"خبر" نام کی شے "اخبارات" میں ان دنوں کم ازکم 24گھنٹے گزرجانے کے بعد دیکھنے کو ملتی ہے اور قارئین اسے تفصیل سے پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کسی زمانے میں کوئی اہم ترین یا ناگہانی واقعہ ہوجاتا تو اخبارات اس کے حوالے سے "ضمیمہ" چھاپتے۔ ہاکر حضرات پھیپھڑوں کا زور لگاکر نکالی آوازوں سے اسے بازاروں میں بیچتے۔ 24/7ٹی وی نے مگر انہونی خبروں پر اخبارات کا اجارہ رواں صدی کے آغاز سے ختم کرنا شروع کردیا۔ اخبارات کے مجھ جیسے رپورٹروں سے خبر دینے میں پہل کے امکانات چھن گئے تو وہ "تبصرہ نگاری" کے نام پر دوسروں کی دی خبروں کی بطور کالم نگار یا اینکر پرسن جگالی میں مصروف ہوگئے۔
ہر لمحے کی "خبر" دینے پر 24/7چینلوں کا اجارہ بھی لیکن بتدریج ختم ہورہا ہے۔ میں یہ بات تسلیم نہیں کرتا کہ یہ اجارہ ٹی وی چینلوں سے منسلک رپورٹروں کی نااہلی کی وجہ سے ختم ہوا ہے۔ اصل وجوہات بیان کرنے کی جرات سے اگرچہ محروم ہوں۔ قارئین وناظرین ان سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی باعث "تازہ ترین" جاننے کے لئے ٹی وی کھولنے کے بجائے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل فون سے رجو ع کرتے ہیں۔
اس رحجان کے ہوتے ہوئے میں بدنصیب یہ سمجھنے سے ہرگز قاصر ہوں کہ 24/7 چینلوں کو بروقت"خبر" دینے سے روکا کیوں جاتا ہے۔ مقصد اگر "سنسنی خیزی" کی حوصلہ شکنی ہے تو وہ سوشل میڈیا کی بدولت فی الفور پھیل جاتی ہے۔ صحافتی تقاضوں کا احترام بلکہ روایتی میڈیا کو خبر دیتے وقت سنسنی خیزی سے گریز ہی کو مجبور کرتا ہے۔ اس کی جانب سے "خبر" دینے میں تاخیر مگر اس کی ساکھ تباہ کررہی ہے۔ ساکھ کھودینے کے بعد روایتی میڈیا "ذہن سازی" کے قابل ہی نہیں رہتا۔ قوم کو "سیدھی راہ" پر رکھنے کے لئے روایتی میڈیا کی ساکھ لہٰذا ہر صورت بحال کرنا ہوگی۔ اس جانب مگر توجہ ہی نہیں دی جارہی۔
چند دن قبل بلوچستان کے دس سے زیادہ اضلاع میں بیک وقت دہشت گردی کے کئی واقعات ہوئے۔ ان کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ بلوچستان کے معاملات سمجھنے کے لئے اب "صحافی" نہیں ذہن اور بیانیہ سازوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ بیانیہ ساز مگر اپنی ترجیح کے تحت چنے حقائق کو سیاق وسباق سے جدا کرکے اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تعصبات کو مزید بھڑکانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
بلوچستان کے علاوہ خیبرپختونخواہ بھی گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی زد میں ہے۔ وقتاََ فوقتاََ اس صوبے میں ابھری دہشت گردی کے ذمہ دار عناصر پنجاب اور پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی اپنا اثرووجود دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کراچی، لاہور یا اسلام آباد میں ہوئی دہشت گردی کو روایتی میڈیا صارفین کی کثیر تعداد کو ذہن میں ر کھتے ہوئے فوراََ رپورٹ کرنے کو مجبور ہوجاتا ہے۔ چند دن بعد مگر دہشت گردی کے واقعات کی خبر اور اس کی بنیاد پر ہوئے تجزیے باسی ہوجاتے ہیں۔ "خلقت شہر" بقول احمد فراز ویسے بھی نئی کہانیاں سننے کو بے چین ہوتی ہے اور "ہم آنے والی تھاں " پر واپس آجاتے ہیں۔
گزرے جمعہ کے روز اسلام آباد کی ایک نواحی بستی میں موجود امام بارگاہ میں دہشت گردی کی دلخراش واردات ہوئی۔ ہر لمحے کی خبر دینے کے دعوے دار 24/7چینلوں نے اسے نشر کرنے میں تاخیر اختیار کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی برتی ذمہ داری کی مگر قدر ہی نہ ہوئی۔ "بکا? میڈیا" کی بلکہ ملامت شروع ہوگئی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کا ہولناک سانحہ ہوجانے کے بعد پنجاب حکومت کی سرپرستی میں بسنت منائی جائے یا نہیں۔
