Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Muhammad Irfan Nadeem
  4. Basant: Muslim, Hindu Aur Angrez Musanifeen Ke Hawale Se

Basant: Muslim, Hindu Aur Angrez Musanifeen Ke Hawale Se

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انسانی تاریخ کے دورِ اوّل سے ہی مذہب کا انسانی معاشرے پر بہت گہرا اثر رہا ہے۔ قدیم انسانی معاشرے میں کسی ایسے تہوار، یا ثقافتی سرگرمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس کی تائید مذہبی تعلیمات سے نہ ہوتی ہو۔ اقوامِ عالم کے معروف تہوار ایک مخصوص پس منظر رکھتے تھے۔ یہودیوں کا سب سے بڑا تہوار"ھنوکا" ایک مذہبی تہوار تھا۔ عیسائیت جو دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے، اس میں بھی کرسمس اور ایسٹر مذہبی جوش وخروش سے منائے جاتے ہیں۔

ہندومت میں بھی دیوالی، دسہرا، ہولی، بیساکھی اور بسنت مذہبی جو ش وخروش سے منائے جاتے ہیں۔ دیوالی، دسہرا اور ہولی کے متعلق تو سب جانتے ہیں کہ یہ ہندوؤں کے مذہبی تہوار ہیں مگر بیساکھی اور بسنت کے متعلق یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ موسمی اور ثقافتی تہوار ہیں۔

آج ہم یہ حقیقت واضح کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کے قابل فخر محقق اور سائنسدان ابوریحان البیرونی تقریباً ایک ہزار سال قبل ہندوستان تشریف لائے تھے۔ انہوں نے کلر کہار کے نزدیک ہندوؤں کی معروف یونیورسٹی میں عرصہ دراز تک قیام کیاتھا، وہیں انہوں نے اپنی شہرئہ آفاق تصنیف کتاب الہند تصنیف کی تھی۔ یہ کتاب آج بھی ہندوستان کی تاریخ کے ضمن میں ایک مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کے باب نمبر 76 میں انہوں نے عیدین اور خوشی کے دن کے تحت ہندوستان میں منائے جانے والے مختلف مذہبی تہواروں کا ذکر کیا ہے۔

اس میں عید "بسنت" کا ذکر کرتے ہوئے البیرونی لکھتے ہیں: "اسی مہینہ میں استوائے ربیعی ہوتا ہے جس کا نام بسنت ہے، اس دن لوگ عید مناتے ہیں، برہمنوں کو کھاناکھلاتے ہیں اور دیوتاؤں کے نام نذر یں چڑھاتے ہیں۔ " اس مستند تاریخی حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ بسنت ہندوؤں کا ایک خالص مذہبی تہوار ہے اور اس کا کسی موسم یا ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ماضی قریب میں اس کا دوبارہ احیا کیسے اور کس طرح ہوا؟

یہ حقیقت بھی ہم آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ ماضی قریب میں لاہور کے ایک ہندو طالب علم حقیقت رائے نے رسالت مآب کی شان میں گستاخی کی، یہ مغلیہ دور حکومت تھا، قاضی نے حقیقت رائے کو موت کی سزاسنادی۔ اس وقت پنجاب کا گورنر زکریا خان تھا۔ ہندوؤں نے زکریا خان سے حقیقت رائے کی معافی کی درخواست کی لیکن زکریاخان نے اسے مسترد کردیا۔ حقیقت رائے نے اقرارِ جرم کر لیا تھا، لہٰذا اسے پھانسی دے دی گئی۔ لاہور کے ہندوؤں نے اس واقعہ کے خلاف شدید جذباتی ردّعمل کا اظہار کیا۔

ہندوؤں کے لئے یہ توممکن نہیں تھا کہ وہ کوئی تحریک چلاتے، البتہ انہوں نے حقیقت رائے کی یاد میں ایک میلہ منانا شروع کردیا جو احتجاج کی ایک نرم مگر مؤثر صورت تھی۔

خود ہندومؤرخین نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ مشہور ہندو مؤرخ ڈاکٹر بی ایس نجارنے اپنی کتاب "Punjab under the later Mughals" میں اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے۔ "یہ 1734 کا واقعہ ہے حقیقت رائے باگھ مل پوری جوسیالکوٹ کے کھتری کا پندرہ سالہ لڑکا تھا، اس کو مسلمانوں کے سکول میں داخل کیا گیا تھا، وہاں ایک مسلمان استاد نے ہندو دیوتاؤں کے بارے میں کچھ باتیں کہی، حقیت رائے نے جواباً پیغمبر اسلام اور سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شان میں نازیبا الفاظ کہے۔ اس جرم پرحقیقت رائے کو گرفتار کرکے عدالتی کارروائی کے لئے لاہور بھیجا گیا۔ قاضی نے اسے موت کی سزا سنائی اور اسے پھانسی دے دی گئی"۔

