Sunday, 15 February 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Tayeba Zia
  4. Askari Tarbiyat Ko Lazim Kiya Jaye

Askari Tarbiyat Ko Lazim Kiya Jaye

اللہ تعالیٰ شہدا کے اہل خانہ کو صبر عظیم عطا فرمائے آمین۔ کچھ ویڈیو کلپ تو جان لیوا ہوتے ہیں۔ جوان کا جسد خاکی گاؤں پہنچا، لخت جگر کی وردی باپ کو سیلوٹ کے ساتھ پیش کی گء تو ننگے پیر سفید پوش باپ شدت غم سے اپنی ٹانگوں پر کھڑا نہ رہ سکا اور زمین پر گر گیا۔ اس ملک کا ایک غدار طبقہ اپنے بیہودہ پروپیگنڈا سے شہدا کے اہل خانہ کو بھی جب ایذا پہنچانے سے گریز نہیں کرتا تو دل کرتا ہے ان خبیثوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ ملک و قوم کی خاطرجان پر کھیل جانا ہر ماں کے لال کانصیب نہیں۔

ہماری دلی تمنا ہے کہ پاکستان میں فوجی تربیت کو لازم کیا جائے تا کہ ہر شہری کو تجربہ ہو سکے کہ ملک و قوم کا محافظ بننا آسان جاب نہیں۔ شہادت پر دستخط کرنا مذاق نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج نے جو قربانیاں دیں، وہ بے مثال ہیں۔ اس طویل جنگ میں پاک فوج کو نہ صرف بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ اسے اپنی جنگی حکمت عملی اور تربیت کے روایتی ڈھانچے کو بھی مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑا۔

2001ء سے اب تک پاک فوج کے لاکھوں افسران اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ اس میں عام سپاہیوں سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک کے افسران شامل ہیں۔ مسلسل جنگی حالت میں رہنے، اپنوں کو کھونے اور بار بار دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنے سے فوجیوں اور ان کے خاندانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں، ایک عام شہری اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس جنگ نے جی ایچ کیو پر حملے سے لے کر مہران بیس اور کامرہ بیس جیسے اہم فوجی تنصیبات کو جو نقصان پہنچایا، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ پاکستان میں عام شہریوں کے لیے فوجی تربیت لازمی نہیں ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج (پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ) مکمل طور پر رضاکارانہ بنیادوں پر کام کرتی ہیں، یعنی شہری اپنی مرضی سے ان میں شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں "نیشنل کیڈٹ کور" (NCC) جیسے پروگرام موجود تھے جن کے تحت کالج کی سطح پر طلبہ کو بنیادی فوجی تربیت دی جاتی تھی، لیکن اب یہ پروگرام لازمی نہیں رہے یا کئی جگہوں پر ختم کر دیے گئے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں شہریوں کے لیے لازمی فوجی تربیت کا نظام رائج ہے۔

اس نظام کا مقصد ہنگامی حالات کے لیے ریزرو فورس تیار رکھنا اور قومی دفاع کو مضبوط بنانا ہوتا ہے۔ عام طور پر ان ممالک کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: 1۔ مکمل لازمی سروس: جہاں ہر تندرست مرد (اور بعض اوقات خواتین) کو ایک مخصوص مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دینا ہوتی ہیں۔ 2۔ انتخابی لازمی سروس: جہاں نام تو سب کے درج ہوتے ہیں لیکن ضرورت کے مطابق صرف مخصوص تعداد کو ہی بلایا جاتا ہے۔ کچھ اہم ممالک کی مثالیں موجود ہیں: جنوبی کوریا میں 18 سے 35 سال کے تمام مردوں کے لیے تقریباً 18 سے 21 ماہ تک فوج میں خدمت انجام دینا قانونی طور پر لازمی ہے۔ اسرایئل میں مرد اور خواتین دونوں کے لیے فوجی تربیت لازمی ہے۔ مردوں کے لیے یہ مدت تقریباً 32 ماہ اور خواتین کے لیے 24 ماہ ہے۔

شمالی کوریا میں دنیا کا طویل ترین لازمی فوجی سروس کا نظام ہے، جہاں مردوں کو 10 سال اور خواتین کو 5 سال تک خدمت کرنی پڑتی ہے۔ برازیل میں 18 سال کی عمر کے تمام مردوں کے لیے رجسٹریشن لازمی ہے، جس کے بعد انہیں 10 سے 12 ماہ کی تربیت دی جاتی ہے۔ ترکی میں 20 سال سے زائد عمر کے تمام مرد شہریوں کے لیے فوجی سروس لازمی ہے، تاہم مخصوص شرائط کے تحت اسے کم بھی کیا جا سکتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا دشمن ملک کے خلاف جہاد پاک فوج کی فرنٹ لائن فورس اسپیشل سروسز گروپ SSG کے کمانڈوز کی سخت ترین تربیت سے عام شہری لا علم ہیں تو وہ کمانڈوز کی قدر کیا خاک کریں گے۔ (SSG)کی تربیت دنیا کی سخت ترین فوجی تربیتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ تربیت صرف جسمانی مضبوطی کا امتحان نہیں ہے، بلکہ یہ ذہنی ہمت اور ناقابل یقین صبر کا نام ہے۔ ان کی تربیت کا آغاز پیرا ٹریننگ سے ہوتا ہے، جہاں سپاہیوں کو بلندی سے چھلانگ لگانے اور پیراشوٹ کے استعمال میں مہارت دی جاتی ہے۔

