آج سے تقریباََ 8 برس قبل تک سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارموں کو دیوانگی کی حد تک اپنے "گرانقدر خیالات" کے فروغ کے لئے گھنٹوں استعمال کرنے کا عادی رہا ہوں۔ ربّ کا لاکھ بار شکر کہ نئے خیالات اور کتابوں کی جستجو کی بدولت ایک کتاب کا علم ہوا۔ اسے ترکی سے امریکہ منتقل ہوئی ایک نہایت محنتی خاتون نے برسوں کی تحقیق کے بعد مرتب کیا تھا۔ نام اس خاتون کا زینب توفیقی ہے جو صحافت اور ہنر ابلاغ کے اسرارورموز جاننے امریکہ گئی تھی۔ اس کے وہاں قیام کے دوران مصر میں "عرب بہار" پھوٹ پڑی۔
زینب نے چند امریکی اخبارات کو اپنے خرچے پر مصر جانے کی پیش کش کی۔ اس وعدے کے عوض کہ مصر کے التحریر اسکوائر میں جمع ہوئے "انقلابیوں" کے ہمراہ رہتے ہوئے وہ خبروں اور مشاہدات کی صورت جو تحریریں بھجوائے گی وہ قابل اشاعت ہوئیں تو چھپنے کے بعد ان کا معاوضہ اسے مصر بھجوایا جائے گا۔ اپنے محدود وسائل اور لگن کے ساتھ اس نے نوجوان مسلم خاتون ہوتے ہوئے مصر کے بے تحاشہ انقلابی گھرانوں کے رکن کی حیثیت اختیار کرلی۔ اس کی التحریر اسکوائر سے بھیجی خبریں اور مشاہدات انوکھے پن کے علاوہ برسرزمین حقائق کے نئے پہلوئوں کے انکشاف سے حیران کردیتے۔
"عرب بہار" بالآخر حسنی مبارک کے استعفیٰ پر منتج ہوئی۔ اس کے طویل آمرانہ دور کے اختتام کا کلیدی سبب سوشل میڈیا خصوصاََ ٹویٹر کو ٹھہرایا گیا۔ یہ فرض کرلیا گیا کہ روایتی کے مقابلے میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ مصر جیسے ممالک کی ریاستیں خصوصاََ اسے کنٹرول کرنے کے قابل نہیں۔ کسی بھی ملک کے نوجوان موبائل فون کی بدولت واٹس ایپ پر ہم خیالوں کے گروپ بناکر 24/7ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہوئے بڑے شہروں کے کسی بھی مقام پر "اچانک" بہت بڑی تعداد میں جمع ہوکر ریاست کو حیران وپریشان کرسکتے ہیں۔ "برجستہ" انداز میں چلائی ان کی تحریک بالآخر جنگل کی آگ کی طرح پھیل کر برسوں سے مسلط شدہ آمرانہ نظام کا خاتمہ کردیتی ہے۔
"عرب بہار" کے نتیجے میں لیکن مصر میں اخوان المسلمین کی جو حکومت قائم ہوئی بتدریج "انقلابیوں" کو غیر مطمئن کرنا شروع ہوگئی۔ ان کے عدم اطمینان نے مصر کی روایتی اشرافیہ کو نئی توانائی بخشی۔ اخوان المسلمین کی حکومت سے نجات پانے کے لئے اس کے سدھائے نوجوان بھی "عرب بہار"کی طرح قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ ان کی تحریک کے نتیجے میں مصر کی فوج ایک بار پھر ملکی استحکام بحال کرنے کے نام پر ا قتدار سنبھالنے کو مجبور ہوئی اور کئی برسوں سے السیسی کی قیادت میں ایک ہائی برڈ نظام چلارہی ہے۔
"عرب بہار" کے مایوس کن انجام نے زینب توفیقی کو ایک بار پھر مصر جاکر ان گھرانوں سے روابط کو مجبور کیا جو حسنی مبارک کے آمرانہ نظام کے خلاف گھر بار چھوڑ کر التحریر اسکوائر کے خیموں میں رہتے ہوئے کئی دنوں تک احتجاج میں مصروف رہے تھے۔ ان گھرانوں کے نمایاں افراد خصوصاََ کمانے والے مرد ملکی استحکام بحال کرنے کے نام پر قائم ہوئے بندوبستِ حکومت نے جیلوں میں بھجوارکھے ہیں۔ ان کی ذاتی زندگیاں کربناک دشواریوں کے ناقابل بیان عذاب کا سامنا کررہی ہیں۔ "عرب بہار" کے ایسے انجام نے زینب کو ٹویٹر پلیٹ فارم کا نئے انداز میں جائزہ لینے کو اُکسایا۔ کم از کم دو برس کی تحقیق کے بعد اس نے "ٹویٹر اور آنسو گیس"کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جو ٹویٹر کی مدد سے لائے "انقلاب" کی ناکامی یقینی بنانے والے اسباب تفصیلاََ سمجھادیتی ہے۔