اسی کتاب کے صفحہ 279 پرڈاکٹر ایس بی نجار لکھتے ہیں: "پنجاب میں بسنت کا میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے"۔ ایک انگریز مورخ الیگزینڈر بریز مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں لاہور آیا تھا، اس نے یہاں بسنت منانے کا ذکرکرتے ہوئے لکھا ہے: "بسنت کا تہوار 6 فروری کو بڑی شان و شوکت سے منایا گیا۔ رنجیت سنگھ نے ہمیں اس تقریب میں مدعو کیا، ہم اس کے ہمراہ ہاتھیوں پر سوار ہو کر اس میلہ کی بہار دیکھنے چلے۔ مہاراجہ نے بیٹھ کر پہلے گرنتھ صاحب کا پاٹھ سنا، پھر گرنتھی کو تحائف دیئے۔ اس کے بعد اُمرائ، وزراء افسران آئے جنہوں نے زرد لباس پہن رکھے تھے، انہوں نے نذرانے پیش کیے۔ اس کے بعد طوائفوں کے مجرے ہوئے اور مہاراجہ نے دل کھول کر اِنعامات دیئے"۔

ڈاکٹر گوکل چند نارنگ تقسیم ہند سے قبل حکومتِ پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کے وزیر تھے۔ وہ اپنی انگریزی تصنیف "ٹرانسفرمیشن آف سکھ ازم" میں بسنت میلے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "فیصلہ سنا دیا گیا اور لاہور کے عین مرکز میں تمام ہندو آبادی کی آہوں میں لڑکے کا سرقلم کردیا گیا۔ اس کی کریا کرم میں سب امیر و غریب شامل ہوئے اور اس کی راکھ لاہور کے مشرق میں چار میل دور دَبا دی گئی جہاں اس کی یادگار ابھی تک قائم ہے جس پر ہر سال بسنت پنچمی کے روز جو اس کی شہادت کا دن ہے، میلہ لگتا ہے"۔

یہ مسلم ہندو، سکھ اور انگریز مصنفین کے حوالے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ بسنت ایک گستاخ رسول کی یاد میں منایا جانے والا خالص ہندو مذہبی تہوارہے۔ مگر افسوس کہ آج بڑے وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جاتی ہے کہ بسنت ایک موسمی اور ثقافتی تہوار ہے جس کا مذہب اور قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ وہ جھوٹ ہے جو سادگی اور سچائی کی ملمع کاری کرکے بیچا جا رہا ہے۔ اس ملمع کاری کے پیچھے فحاشی، شراب نوشی، جنسی بے راہ روی اور سماجی اباحیت کو چھپایا جا رہا ہے۔

آج لاہور میں، بسنت کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آج ہی کے اخبارات میں یہ خبریں چھپی ہیں کہ شراب کے دام مہنگے ہو گئے ہیں۔ طوائفوں کے ریٹ بڑھ گئے ہیں اور رقص و سرود کے انتظامات سر عام ہو رہے ہیں۔ فائیو سٹار ہوٹلوں، پوش علاقوں کی کوٹھیوں، فارم ہاؤسز اور حویلیوں میں بسنت کے نام پر جوکچھ ہو رہا ہے، اس میں پتنگ بازی محض ایک علامتی سرگرمی رہ جاتی ہے، اصل اہتمام شراب و کباب، رقص و سرود اور جنسی ماحول سازی کا ہوتا ہے۔ شراب کے باقاعدہ کاؤنٹر سجائے جاتے ہیں، جہاں مہنگی ترین غیر ملکی شراب دستیاب ہوتی ہے۔ پروجیکٹرز کے ذریعے گانے چلائے جاتے ہیں، بے ہودہ فلمی مناظر دکھائے جاتے ہیں اور موسیقی کے نام پر شور و غوغا برپا کیا جاتا ہے۔

خواتین و حضرات ایسے ملبوسات میں نظر آتے ہیں جن کا تعلق کسی ثقافت سے نہیں محض عریانی اور نمائشِ جسم سے ہوتا ہے۔ بے ہودہ ہوٹنگ، فحش جملے، مجنونانہ نعرے اور اخلاق سے گری ہوئی حرکات، اس ماحول کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔ اداکاراؤں اور طوائفوں کو ہائر کیا جاتا ہے، انہیں چھتوں اور ہالوں میں رقص کے لیے بلایا جاتا ہے اور "بو کاٹا" کے نعرے لگوا کر ایک اجتماعی جنسی ہیجان کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ دو چار کوٹھیوں تک محدود نہیں، بلکہ پورے لاہور میں سیکڑوں ایسے مقامات ہیں جہاں یہ مناظر کھلے عام دکھائی دیتے ہیں۔ کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ ایسے تہواروں کو روکے جو نہ صرف مذہبی اقدار کے خلاف ہوں بلکہ سماجی امن کے لیے بھی خطرہ بن چکے ہوں؟ کیا یہ سرپرستی دراصل اس بات کا اعلان نہیں کہ ریاست اخلاقی حدود سے دستبردار ہو چکی ہے؟

ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم شعوری یا غیر شعوری طور پر، ایک گستاخِ رسول کی یاد سے منسوب تہوار میں شریک تو نہیں ہو رہے۔ کیا ہم غیر مسلم مذہبی تہوار کو اپنا کر اس مشابہت کے گناہ میں مبتلا تو نہیں ہو رہے جس کے بارے میں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا تھا جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں اٹھایا جائے گا۔ اسی طرح آپﷺ نے واضح فرمایا تھا ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور ہماری عید عیدالفطر اور عید الاضحیٰ ہیں۔ بسنت کے نام پر جو لہو و لعب، اسراف، فحاشی، شور شرابہ، فائرنگ اور ہلڑ بازی ہو رہی ہے یہ کسی مہذب قوم کا شعار ہرگز نہیں ہو سکتا۔ دین اس کی اجازت دیتا ہے نہ اخلاق، نہ تہذیب اور نہ ہی ریاستی نظم و ضبط۔