آج میری لاہور کے دو ممتاز آئی سرجنز سے بات ہوئی۔ پروفیسر سطح کے ان دو ڈاکٹروں کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں، غیر سیاسی لوگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں واضح طور پر حکومتی غلطی، نالائقی اور نااہلی نظر آئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ عمران خان کو یہ تکلیف اکتوبر نومبر سے شروع ہوئی اور ان کی اس شکایت کو جیل انتظامیہ اور حکومت نے اہمیت نہیں دی۔ صرف ڈراپس پر ٹرخا دیا، حالانکہ کسی بھی ہسپتال کے آئی وارڈ میں کسی بھی مناسب سے آئی ڈاکٹر(جنرل اپتھلمالوجسٹ)کو بھی دکھا دیتے تو وہ ایک آدھ ٹیسٹ میں بھانپ جاتا کہ مسئلہ کیا ہے۔ پھر کسی کنسلٹنٹ سے ایڈوائس لے کر بروقت آنکھ میں انجیکشن لگوانے شروع کر دئیے جاتے۔ اس سے آنکھ کی بینائی ضائع نہ ہوتی۔
ان ماہر ڈاکٹروں کے مطابق اگر عمران خان کی آنکھ کی بینائی پچاسی فیصد ضائع ہوچکی ہے تو پھر آلموسٹ یقینی ہے کہ یہ نارمل نہیں ہوپائے گی۔ اگر بروقت علاج ہوجاتا تو بچت ہوجاتا۔ اب اگر بہترین علاج ہوا تو کسی حد تک یہ ریورس ہوپائے گی، مکمل ہرگز نہیں۔ اس لئے یہ بڑا نقصان ہوگیا ہے اور اس کی ذمہ دار صرف اور صرف پنجاب حکومت ہی ہے۔
تین چار ٹیسٹ ہیں جو بہت ضروری ہے۔ ان میں سے او سی ٹی سرفہرست ہے۔
او سی ٹی (Optical Coherence Tomography)۔ یہ ریٹینا کی تہوں کی کراس سیکشن امیج کے لئے اور میکیولا میں سوجن (Macular Edema) کی مقدار معلوم کرنے کے لیے ہے۔
جبکہ ایک اور ٹیسٹ بہت ہی اہم ہے۔ اسے ایف ایف اے کہتے ہیں۔
Fundus Fluorescein Angiography (FFA): اس میں بازو کی رگ میں ڈائی لگا کر ریٹینا کی خون کی نالیوں کی تصویر لی جاتی ہے۔ پتا چلتا ہے کہ کہاں رکاوٹ ہے۔ اس بیماری میں دو تکنیکی ایشوز ہوتے ہیں ایک کو آئسمک دوسرے کو نان آئسمک کہتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ Ischemic (شدید) اور Non-Ischemic قسم میں فرق کرتا ہے۔
او سی ٹی میں بھی ایک اور ٹیسٹ او سی ٹی انجیوگرافی ہے۔ خاصا جدید اور محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے، بغیر ڈائی کے ریٹینا کی خون کی روانی دکھاتا ہے۔
اس سب کے علاوہ آنکھ کا پریشر چیک کیاجائے گا، اس کے لئے ایک الگ ٹیسٹ ہے جس میں سکینڈری گلوکوما (کالا موتیا) کا پتہ چل سکتا ہے۔
جبکہ اس سب کے بعد وہ وجہ ڈھونڈی جائے گی کہ یہ وین بلاک کیوں ہوئی؟ اس کے لئے الگ سے کئی ٹیسٹ ہیں جیسے لپڈ پروفائل، فاسٹنگ شوگر اور ایچ بی اے ون سی (پچھلے تین مہینوں کی شوگر)، بلڈپریشر ریگولر مانیٹرنگ، سی بی سی وغیرہ۔ اس لئے کہ بلڈ پریشر، شوگر اس بیماری کاکامن کاز ہیں۔ سٹریس بھی وجہ ہوسکتی ہے اور یہ بڑھتی عمر کے ساتھ بھی ہوتی ہے۔ جسمانی فٹنیس ایک الگ معاملہ ہے، مگر آنکھ کی بہرحال عمر ہے اور اس میں مسائل آتے ہی ہیں۔
میں ان ماہر ڈاکٹروں سے خاصی دیر کھپنے اور ان کم بخت ٹیسٹوں کا نام یاد رکھنے اور آخرکار تحریری نوٹس لینے میں اتنا کھپا کہ لگا خود اپنا دماغ دہی بن گیا ہے۔ ایک بات سمجھ آئی کہ جو نقصان ہوچکا، وہ ہوچکا، اب آگے کے لئے بہترین طبی نگہداشت کی جائے، ہسپتال میں ایڈمٹ ہو مریض اور دو تین مہینے تک اس کا یہ علاج چلے، تب تک اسے صاف ستھرے، ہائی جینک، محفوظ انوائرمنٹ میں رہنا چاہیے۔ بے شک وہ شفا ہسپتال ہو یا کوئی اور اچھا ہسپتال۔
یہ علاج شوکت خانم میں بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے پاس ہر شعبے کے بہترین ماہرین موجود ہیں، اس لئے کہ آنکھوں کا بھی کینسر ہوتا ہے اور اس مقصد کے لئے ہسپتال میں اعلیٰ ترین آئی سرجن موجود ہوں گے۔
اور ہاں ایک اور سورس سے یہ بات پتہ چلی کہ جناب نواز شریف جب جیل میں تھے تو ان کے علاج کے لئے او سی ٹی مشین جیل لے جائی گئی، یہ مشین پانچ سات کروڑ کی آتی ہے اور ٹرانسپورٹیشن کے مسائل ہوتے ہیں۔ میاں صاحب کو مگر بہترین طبی امداد ہسپتال ہی میں فراہم کی گئی اور شکر ہے کہ ان کی آنکھ بچ گئی۔
افسوس کہ میاں صاحب کی اپنی بیٹی کی حکومت میں عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً چلی گئی، اس کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہی ہے۔ اپنی غلطی تسلیم کریں اور مریض کے لئے جو کچھ ہوسکتا ہے، وہ تو کر گزریں۔