زینب توفیقی کی لکھی کتاب نے مجھے سوشل میڈیا کی محدودات سے آگاہ کیا۔ انہیں جان لینے کے باوجود سوشل میڈیا کے نشے سے چھٹکارا پانے میں بڑی دِقت کا سامنا کرنا پڑا۔ ہجوم میں مقبول تصورات کا ایک فرد کے لئے مقابلہ کرنا بہت دشوار ہے۔ نہایت پڑھے لکھے لوگوں کی جس محفل میں بھی بیٹھو وہاں آپ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں میں Bulge Youth ہے۔ "بلج" کا سادہ ترین اردہ ترجمہ میسر نہیں۔ یہ لفظ مگر حاملہ خاتون کے پیٹ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ غالباََ اسی باعث پاکستان جیسے ملکوں میں اسے استعمال کرتے ہوئے امید یہ باندھی جاتی ہے کہ 18سے 30سال کی درمیانی عمر والے نوجوان اپنی تعداد کے اعتبارسے معاشرے کا سب سے بڑا حصہ ہوتے ہوئے معاشرے کو نظام کہنہ کے "بڈھے" محافظوں سے نجات دلادیں گے۔
Gen-Z نصابی اعتبار سے نوجوانوں کے ایک مخصوص حصے تک محدود ہے۔ اسے مگر اب "یوتھ بلج" تک پھیلادیا گیا ہے۔ حال ہی میں نیپال اور بنگلہ دیش میں جو احتجاج ہوئے تھے انہیں جن-زی کے لائے "انقلاب" شمار کیا گیا۔ بنگلہ دیش میں لیکن اس کے نتیجے میں چند روز قبل ہی جو انتخاب ہوئے ہیں وہ "موروثی سیاست" کی بدولت ابھرے طارق رحمان کو دو تہائی اکثریت کے ساتھ اس ملک کا وزیر اعظم بنانے کا سبب ہوئے۔ ان کی والدہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہی ہیں۔ والد نے مارشل لاء لگانے کے بعد صدر کا عہدہ سنبھالا تھا اور فوج چھوڑ کر بی این پی کے نام سے جو جماعت تشکیل دی وہ اقتدار میں لوٹ آئی ہے۔ بنگلہ دیش کی جن-زی نے حسینہ واجد کو بھارت فرار ہونے کو مجبور کرنے کے بعد اپنی ایک سیاسی جماعت بنائی۔ جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا مگر قومی اسمبلی کیلئے 6سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں کر پائی۔
بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے جن-زی کی محدودات کے بارے میں پرخلوص سوالات اٹھائو تو فیس بک اور ایکس پر "شکست خوردہ بڈھے" کو بسااوقات غلیظ گالیاں بھی سننے کو ملتی ہیں۔ یاد دلایا جاتا ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل کے حقیقی ذمہ دار میری عمر کے لوگ ہیں جو بدعنوانی پر مبنی نظام کا اپنے ضمیر مردہ ہونے کی وجہ سے حصہ بنے رہے۔ آج کی نوجوان نسل ہمارے اٹھائے سوالات پر توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتی۔ ان کے جوابات فراہم کرنا تو دور کی بات ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے مگر ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے مقبول ترین سیاستدان شمار ہوتے خان کی طبی مشکلات کا تواتر اور شدت سے ذکر ہورہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مجھ سادہ لوح نے یہ محسوس کیا کہ "عوامی جذبات"سے گھبرا کر حکومت انہیں ہسپتال منتقل کرنے کو مجبور ہوجائے گی۔ سپریم کورٹ کی آئین میں 26ویں اور 27ویں ترامیم کے باوجود مداخلت بھی لیکن ان کی ہسپتال منتقلی ممکن نہیں بنا پائی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ماہرین امراضِ چشم نے عمران خان کی آنکھ کا جیل میں جدید ترین آلات کی مدد سے جو معائنہ کیا ہے وہ فی الوقت ہسپتال منتقلی کا تقاضہ نہیں کررہا۔ منگل کی سہ پہر مگر بانی تحریک انصاف کی اہلیہ نے جیل میں ملاقات کرنے والے اپنے عزیزوں کو یہ بتایا ہے کہ ان کے شوہر اپنی آنکھ کے معائنے اور اب تک ہوئے علاج کے بارے میں مطمئن محسوس نہیں کررہے۔
بشریٰ بی بی سے ملاقات کرنے والوں کی بتائی "خبر" کے بعد عمران خان کے تمام خیر خواہوں کو یکسو ہوکر مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ بانی تحریک انصاف کی آنکھوں کا دوبارہ معائنہ لازمی ہے اور یہ ان ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے ہونا چاہیے جن کے وہ نام لے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تاہم ٹھنڈے دل سے توجہ دیں تو تمام تر "رش" علی امین گنڈا پور لے رہے ہیں۔ وہ بانی تحریک انصاف کی تمام تر مشکلات کا ذمہ دار ان کی بہنوں کو ٹھہرارہے ہیں۔ بانی تحریک انصاف کے طبی مسائل چسکہ فروشی کے اس شور میں ثانوی محسوس ہورہے ہیں۔ زینب توفیقی کی سمجھائی سوشل میڈیا کی محدودات پاکستان میں عملی طورپر نمایاں ہونا شروع ہوگئی ہیں۔