جسم اور دماغ کی آخری حدوں کو آزمایا جاتا ہے۔ بہت کم سونے دیا جاتا ہے۔ انہیں طویل فاصلے تک بھاری بھرکم وزن (تقریباً 20 سے 30 کلوگرام) اٹھا کر دوڑنا پڑتا ہے۔ مشکل ترین جغرافیائی حالات، جیسے کہ دلدل، پہاڑ اور برف باری میں زندہ رہنے کی مشقیں کرائی جاتی ہیں۔ ایس ایس جی کمانڈوز کو ہر طرح کے ماحول کے لیے تیار کیا جاتا ہے: غوطہ خوری کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ کوہ پیمائی دنیا کے بلند ترین پہاڑوں (جیسے سیاچن) پر لڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

ذہنی تربیت میں ایک سپاہی کو"نفسیاتی طور پر ناقابل تسخیر" بنایا جاتاہے۔ جب جسم تھک کر جواب دے دیتا ہے، تو یہ صرف ذہنی قوت ہی ہوتی ہے جو کمانڈو کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ فولادی اعصاب کا مالک بنا دیتی ہے۔ تربیت کے دوران امیدواروں کو دانستہ طور پر ایسے حالات میں ڈالا جاتا ہے جن سے انسان فطری طور پر ڈرتا ہے، جیسے کہ بلندی، گہرا پانی اور اندھیرا۔ بار بار ان خطرات کا سامنا کرنے سے دماغ خوف کے بجائے ردِعمل پر توجہ دینا سیکھ جاتا ہے۔ کمانڈوز کو طویل عرصے تک تنہا، بغیر کسی رابطے کے اور انتہائی سخت حالات میں رکھا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ان کی خود اعتمادی کو اس حد تک بڑھانا ہے کہ وہ دشمن کے علاقے میں اکیلے ہونے کے باوجود گھبرانے کے بجائے اپنا مشن مکمل کر سکیں۔

شدید تھکن، نیند کی کمی اور بھوک کی حالت میں امیدواروں کو پیچیدہ ذہنی مسائل یا جنگی حکمت عملی کے فیصلے کرنے کو دیے جاتے ہیں۔ یہ مشق اس لیے کی جاتی ہے کہ جنگ کے افراتفری والے ماحول میں بھی ان کا دماغ ٹھنڈا رہے اور وہ درست فیصلہ کر سکیں۔ پاک افواج کی خانگی طرز زندگی بھی حساس ذمہ داریوں تبادلوں اور تربیتی کورسز کے سبب ڈسٹرب رہتی ہے۔ یہ تو کمانڈوز کی تربیت کی چند مثالیں دی ہیں جبکہ مسلح افواج کے تمام شعبوں میں دی جانے والی تربیت کا فقط ایک سال بھی عام شہری کو تربیت لازم کر دی جائے تو انہیں فوج کی حقیقت اور قدرو منزلت کا کچھ تو اندازہ ہو سکے گا۔

کاش پاکستان میں دو برس فوجی تربیت کولازم بنایا جائے۔ سول سوسائٹی کی حفاظت عسکری ادارہ کرے اور اپنے خلاف توہین آمیز بکواس بھی سنے؟ وہ باپ جو شہید بیٹے کی وردی دیکھ کر زمین پر گرگیا اس کا لخت جگر اس سول سوسائٹی کے جان مال کی حفاظت کرتا ہوا جان پر کھیل گیا، یہ ایک باپ نہیں ہزاروں والدین دل کے ٹکڑوں کے جسد خاکی دفناتے چلے آرہے ہیں اور فوج کے خلاف بھونکنے والے کھلے پھر رہے ہیں؟ ہماری دوست نورین طلعت عروبہ شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتی ہیں

میں اپنا لال زمیں میں دبا کے آیا ہوں
اور اس کی قبر پہ پرچم لگا کے آیا ہوں

وطن کے لوگو بھلا اور کیا نثار کروں
جوان بیٹا وطن پہ لُٹا کے آیا ہوں

یہ میرا خون مرے دیس کی امانت ہے
میں جب لڑا ہوں لہو میں نہا کے آیا ہوں

محاذِ جنگ پہ جانا ہے چوم کر اس کو
میں اپنا ننھا سا بچہ سلا کے آیا ہوں

ہے میرے گال پہ ماں جی کا آخری بوسہ
نظر میں شوق شہادت سجا کے آیا ہوں

یہ جانتا ہوں انہیں اب کبھی نہ دیکھوں گا
سو با با جان سے آنکھیں چرا کے آیا ہوں

بہن کے اشک مرے دل پہ گر رہے ہیں مگر
وطن ترے لئے اس کو رلا کے آیا ہوں