Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Saadia Bashir
  4. Jungle Jungle Aag Lagi Hai, Nagri Nagri Tha Nahi Hai

Jungle Jungle Aag Lagi Hai, Nagri Nagri Tha Nahi Hai

دلدلی زمین میں اگنے والے درخت سانس لینے کے لئے اپنی صورت بدل لیتے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی جمالیاتی ذوق کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ بلکہ بقا کی ایک سادہ سی منطق ہے۔ جب مٹی آکسیجن مہیا کرنے سے قاصر ہو جائے تو جڑیں زمین کے اندر مرنے کے بجائے باہر آجاتی ہیں۔ پانی سے اوپر، ہوا کی سمت۔ سائنس انہیں (Pneumatophores) کہتی ہے، یعنی پاتے نہیں راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے۔

یہ اصول درختوں تک محدود نہیں۔ جانور بھی اسی اصول پر عمل کرتے ہیں۔ مینڈکوں کی آنکھیں سر کے بالکل اوپر ہوتی ہیں، اسی لئے وہ پانی میں چھپے رہ کر بھی سطحِ آب سے اوپر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ترتیب انہیں شکاریوں کے خطرے سے پہلے خبردار کر دیتی ہے۔ گرگٹ کی بے شمار اقسام موڈ، درجہ حرارت اور ماحول کے مطابق گہرے یا ہلکے رنگ اختیار کرتی ہیں۔ آکٹوپس اور کٹل فِش اپنی جلد کے خلیات (Chromatophores) کو سکیڑ یا پھیلا کر فوری طور پر ماحول کا رنگ اپنا لیتے ہیں۔

آرکٹک فاکس سردیوں میں برف کے مطابق سفید اور گرمیوں میں بھورے رنگ کی ہو جاتی ہے۔ فلاؤنڈر مچھلی سمندر کی ریت یا چٹانوں کے مطابق اپنا رنگ اور نمونہ بدل لیتی ہے۔ جانور عام طور پر شکار سے بچنے، شکار کرنے یا درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لئے رنگ بدلتے ہیں۔ ہشت پا سوتے ہوئے کچھ اور رنگ کا ہوتا ہے، جاگتے ہی کچھ اور۔ سائنس دان اسے محض رنگت کی تبدیلی نہیں، بلکہ حالتِ شعور کی علامت قرار دیتے ہیں۔

فطرت میں بقاء کا اصول شعورکی یہی تبدیلی ہے۔ جو ٹھہرے ذرا کچل دیے جاتے ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان اس قاعدے سے مستثنیٰ کیوں سمجھا جاتا ہے۔ انسان آکسیجن پر جیتا ہے، مگر رکاوٹ سانس کی کمی نہیں۔ تبدیلی سے انکار ہے۔ وہ وقت کے بدلتے تقاضوں کے سامنے اپنی روایات کو ڈھالنے کے بجائے انہیں ڈھال بنا لیتا ہے۔ وہ صورت کو بچانے کی کوشش میں سیرت کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔

پشت ہا پشت تجھے خون پلایا لالہ
پھر بھی رہتا ہے ترا سود بقایا لالہ

سارے بھگوان ترے حق میں کھڑے رہتے ہیں
مجھ پہ رہتا ہے کسی بھوت کا سایہ لالہ

آج بھی زیادہ تر شف شف کے منتظر ہیں۔ ہنر مندی سے زیادہ اشتہارات پیروں، فقیروں کی کرامات، محبوب کو قدموں میں ڈالنے، دوسروں کا دل بدلنے اور جادو ٹونے کے نام پر ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں اتنے طلبہ علم کے لئے باہر نہیں جاتے۔ جتنے بھکاری اور پھونکیں مارنے کے لئے جاتے ہیں اور پھر روایات کے نام پر دس، نو، سولہ سال کی بچیوں کی شادیوں کے لیے غل مچایا جاتا ہے۔ یہ روایت تحفظ نہیں۔ ایک منظم جال ہے اور تبدیلی کو نہ ماننے کی ضد میں یہ سوچ انتہائی فرسودہ، ظالمانہ اور خطرناک ہے۔

تکنیکی تبدیلی کوئی انتخاب نہیں، ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ یہ ہر سوسائٹی، ہر سماج کی بقا سے جڑی ہوئی ضرورت ہے۔ وقت ایک ہی رفتار سے سب پر نہیں گزرتا، مگر اس کا تقاضا سب سے ایک سا ہوتا ہے۔ خود کو بدلنا۔ ہم صدیوں پرانی روایات کو اٹھائے، سو سال پرانے طریقوں کے ساتھ بدلتی دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ روایت اگر حرکت میں نہ رہے تو تاریخ نہیں بنتی، بوجھ بن جاتی ہے۔

