Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Najam Wali Khan
  4. Basant Ne Maryam Ko Super Cm Bana Diya

Basant Ne Maryam Ko Super Cm Bana Diya

ہم جیسے احتیاط پسندوں کی احتیاطیں دھری کی دھری رہ گئیں اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بسنت کو محفوظ بنا کے دکھا دیا، یقین جانیے مجھے جمعہ، ہفتہ تک یہ یقین نہیں تھا کہ بسنت جانیں لیے بغیر بھی ہو سکتی ہے چاہے حکومت جتنے مرضی اقدامات اور انتظامات کر لے مگر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے پر اپنی انتظامی گرفت، ثابت کر دی۔ یہ وہ فیصلہ تھا جو پنجاب کے طاقتور ترین وزرائے اعلیٰ بھی نہیں لے سکے تھے کیونکہ اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کا خدشہ تھا۔

ہماری نسل نے بسنتیں دیکھی ہوئی ہیں سو اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہلاکتیں تو ایک طرف رہیں اس مرتبہ بجلی کی بھی بندش کم رہی جو پہلے بہت زیادہ ہوا کرتی تھی۔ ہم ٹریفک کے نظام میں جس طبقے کو سب سے زیادہ شتر بے مہار سمجھتے ہیں وہ موٹرسائیکل سواروں کا طبقہ ہے۔ اس پر قانون کا اطلاق سب سے زیادہ مشکل ہے۔ یہ ہیلمٹ پہننے کو تیار نہیں ہوتا، یہ کیمرے لگے ہونے کے باوجود ٹریفک سگنلز کی پابندی کرنے پر تیار نہیں ہوتا، یہ سب سے زیادہ ون وے کی خلاف ورزی کرتا ہے، آدھوں سے زیادہ کے اشارے، بیک لائٹ اور بیک ویو مرر نہیں ہوتے مگر حکومت پنجاب نے، لاہور کی انتظامیہ نے کمال کر دکھایا کہ پچانوے فیصد سے بھی زائد موٹرسائیکلوں پر حفاظتی راڈز لگوا دئیے جس کے بعد ڈورسے گلے کٹنے والا کام نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔

پہلے روز جن دو ہلاکتوں کی خبر آئی ان میں سے ایک اس احمق (معذرت کے ساتھ) کی تھی جو پتنگ اتارنے کے لیے کھمبے پر بہت اوپر تک چڑھ گیا اور تاروں سے کرنٹ لگوا بیٹھا۔ دوسری ایک ویڈیو اس شخص کی تھی جس نے منہ میں پٹرول بھر کے آگ لگانے کی کوشش کی۔

جب میں یہ کہتا ہوں کہ بسنت نے مریم نواز کو سپر سی ایم ثابت کر دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی اپنے صوبے کے اوپر انتظامی گرفت جتنی مضبوط ہوگئی ہے اور وہ جس طرح قانون کی عملداری کرا رہی ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یوں بھی مرد سیاستدانوں کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ اپروچ ہو جاتے ہیں مگر خواتین کو ان کے فیصلوں پر اپروچ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے جس طرح پنجاب بھر کے بازاروں سے تجاوزات کا خاتمہ کیا وہ بھی تاریخ ساز ہے۔

میں نے اپنے پرانے، روایتی مگر گندے بازاروں کی شکل بدلتے ہوئے دیکھی ہے۔ میری عمر اچھرہ بازار کے قریب ہی گزری اور میں نے اچھرہ بازار کی انٹرنس کو جس طرح تبدیل ہوتے دیکھا ہے، وہاں جس طرح پارکنگ کو منظم ہوتے دیکھا ہے وہ میرے لیے حیران کن ہے۔ اچھرہ لاہور کا سب سے بڑا ریٹیل کا بازار ہے اور شہر کے دل میں واقع ہے۔ مجھے اچھرے کو دیکھ کے استنبول کا سپائس بازار یاد آ جاتا ہے جو ٹوریسٹس کی ایک بڑی اٹریکشن ہے۔

میں اکثر سوچتا تھا کہ لاہور کا اچھرہ بازار، سپائس بازار اور انارکلی میں نیلا گنبد چوک، سیاحتی مرکز کیوں نہیں بن سکتا تو اب وہ بننے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک اور کارنامہ پنجاب کو صاف ستھرا کرکے بھی کیا ہے۔ میں کراچی سے آنے والوں کی ٹک ٹاک اور شارٹ ویڈیوز دیکھتا ہوں تو ان کے جوش و خروش سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کراچی سے لاہور نہیں بلکہ دوبئی پہنچ گئے ہوں۔ اس بسنت نے جنریشن زی کو بھی ایک نیا تجربہ اور مزا دیا ہے۔ انہیں پتنگوں میں تناویں ڈالنا اور کنی دینا بھی آ گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی لاہور کا لبرٹی چوک مجھے استنبول کے تقسیم سکوائر سے زیادہ مقبول ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

