Friday, 20 February 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Amir Khakwani
  4. Balochistan Mein Kya Karne Ki Zaroorat Hai?

Balochistan Mein Kya Karne Ki Zaroorat Hai?

بلوچستان کے بارے میں بات کرنا آسان نہیں، کیونکہ جیسے ہی آپ کچھ کہتے ہیں، یہ طعنہ ملتا ہے کہ آپ یہاں کے زمینی حقائق کو نہیں جانتے، کتنی بار بلوچستان آئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک تو بات درست ہے کہ ہم بلوچستان سے تعلق نہیں رکھتے اور ظاہر ہے کہ جتنا اپنے علاقے کو مقامی لوگ جانتے، سمجھتے ہیں، ہم نہیں سمجھ سکتے۔ ایک بات مگر اور بھی ہے، وہ یہ کہ جب آپ کسی مسئلے کا براہ راست حصہ نہیں ہوتے تو پھر آپ کے لئے کچھ چیزوں کا تجزیہ کرنا آسان ہوجاتا ہے کیونکہ وہ عصبیتیں، تعصبات اور پسند ناپسند راہ میں آڑے نہیں آتی۔

دوسرا یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آج کی گلوبل دنیا میں اب ایسا نہیں کہ کسی بھی علاقے کے حالات صرف وہاں تک محدود ہیں، کسی اور کو پتہ بھی نہیں چلیں گے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ خاص کر صحافیوں کے لئے زیادہ آسان ہوتا ہے کہ وہ مقامی صحافیوں سے رابطے میں ہوتے ہیں، مختلف مقامی شخصیات سے بات کرتے رہتے ہیں، خود بھی وہاں چکر لگا کر کئی اندرونی باتوں سے واقفیت حاصل کر لیتے ہیں۔

مجھے پچھلے برسوں میں دو تین بار بلوچستان اور وہاں کے مختلف شہروں میں جانے کا موقعہ ملا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہاں بہت سے مسائل ہیں، محرومیاں، شکایات ہیں۔ کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ بلوچستان کے لئے کئی بار پیکیج اناونس ہوئے، مگر شائد ان پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہوا، فنڈز لیک ہوئے یا جو بھی وجہ تھی، عملی طور پر اس کا امپیکٹ ویسے نہیں بن پایا جیسا ہونا چاہیے تھا۔

بلوچستان میں لوگوں کے مسائل حل ہونے چاہئیں، روزگار ملے، صحت، تعلیم کی سہولتیں ملنی چاہئیں۔ میرٹ پر سرکاری ملازمتیں ملنا بھی بہت ضروری ہے۔ ضروری ہے کہ نوجوانوں کی کیپسیٹی بلڈنگ کی جائے، انہیں ایسے ہنر سکھائے جائیں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہے۔ بلوچستان میں منرلز کا بہت بڑا پوٹینشل ہے، عالمی کمپنیاں ادھر کا رخ کریں گی، انہیں سکلڈ لیبر اور پروفیشنلز چاہئیں۔ مقامی نوجوانوں کو اس حوالے سے تیار کیا جائے۔ پروفیشنلز، سکلڈ ورکرز اور دیگر ملازمتیں مقامی نوجوان حاصل کر سکتے ہیں، اس سے ان کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی۔ اس طرف صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو فوکس کرنا چاہیے۔ اگر درست سمت میں محنت اور پلاننگ کی جائے تو صرف چند ہی برسوں میں کایا پلٹ سکتی ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ مگر صرف روزگار اور روز مرہ زندگی کی سہولتوں کی فراہمی کا نہیں، عوام کو ایک درست اور حقیقت پر مبنی بیانیہ کی بھی بہت ضرورت ہے۔ بلوچستان میں مسئلہ صرف معاشی نہیں، یہ بیاناتی یعنی نیریٹو کا بھی ایشو ہے۔ ریاست اور حکومت کو ایک مضبوط، مدلل بیانیہ دینا ہوگا۔ بلوچستان میں بیانئے کی جنگ بھی چل رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی اس طرف بہت توجہ ہے، وہ اپنے نیریٹو کے ذریعے نئی بھرتی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب تک اس بیانیہ کا جواب نہیں دیا جائے گا، ان کے خام، جھوٹے اور گمراہ کن دلائل کو مضبوط اور ٹھوس دلائل کے ساتھ رد نہیں کیا جائے گا، تب تک مسائل ختم نہیں ہوسکتے۔

