Friday, 13 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Nusrat Javed
  4. Petroleum Nirkhon Mein Yak Musht Izafe Par Siyape Ka Season

Petroleum Nirkhon Mein Yak Musht Izafe Par Siyape Ka Season

چند دن قبل جب حکومت نے پٹرول کے ایک لیٹر کی قیمت میں یکمشت اضافے کا اعلان کیا تو محدود آمدنی والے ہر صارف کی طرح میں بھی بلبلااُٹھا۔ غصے اور مایوسی سے مغلوب ہوئے دل ودماغ کو سوشل میڈیا پر اٹھائے وہ سوال بہت واجب لگے جو اس امر پر حیرت کا اظہار کئے جارہے تھے کہ جس پٹرول کی قیمت میں 55روپے کا اضافہ ہوا ہے اسے تقریباََ 5 سے 6 ہفتے قبل ان دنوں خریدا گیا جب عالمی منڈی میں تیل کا ایک بیرل 70 سے 72 ڈالر کے درمیان فروخت ہورہا تھا۔

اس قیمت پر خریدے تیل کی قیمت میں بھاری بھر کم اضافہ درآمد کنندگان کو ایک جھٹکے میں اربوں روپے کا منافع یقینی بنادے گا۔ سیٹھ کے منافع میں یکمشت بھاری بھر کم اضافہ روکنے کے بجائے حکومت نے پٹرول پر لگائی ڈیوٹی میں اضافے کے ذریعے وہ رقم بھی جمع کرلی جو ایف بی آر نے تاجروں اور پرچون فروشوں سے مختلف ٹیکسوں کے ذریعے حاصل کرنا تھی۔ آئی ایم ایف سے قرض کی نئی قسط کے حصول کے لئے جو اہداف طے ہوئے تھے انہیں غریب اور دیہاڑی دار کے موٹرسائیکل اور رکشہ کے لئے بیچے پٹرول پر بھی لگائی لیوی کی صورت وصول کرلیا گیا۔

پٹرول کی قیمت میں ہوئے یکمشت اضافے پر سیاپے کا سیزن لگالیا تو عالمی خبروں پر نگاہ ڈالتے ہوئے دریافت کیا کہ تیل کی درآمد پر انحصار کرنے والے جن غریب ممالک نے پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی تھی ان کے پٹرول پمپوں پر گاہکوں کی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔ پٹرول پمپ مالکان ان کی ٹینکیاں بھرنے کے بجائے 5یا دس سے زیادہ لیٹر تیل فراہم کرنے کو آمادہ نہیں ہورہے تھے۔ صارف کی طلب اور بیچنے والے کی طے کردہ حد تک کے نتیجے میں پٹرول پمپوں پر جھگڑے ہونا شروع ہوگئے۔ بنگلہ دیش سے اس ضمن میں وسیع پیمانوں پر جھگڑوں کی خبریں آئیں۔ ان کی وجہ سے اس ملک کے کئی شہروں میں پٹرول پمپ کاملاََ بند ہوگئے۔ تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں نے بھی سپلائی کے ٹرک سڑکوں پر لانے سے اجتناب برتنا شروع کردیا۔

کسی بھی جنس کے بازار میں دستیاب نہ ہونے کے بارے میں خدشات ابھرنا شروع ہوجائیں تو انسانی جبلت اسے ذخیرہ کرنے کو اُکساتی ہے۔ انگریزی زبان میں اس رویے کو (Buying Panic)یا گھبراہٹ میں ہوئی خریداری کہتے ہیں۔ یہ خریداری مگر واہمہ ہے۔ تیل کی قیمت بڑھنے سے چند روز قبل مثال کے طورپر آپ اگر اپنی گاڑی یا موٹرسائیکل کی ٹینکی فل کروالیں تب بھی اسے چند دن بعد خالی ہوجانا ہے۔ چند دنوں کے لئے کچھ روپے بچاکر آپ مگر خود کو ہوشیار ثابت کرتے ہیں۔ گھبراہٹ میں ہوئی خریداری کی جانب مگر "ہوشیاروباخبر" صارف ہی راغب نہیں ہوتے۔ ان کی اکثریت ایسا ہی رویہ اپناتی ہے۔ اس کی وجہ سے "بحران" پیدا ہوتے ہیں۔

