Saturday, 14 February 2026
  1.  Home
  2. 92 News
  3. Amir Khakwani
  4. Aqwam e Muttahida Ki Report Ne Afghan Taliban Ko Expose Kar Diya

Aqwam e Muttahida Ki Report Ne Afghan Taliban Ko Expose Kar Diya

اقوامِ متحدہ کا اہم ترین ادارہ سلامتی کونسل دنیا بھر میں ٹیررازم اور ٹیررسٹ گروپوں کے حوالے سے مانیٹرنگ رپورٹ جاری کرتا ہے کہ دنیا میں کہاں یہ دہشت گرد گروپ پنپ رہے ہیں، انہیں وہاں کی حکومتیں سپورٹ کر رہی ہیں اور عالمی امن کے لئے یہ کس قدر بڑا خطرہ ہیں۔ سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی فروری میں جاری کردہ رپورٹ افغان طالبان حکومت کے خلاف چارج شیٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کی موجودہ (ڈی فیکٹو) طالبان انتظامیہ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں۔ تاہم کسی بھی دوسرے رکن ملک نے اس دعوے کی تائید نہیں کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکام نے داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل۔ کے) کے خلاف تو کچھ کارروائیاں جاری رکھیں۔ تاہم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو نسبتاً زیادہ آزادی اور سہولت میسر رہی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف اس کے حملوں میں اضافہ ہوا اور علاقائی کشیدگی بڑھی۔

سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ بدستور افغان (طالبان)حکام کی سرپرستی سے فائدہ اٹھا رہی ہے اور افغانستان میں دیگر دہشت گرد گروہوں کو، خصوصاً ٹی ٹی پی کو، تربیت اور مشاورت فراہم کر رہی ہے۔ القاعدہ برصغیر (اے کیو آئی ایس) جنوب مشرقی افغانستان میں سرگرم رہی، جہاں حقانی نیٹ ورک کا نمایاں اثر و رسوخ ہے۔ اس کے امیر اسامہ محمود اور نائب یحییٰ غوری کی موجودگی کابل میں بتائی گئی، جبکہ اس کا میڈیا سیل ہرات میں قائم ہے۔ بعض رکن ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ القاعدہ برصغیر بیرونی کارروائیوں کی طرف زیادہ توجہ دے رہی ہے اور ممکن ہے ایسی کارروائیاں کسی اور نام یا اتحاد، مثلاً "اتحاد المجاہدین پاکستان"، کے فیک نام کے تحت کی جائیں تاکہ طالبان حکومت کو میزبان کی حیثیت سے مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق "تحریکِ طالبان پاکستان" افغانستان میں سرگرم بڑے دہشت گرد گروہوں میں سے ایک ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز اور ریاستی تنصیبات پر اس کے حملوں کے نتیجے میں عسکری تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی۔ گیارہ نومبر کو اسلام آباد کی ایک عدالت پر حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے، جس کی ذمہ داری ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج)کے ایک دھڑے نے قبول کی۔ یہ کئی برس بعد وفاقی دارالحکومت میں پہلا بڑا حملہ تھا اور ٹی ٹی پی کی سابقہ حکمتِ عملی سے ہٹ کر تھا۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل کی یہ رپورٹ دسمبر پچیس تک کی ہے اور اسی وجہ سے بلوچستان میں ہونے والے بی ایل اے کے حالیہ حملے اور اوائل فروری میں اسلام آباد بم دھماکہ اس میں موجود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض رکن ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ ٹی ٹی پی القاعدہ سے وابستہ گروہوں کے ساتھ تعاون بڑھا کر اہداف کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے، جس سے خطے سے باہر تک خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم تنظیم کو کچھ آپریشنل نقصانات بھی اٹھانا پڑے، جن میں اکتوبر میں اس کے نائب امیر مفتی مزاحم (خارجی)کی ہلاکت شامل ہے۔