مسئلہ یہ نہیں کہ تکنیکی تبدیلی مشکل ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے معاشرے اسے اخلاقی خطرہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ کہیں اسے شیطانی چال کہا جاتا ہے۔ کہیں تہذیب دشمن قرار دیا جاتا ہے اور کہیں اس پر الزام تراشی اس طرح کی جاتی ہے۔ جیسے یہ کسی بیرونی سازش کا حصہ ہو۔ یوں ٹیکنالوجی کو مسئلہ بنا کر اصل مسئلے سے آنکھ چرا لی جاتی ہے۔ یعنی خود کو بدلنے کی نااہلی سے۔ تاریخ اس پر خاموش نہیں، جن معاشروں نے وقت کی زبان سمجھنے سے انکار کیا۔ ان کی حالت آج دگرگوں ہے۔ ان کی معیشتیں رکی ہوئی ہیں۔ تعلیمی نظام فرسودہ اور سماجی ڈھانچے اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ وہ آج بھی ماضی کے فخر میں سانس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ حال ان سے نئی ساخت، نئی سوچ اور نئی مہارت کا مطالبہ کر رہا ہے۔

فطرت میں کوئی چیز اپنی اصل صورت پر اصرار نہیں کرتی۔ انسان ہی ہے جو طریقہ بدلنے کو شناخت کے زوال سے جوڑ دیتا ہے۔ حالانکہ تکنیکی تبدیلی روایت کی نفی نہیں ہوتی، یہ اس کی تجدید ہوتی ہے، وہ روایت جو نئی صورت اختیار نہ کر سکے۔ وہ اگلی نسل تک منتقل ہی نہیں ہو پاتی۔ کیونکہ وقت کے ساتھ نہ بدلنے والے معاشرے آہستہ آہستہ تاریخ کے حاشیے پر چلے جاتے ہیں اور پھر شکایت صرف یہی رہ جاتی ہے کہ دنیا نے ہمیں پیچھے چھوڑ دیا۔

دیکھا جائے تو دنیا اپنی تبدیلی کے تقاضوں کے سامنے بے رحم ہے۔ وقت رکتا نہیں۔ چاہے ہم اپنی روایت کے سایے میں کتنا ہی محفوظ محسوس کریں اور منکرین تبدیلی محض ماضی کے فخر میں سانس لینے کی کوشش نہیں کر رہے۔ بلکہ حقیقت کے بنیادی دھار سے الگ ہو جاتے ہیں۔

تاریخ کی عدالت میں روایت کی عمر یا کسی شخص یا قوم کے احساسِ فخر کی کوئی قیمت نہیں۔ جو سوسائٹی وقت کی زبان نہیں سمجھتی۔ وہ داخلی طور پر کھوکھلی ہو جاتی ہے۔ خواہ اس کی عمارتیں، کتابیں اور رسم و رواج جتنے بھی پائیدار کیوں نہ لگیں۔ وہ باہر سے تو مضبوط دکھائی دے سکتی ہے، مگر اندر سے وہ پہلے سے ہی زوال کی راہ پر گامزن ہے، اس لئے بقاء کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ ہم خود کو بدلنے کی ہمت رکھیں، اپنی اقدار، رویوں اور عمل کی جانچ کریں اور ضرورت پڑنے پر انہیں نئے دور کے مطابق ڈھالیں۔

تبدیلی محض ضرورت نہیں بلکہ عقل، شعور اور محبتِ انسانیت کی علامت ہے، یہی وہ قوت ہے جو ہمیں تاریخ کے گرداب میں اکٹھے رکھتی ہے اور ہمیں نئی نسلوں کے لئے ایک زندہ، شعوری اور بامعنی روایت چھوڑنے کے قابل بناتی ہے لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جو روایت حرکت میں نہیں رہتی۔ وہ محض بوجھ بنتی ہے اور جو سماج خود کو بدلنے کی جرأت نہیں کرتا، وہ تاریخ کے کنارے کھڑا رہ جاتا ہے۔ بقاء کا فلسفہ اور انسانی شعور کا تقاضا ایک ہی سمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خود کو بدلنا، سیکھنا اور زندگی کی لچک کے ساتھ آگے بڑھنا۔ یہی وہ پیغام ہے جو فطرت ہمیں ہر جڑ، ہر پتے، ہر رنگ بدلنے والے جانور کے ذریعے دیتی ہے اور یہی اصول بقاء کے لئے بھی ناگزیر ہے۔ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا۔