شہری طبقات کے برعکس ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے خوف سے ہمارے کاشت کاروں نے گھبراہٹ میں وسیع پیمانے پر اسے خرید کر ذخیرہ کرنا شروع کردیا۔ بنیادی وجہ اس کی مارچ کے آ خری ہفتے سے اپریل کے دوسرے ہفتے کے دوران متوقع گندم کی کٹائی تھی جس کے لئے تھریشر استعمال ہوتے ہیں جنہیں ڈیزل سے چلایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی پنجاب کے بے شمار رقبوں میں اگائی گندم کو بارآور ہونے سے قبل "ایک اور پانی" درکار ہے۔ اس کے لئے چلائے ٹیوب ویل کو بھی ڈیزل کی ضرورت تھی۔ پٹرول اور ڈیزل کی گھبراہٹ یا Panicمیں ہوئی خریداری نے لہٰذا حکومت کو ان کی قیمتیں بڑھانے کو مجبور کیا۔ میں اور آپ اس کی وجہ سے بلبلااٹھنے میں حق بجانب تھے۔ ہمارے پٹرول پمپ مگر لمبی قطاروں اور لڑائی جھگڑوں سے محفوظ رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ 55روپے کے یکمشت اضافے کے باوجود پورے ملک کے بے شمار پٹرول پمپ اب 10یا 15لیٹر سے زیادہ بیچنے کو تیار نہیں ہورہے۔ انہیں یہ خوف ہے کہ حکومت ڈیزل اور پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ کرنے کی تیاری میں ہے۔

حکومتی ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر چند وزراء اور اعلیٰ افسران پر مشتمل ایک کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر ملک میں موجود تیل کے ذخائر کا جائزہ لیتی ہے۔ بدھ کی رات تک دو سے زیادہ قابل اعتبار ذرائع نے مجھے کامل اعتماد سے بتایا کہ پاکستان کے پاس آئندہ تین ہفتوں کے ذخائر موجود ہیں۔ ایران کے ساحل کے قریب واقع آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود دیگر سمندری راستوں سے ہمارے ہاں عالمی منڈی سے تیل کے مزید ٹینکر بھی آئے ہیں۔

مختصر الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ کم از کم آئندہ 3ہفتوں تک ہمیں گھبراہٹ میں پٹرول خریدنے کی ضرورت نہیں۔ مجھ دو ٹکے کے صحافی کے لکھے پر عام صارف مگر اعتماد کیوں کرے؟ حکومت کے پاس "معاشی ماہرین" کی بھاری بھر کم نفری موجود ہے۔ جدید طرز کے سوٹ اور ٹائی سمیت وہ بھاری بھرکم اصطلاحات کے ذریعے ٹی وی سکرینوں پر عوام کو معیشت کے بارے میں سب اچھا دکھانے کی کاوشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ عام آدمی مگر ان کی گفتگو سمجھنے سے قاصر ہے۔ "سپلائی چین (Supply Chain)" یا "Inventory(غالباََ ذخیرہ)" جیسی اصطلاحیں مجھ جیسا نام نہاد پڑھا لکھا صارف بھی سمجھ نہیں سکتا۔

"ماہرین معیشت" کے ٹی وی سکرینوں کے ذریعے ہوئے پروفیسرانہ خطاب سے کہیں بہتر ہے کہ حکومت عالمی منڈی سے خریدے ذخائر کی ہر شام آسان الفاظ میں نشاندہی کردے۔ بازار میں فروخت ہوتے تیل کے اعدادوشمار بتادینے کے بعد ہمیں اس امر سے بھی آگاہ کردیا جائے کہ عالمی منڈی سے کتنے جہاز کس مقدار میں یہ جنس لے کر ہماری بندرگاہوں تک پہنچ چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس تناظر میں کیا پیش رفت متوقع ہے۔

سادہ ترین الفاظ میں بیان کئے ٹھوس اعدادوشمار ہی صارفین کو گھبراہٹ میں خریداری سے باز رکھ سکتے ہیں۔ عام لوگوں کو ٹھوس حقائق سے آگاہ کرنے کے بعد آپ اگر جائز بنیادوں پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کریں تو لوگ اسے برداشت کرنے کو آمادہ ہوسکتے ہیں۔ بند کمروں میں لئے فیصلوں کا "اچانک" اعلان انہیں مضطرب بناتا ہے۔ حقائق کو نگاہ میں رکھتے ہوئے اس ہفتے کے آخری کالم میں امید دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت عید سے قبل صارفین پر قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافے کے ذریعے "پٹرول بم" پھینکنے سے گریز کرے گی۔ یہ لکھنے کے بعد ربّ کریم سے فریاد ہے کہ میرا دعویٰ سچ ثابت ہو۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.