داعش خراسان البتہ شدید دباؤ میں رہی، جس کی بڑی وجہ علاقائی ریاستوں کی سکیورٹی کارروائیاں تھیں۔ اگرچہ اس کے حملوں میں کمی آئی، مگر اس نے نمایاں عملی اور جنگی صلاحیت برقرار رکھی اور آن لائن بھرتیوں کے ذریعے تیزی سے نئے جنگجو شامل کرنے کی استعداد بھی دکھائی۔ دباؤ کے باعث داعش خراسان نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں دیگر مسلح گروہوں سے اتحاد تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اس کی سرگرمیاں زیادہ تر شمالی افغانستان، بالخصوص بدخشاں اور پاکستان کی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں رہیں۔ تنظیم نے خطے اور اس سے باہر خطرہ پیدا کرنے کے لیے سیلز نیٹ ورک کو بھی وسعت دی۔

داعش خراسان نے وسط ایشیائی زبانوں میں جارحانہ پروپیگنڈا کے ذریعے اپنے ہدفی حلقے کو وسیع کیا اور غزہ و اسرائیل تنازع جیسے معاملات کو بھرتی اور مالی وسائل کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ اس تنظیم میں خطے کی تقریباً تمام نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جن میں وسط ایشیائی ممالک اور روسی فیڈریشن کے شہری بھی شامل ہیں۔ تاجکستان اور ازبکستان سمیت بعض ممالک نے اپنے شہریوں کے بڑھتے کردار اور ممکنہ "خفیہ سیلز" کے قیام پر تشویش ظاہر کی۔ وسط ایشیا بدستور تنظیم کی توجہ کا مرکز ہے، جہاں وہ مستقبل میں علاقائی کنٹرول کے عزائم رکھتی ہے۔ ایران میں شیعہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی خواہش بھی برقرار ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکام کی سرپرستی، جس میں شناختی دستاویزات کا اجرا بھی شامل ہے، کے تحت ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ/ترکستان اسلامک پارٹی (ETIM/TIP) کے ارکان افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت کے قابل رہے اور بتدریج بدخشاں میں مرکوز ہو گئے۔ ایک رکن ریاست کے مطابق انہوں نے پوست کی کاشت اور کان کنی سے مالی وسائل حاصل کیے۔ تقریباً ڈھائی سو ارکان کی پچھلے سال طالبان پولیس میں شامل ہونے کی اطلاع ہے۔ ایک رکن ریاست نے یہ بھی بتایا کہ افغانستان میں موجود ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ/ترکستان اسلامک پارٹی نے شام اور ہمسایہ ممالک میں اپنے ارکان کو "سنکیانگ میں جہاد کی واپسی" کی تیاری کے لیے افغانستان منتقل ہونے کی ترغیب دی۔

رپورٹ میں افغان طالبان حکومت اور بی ایل اے کے کنکشن کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے نے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور سی پیک چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق منصوبوں کے خلاف متعدد حملے کیے۔ سولہ ستمبر کو اس تنظیم نے راہداری کی نگرانی کرنے والے ایک پاکستانی فوجی قافلے پر حملہ کرکے بتیس اہلکار ہلاک کیے۔ اگرچہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں نے اس کے عملی دائرہ کار کو محدود کیا، تاہم تنظیم سرگرم رہی۔

بعض رکن ممالک کے مطابق بی ایل اے نے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے ساتھ مشترکہ تربیتی کیمپوں اور وسائل کے تبادلے کے ذریعے تعاون کیا اور کمانڈروں کے درمیان رابطوں اور حملوں میں ہم آہنگی پائی گئی۔ رپورٹ میں بی ایل اے کے حالیہ حملوں کی تفصیل نہیں مگر شواہد موجود ہیں کہ اس اٹیک میں بھی ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے بی ایل اے کے ساتھ شامل ہونا تھا، تاہم چند دن قبل پنجگور میں اداروں کی ایک بڑی کارروائی میں ٹی ٹی پی کے کئی لڑکے مارے جانے سے پروگرام تبدیل ہوا۔

اس رپورٹ نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردگروپوں کی کھلی حمایت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان میں جو مذہبی حلقے افغان طالبان کو شک کا فائدہ دیتے یا ان کے ہم مذہب، ہم مسلک ہونے کی وجہ س رعایت دیتے تھے، وہ غلطی پر ہیں۔ دہشت گرد گروپوں کو سپورٹ کرنے والی ریاست اور اس کی قیادت کبھی اسلامی نہیں ہوسکتی۔ سلامتی کونسل کی اس رپورٹ نے افغان طالبان کو ایک بار پھر پوری طرح ایکسپوز کر دیا ہے۔