بسنت کے حوالے سے ایک انکشاف جو میں نے اپنے ویلاگ میں بہت روز پہلے کیا تھا وہ یہاں بھی دہراتا چلوں کہ بسنت کا فیصلہ میاں محمد نواز شریف کا تھا اور اسے تبدیل کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔ میں نے ویلاگ میں مثال دی تھی کہ یہ فیصلہ اس شخص کا تھا جس پر پرویز مشرف کا مارشل لا لگاتے ہوئے کچھ جرنیلوں نے بندوق تان لی تھی اور کہا تھا کہ اپنے استعفے اور اسمبلیاں توڑنے کی ایڈوائس پر دستخط کر دو مگر نواز شریف اس گن پوائنٹ پر مطالبے پر جواب تھا "اوور مائی ڈیڈ باڈی۔۔ " اور یہ کسی ٹی وی پروگرام میں کہا گیا ایبسولیوٹلی ناٹ نہیں تھا بلکہ ایک حقیقی زندگی میں اپنے اس فیصلے پر اٹل ہونا تھا جو خدانخواستہ ان کی جان بھی لے سکتا تھا۔ سو جب (میرے سمیت) بہت ساروں نے بسنت منانے پر خطرات بیان کیے تو ہمیں یہ بھی اندازہ تھا کہ یہ فیصلہ تبدیل نہیں ہوگا۔

یہاں ایک اور اہم نکتے کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی والے کیوں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بسنت ناکام رہی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ بسنت کو کامیاب تسلیم کر لیں گے تو انہیں مریم نواز کی انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا پڑے گا، انہیں سپر سی ایم ماننا پڑے گا مگر یہ کلٹ عثمان بزدار جیسے نمونے کی تو تعریفیں کر سکتا ہے جس نے صوبے کو کچرا کنڈی بنا دیا تھا، شہباز شریف دور کی تمام بہتری کو بھی زیرو کر دیا تھا مگر نفرت اور تعصب کے مارے یہ لوگ حقیقی ترقی اور تبدیلی کی تعریف نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی تبدیلی صرف اتنی تھی کہ یہ پڑھے لکھوں سے ذہنی غلاموں میں تبدیل ہو گئے، شاہ دولہ کے چوہوں میں بدل گئے۔ ان کی حمایت اور مخالفت شخصیت کی بنیاد پر ہیں، یہی بسنت اگر ان کے مہاتما اناؤنس کرتے تو یہ دنیا کا سب سے بڑا عوامی، ثقافتی تہوار ہوتا۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرا تجزیہ غلط تھا کہ محفوظ بسنت ناممکن ہے۔ یہ تجزیہ اس طرح غلط ثابت ہوا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے محفوظ بسنت کرکے دکھا دی ہے۔ بسنت سمیت کسی بھی اقدام کی حمایت اور مخالفت صرف اور صرف اس کے اثرات و نتائج کے حوالے سے ہی ہو سکتی ہے۔ اگر بسنت بچوں کی قاتل نہ ہو تو یہ بڑی کلچرل ایکٹویٹی ہے اور اس نے بڑی اکنامک ایکٹویٹی بھی جنریٹ کی ہے۔ لاہور کے ہوٹلوں میں پورے ہفتے سے ایک بھی کمرہ دستیاب نہیں تھا۔ سب نے دیکھا کہ بیرون ملک ہی نہیں بلکہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ تک سے آنے والی ٹرینوں پر، ریلوے سٹیشنوں کی ویڈیوز کے مطابق، کیسا رش رہا بلکہ سوشل میڈیا پر یوں لگا کہ آدھا کراچی لاہور آ گیا تھا تاکہ بسنت منا سکے۔ پتنگ بازی بسنت کا اہم ترین فیچر ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ لاہور کے کھابے بھی ہیں۔

میں نے دیکھا کہ اندرون لاہور تھا یا مزنگ کی ٹمپل روڈ، صبح تین تین بجے تک پارکنگ تک نہیں مل رہی تھی۔ لاہوریوں کو زندہ دلان کہا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ لاہور کی بسنت بہت زیادہ مشہور ہے۔ محفوظ بسنت نے راستہ کھول دیا ہے کہ اگلے مرحلے میں قصور، فیصل آباد، سیالکوٹ سمیت دیگر شہروں میں بھی بسنت ہو کیونکہ ان بسنتوں نے بھی مارکیٹ، بنانا شروع کر دی تھی۔