اسے بدقسمتی ہی کہیں کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں بہت پسماندگی اور محرومیاں ہیں۔ میرا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی علاقے بلوچستان سے بھی زیادہ پسماندہ اور محرومیوں کا شکار ہیں۔ چولستان تو خیر ہے ہی صحرا، وہاں جائیں تو آدمی لوگوں کے مسائل اور محرومی دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی علاقے ایسے ہیں جہاں آج کے دور میں بھی جانور اور انسان ایک ہی گڑھے یا ٹوبے سے پانی پی رہے ہیں۔ یہ چیزیں ٹھیک ہونی چاہئیں، اس کے لئے مقامی سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے، کئی چیزیں ٹھیک ہو بھی رہی ہیں۔ سرائیکی خطے یا جنوبی پنجاب میں البتہ خوش قسمتی سے بیانیہ کا مسئلہ نہیں۔ وہاں صرف مسائل اور محرومیاں ہیں، جنہیں بہتر کرنے کی جدوجہد بھی جاری ہے۔

بلوچستان میں مسائل کے ساتھ ریاست دشمن گمراہ کن بیانیہ بھی موجود ہے۔ اسے درست کرنا پڑے گا۔ حقوق اور شکایات پر بات کی جائے، وہ درست، جائز، منطقی اور قابل فہم ہے۔ جب ہم مسائل کی بات کرتے ہیں تو لامحالہ پھر ہم اپنے نمائندوں کا بھی احتساب کرتے ہیں کہ انہوں نے پچھلے پانچ برسوں میں کیا کام کیا یا انہیں جو فنڈز ملے ان کا کیا حساب کتاب ہے؟ اس احتساب سے بھی کئی چیزیں ٹھیک ہوجاتی ہیں۔ ایک رکن اسمبلی نے پرفارم نہ کیا تو اگلی بار اس کی جگہ کسی دوسرے کو موقعہ مل جاتا ہے۔ جب ہم ریاست دشمن نیریٹو پھیلائیں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا کریں تب اس کے دو نقصانات ہوتے ہیں۔ ایک تو جو کام ہو سکتا ہے وہ بھی نہیں ہوپاتا۔ دوسرا اگر آپ کے علاقے کے نمائندوں نے کام نہیں کیا تو ان کا کوئی احتساب نہیں کرتا کیونکہ سب کچھ مرکز پر ڈال دیا جاتا۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم اختلاف رائے ختم کر دیں، نہیں ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست اور جمہوریت میں ہر ایک کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ میں قوم پرست سیاست کے بھی خلاف نہیں۔ اپنی قوم سے محبت ہر ایک کو ہوتی ہے، ان کے لئے آواز اٹھانی چاہیے۔ البتہ نفرت کا بیانیہ نہ لایا جائے۔ نفرت انگیز، ریاست دشمن بیانیہ نوجوان کے ہاتھ میں بندوق تھما دیتا ہے، اسے تشدد کی طرف دھکیلتا ہے۔ ہمیں بلوچستان میں یہ چیز بدلنا ہوگی۔

بلوچستان میں بیک وقت دو سمتوں میں کام کرنا ہوگا۔ ایک طرف لوگوں کے مسائل حل کئے جائیں، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم ہوں، اس کے لئے انہیں تعلیم، تربیت اور ہنر سیکھنے کو ملیں۔ انصآف اور ترقی ہو جبکہ دوسری طرف غلط بیانیے کا جواب دیا جائے۔ نفرت انگیز علیحدگی پسندوں، شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف مضبوط اور مدلل قومی بیانیہ دینا ہوگا۔ یہ کام بھی ریاست کا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس حوالے سے اپنا کام کریں۔ لوگوں کو درست اعداد وشمار دیں، ان تک حقائق پہنچائیں، درست معلومات دیں تاکہ وہ ٹھیک ٹریک پر رہیں۔ ایسا اگر نہیں ہوگا تو انتہا پسند پر تشدد گروہوں کی بھرتی بھی ساتھ ساتھ چلتی رہے گی۔

ایک بار ہمیں نفرت کا یہ شیطانی چکر توڑنا ہوگا۔ طریقہ سادہ ہے کہ ترقی ہو، مواقع فراہم ہوں اور ساتھ ساتھ درست بیانیہ بھی دیا جائے۔ دنیا میں جہاں کہیں شدت پسندی اور علیحدگی پسند دہشت گرد تحریکیں سرگرم ہوئیں، انہیں اسی فارمولے کے تحت ہی زیر کیا گیا، شکست دی گئی۔ بلوچستان میں بھی ان شااللہ یہی ہوگا۔