اس سوال کے حوالے سے جو بحث ہوئی اس نے ناظرین کی بے پناہ تعداد کو اس سوال پر غور کرنے کی مہلت ہی نہ دی کہ بے تحاشہ حوالوں سے "محفوظ" بنائے اسلام آباد کے نواح میں دہشت گرد کیسے اور کیوں درآئے۔ ایک مخصوص عبادت گاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا۔ اسے نشانہ بناتے ہوئے پاکستان کے عوام اور ریاست کو کیا پیغام دینا مقصود تھا۔ کامل توجہ بسنت کی جانب منتقل ہوگئی۔ اس کی بدولت بھڑکائے جذبات نے حکومت پنجاب کو بالآخر بسنت کی سرپرستی سے دست بردار ہونے کو مجبور کردیا۔ بسنت منانے یا نہ منانے کا اختیار لاہور کے شہریوں کو لوٹا دیا گیا۔
"تیوہار" ویسے بھی سرکاری سرپرستی میں منعقدہو نہیں سکتے۔ یہ کسی معاشرے کی ثقافت سے جڑے ہوتے ہیں۔ لاہور اور بسنت کا تعلق کم از کم تین صدی پرانا ہے۔ جماندرو لاہوری ہوتے ہوئے بھی لیکن میں نے کبھی پتنگ نہیں اڑائی۔ بسنت اور پتنگ بازی سے لاتعلق مجھے اپنے شہر سے بیگانہ بھی نہیں کرپائی۔ میری لاتعلقی برداشت کرنا بلکہ لاہور کی وسعت قلبی اور آزادی فکر کی عرصہ سے معدوم ہوئی روایت کا مثالی نمونہ ہے۔
بسنت کی رونق نے دل میں کئی خوش گواریادیں جمع کررکھی ہیں۔ اس کی رونق کا بنیادی سبب بے فکری اور مختلف النوع ہنر تھے جو پتنگ سازی، ڈورتیار کرنے اور پتنگیں فضا میں اڑانے کے بعد دوسروں سے "پیچا" لگاتے وقت نمایاں ہوتے۔ دوسرے کی پتنگ کاٹنے کے بعد "بوکاٹا" کی آوازوں کا مقصد تضحیک نہیں بلکہ اپنے ہنر پر فخر کا اظہار ہوا کرتا تھا۔ کھلے دل مگر وقت گزرنے کے ساتھ تنگ ہونا شروع ہوگئے۔ "میاں بھائی "کو بھی " ٹانگ اونچی"رکھنے کی بیماری لاحق ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں دھات کی بنائی ڈور متعارف ہوئی جس نے پتنگوں کے بجائے راہ گیروں کے گلے کاٹنا شروع کردئیے۔ ریاستی ادارے قاتل ڈور کی تیاری روکنے میں ناکام رہے تو بسنت ہی خلاف قانون ٹھہرادی گئی۔ ہزار ہا ا حتیاطوں کے ساتھ اسے 18برس کی پابندی کے بعد منانے کا فیصلہ مگر سانحہ اسلام آباد کے بعد جی کو بہلانہیں پایا۔
اسلام آباد کی نواحی بستی میں قائم امام بارگاہ میں جمعہ کے روز ہوئے دلخراش واقعہ پر بھی اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی ترجیحات وتعصبات سے بالاتر ہوکر توجہ مبذول نہیں کی جارہی۔ خوش قسمتی سے مذکورہ واقعہ کے ذمہ دار اور سہولت کاروں کی بروقت نشان دہی ہوگئی۔ ریاستی اداروں نے انتہائی سرعت سے پورے نیٹ ورک کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی۔ چند اہم گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ ان گرفتاریوں کی بدولت "داعش" نام کی تنظیم کے پاکستان میں درآنے کا ٹھوس بنیادوں پر جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
تقریباََ دو دہائیاں قبل یہ تنظیم عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں نمودار ہوئی تھی۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد صدام حکومت کا خاتمہ اور اس کے بعد قابض ملک کی اپنائی پالیسیوں نے مذکورہ تنظیم کو ایک مخصوص تناظر میں ردعمل کے طورپر ابھارا۔ ہم پاکستانی مگر "مسلم اُمہ" پر گہری نگاہ رکھنے کے باوجود اس تنظیم کی فکری بنیادوں، تشہری انداز اور طریقہ ہائے دہشت گردی سے قطعاََ با خبر رہے۔ برسوں کی محنت اور سرمایہ کاری سے برادر ملک ترکی نے شام سے اس تنظیم کو فرار ہونے کو مجبور کردیاہے۔
افغانستان کے بے شمار علاقے اب اس کا مرکز بن رہے ہیں۔ طالبان انہیں قابو میں رکھنے کے قابل نہیں۔ ایسے حالات میں مذکورہ تنظیم کا اثرووجود پاکستان کے لئے مزید مشکلات کھڑی کرے گا۔ اس حوالے سے "ذہن سازی" سے قبل مگر روایتی میڈیا کو حقائق بیان کرنا ہوں گے۔ حقائق کی کماحقہ رپورٹنگ کے بعد ہی روایتی میڈیا "ذہن سازی" میں مددگارثابت ہوسکتا ہے۔ اس کی ساکھ اور وقعت کو سوشل میڈیا کی پھیلائی ہیجان انگیزی کا مقابلہ کرنے کیلئے بحال کرنا ہوگا۔