتیجے میں لاکھوں افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اے آئی یہاں بھی مدد فراہم کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس علاقے سے کتنے افراد نقل مکانی کر سکتے ہیں، انہیں کس قسم کی امداد درکار ہوگی اور کون سی جگہیں عارضی رہائش کے لیے موزوں ہیں۔
اس سے حکومتی اداروں اور فلاحی تنظیموں کو وسائل کی بہتر تقسیم میں مدد ملے گی جس سے نہ صرف وقت بچے گا بلکہ امداد بھی زیادہ موثر طریقے سے متاثرین تک پہنچ سکے گی۔ یہاں یہ بات بھی درست ہے کہ پاکستان میں اے آئی کے استعمال کے لیے درکار انفراسٹرکچر، ڈیٹا کی دستیابی اور تکنیکی مہارت ابھی محدود ہے۔ اگرچہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ موسمیات کچھ حد تک جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں لیکن مربوط اور جامع اے آئی سسٹم کی اب بھی ضرورت ہے۔ اس کے لیے حکومت کو نجی شعبے، جامعات اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔
ڈیٹا شیئرنگ کے واضح اصول، سائبر سکیورٹی کے مضبوط اقدامات اور مقامی سطح پر تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری ناگزیر ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو مقامی تناظر میں ڈھالنا ہوگا۔ ہر علاقے کے موسمیاتی اور جغرافیائی حالات مختلف ہوتے ہیں اس لیے ایک ہی ماڈل پورے ملک پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ جلال پور، سوات، کراچی اور تھرپارکر سب کی ضروریات الگ ہیں۔ اے آئی سسٹمز کو اس طرح ڈیزائن کرنا ہوگا کہ وہ مقامی ڈیٹا سے سیکھیں اور اسی کے مطابق پیشگوئیاں کریں۔ اس کے علاوہ عوامی آگاہی بھی ضروری ہے تاکہ لوگ الرٹس کو سنجیدگی سے لیں اور بروقت اقدامات کریں۔
یاد رکھیں موسمیاتی تبدیلیاں ایک حقیقت ہیں جن سے فرار ممکن نہیں مگر ان کے اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہمیں وہ سہولت فراہم کرتی ہے جن کے ذریعے ہم نہ صرف قدرتی آفات کی پیشگوئی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ان کے دوران اور بعد میں ہونے والے نقصانات کی شدت کو بھی کم کر سکتے ہیں۔
گزشتہ برس جلال پور میں آنے والے سیلاب اور اس سال کے بدلتے موسمی رجحانات واضح کر رہے ہیں کہ اب روایتی طریقوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ اگر ہم نے بروقت اے آئی جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنایا، ان میں سرمایہ کاری کی اور انہیں مقامی سطح پر موثر انداز میں نافذ کیا تو ہم نہ صرف ہزاروں جانیں بچا سکتے ہیں بلکہ زیادہ محفوظ اور پائیدار مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