Saturday, 14 February 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Khalid Mahmood Faisal
  4. Zara Hat Ke, Mein Raheem Bhai Ka Tazkira

Zara Hat Ke, Mein Raheem Bhai Ka Tazkira

نجی ٹی وی کا ٹاک شو، "ذرا ہٹ کے" عوام میں خاصا مقبول ہے، جس میں عالمی اور قومی نوعیت کے ایشوز کو زیر بحث لایا جاتا ہے، ماہرین کی آراء کی روشنی میں اسکو خاصا معلومات افزاء اور دلچسپ بنایا گیاہے، ہفتہ وار کالرز ڈے بھی اس شو کا اہم حصہ ہے جس میں عوام اپنے ذاتی اور قومی نوعیت کے مسائل پر بات کرتے ہیں، قومی اداروں کی کارکردگی بھی اس سے عیاں ہوتی ہے، بعض افراد اپنی اپنی تجاویز سے مسائل کے حل کی طرف راہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں، پروگرام کے تین میزبان ہیں جو بڑے"جید "صحافی بھی ہیں اور معروف عالمی براد کاسٹنگ ادارے میں فرائض منصبی انجام دے چکے ہیں، دیگرٹاک شوز کے برعکس اس میں مارڈھاڑ اور شور شرابہ غیر ضروری بحث و تمحیص بھی نہیں ہوتی، شائد اس کا نام اسلئے ذرا ہٹ کے رکھا گیا ہے۔

ایک پروگرام میں پرسنل نوٹ کے طور پر ایک ڈرائیور کا تذکرہ کیاگیا، جو اس ادارہ کا ملازم تھا، جس کا نام عبد الرحیم رائو تھا مگر تینوں میزبان اس کو رحیم بھائی کہتے تھے، پروگرام میں پرسنل نوٹ اسکی وفات کے موقع پر پڑھاگیا اور اسکی خدمات کا اعتراف یوں کیا کہ وہ بہت محنتی ذمہ دار، خود دار اور وقت کا پابند تھے، محترم ضرار کھوڑو نے کہا کہ اس میں حس مزاح بھی پائی جاتی تھی، کراچی کی بے ہنگم ٹریفک کے باوجود اس نے ہمیں ڈیوٹی پر پہنچانے میں کبھی تاخیر نہیں کی، جناب وسعت اللہ خاں نے کہا کہ ڈرائیور کی تنخواہ قلیل ہی ہوتی ہے مگر مرحوم اتنے خود دار تھے کہ کبھی اس نے اپنے مسائل ہم سے شیئر ہی نہیں کئے، حالانکہ بڑی فیملی کی کفالت اسکے ذمہ تھی، وقت کا اتنا پابند کہ ہماری گھڑیاں درست کرواتا تھا، گیارہ سال تک اس نے ہم تینوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے کی ڈیوٹی انتہائی ذمہ داری سے ادا کی اور بروقت ٹی وی اسٹیشن پہنچاتا رہا، جب ہم اسکی عیادت کرنے جناح ہسپتال کراچی گئے، ڈاکٹرز نے اس کی تشویش ناک حالت سے آگاہ کیا، وہ فالج کے عارضہ میں مبتلا تھا، ہم نے اسکی فیملی کو جھوٹی تسلیاں دیں، چھوٹے چھوٹے اس کے بچے ہیں، وہ بہت غمگین تھے، سب سے فکر انگیز جملہ محترم شاہ زیب جیلانی کا تھا "اس ریاست میں غریب کا کوئی پرسان حال نہیں"، وہ بہت اچھے انسان تھے ہم دعا کر سکتے ہیں اللہ تعالی ٰ انکی مغفرت کرے، آمین۔

تلخ حقیت یہ ہے کہ ایک غریب فرد یا ڈرائیور کی کہانی نہیں ہر اس شخص کی داستان ہے، جو وسائل نہیں رکھتا، جس کو کوئی مالی تحفظ ریاست یا اس کے ادارہ کی طرف سے میسر نہیں ہے، جہاں تک پرائیویٹ ملازمت کا تعلق ہے تو ہماری ریاست میں یہ صورت حال انتہائی بے یقینی ہے، ملازم کو ہر دم دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کب اس کو مالکان کی طرف سے رخصتی کا پروانہ مل جائے، چھوٹے ملازمین کی تنخواہ اور مراعات انتہائی کم ہوتی ہیں، شدید مالی دبائو اورطویل اوقات کار ہوتے ہیں ملازمین، پنشن، میڈیکل، سوشل سیکورٹی کے فقدان کا شکار رہتے ہیں، ہر چند پر ائیویٹ ملازمین کوگریجویٹی، گروپ انشورنس کمپنی پالیسی کے مطابق ملتی ہے، تدفین کے اخراجات، فیملی مالی امداد بھی ملتی ہے لیکن اس کے لئے ملازم کا رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے، سچ تو یہ ہے ای او بی آئی کی طرف سے ادا کردہ پنشن اس قدر کم ہے کہ اس گرانی میں گزارہ ناممکن ہے، المیہ یہ بھی ہے کہ اکثر پرائیویٹ کمپنیاں اپنے ملازمین کو رجسٹرڈ ہی نہیں کرواتیں، زیادہ میں ٹھیکیداری نظام چلتا ہے۔ اب توعام سرکاری ملازمین کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے، انکی مراعات میں خاطر خواہ کمی کی گئی، گروپ انشورنس کے حصول کے لئے انہیں بھی عدالت کے در پر دستک دینا پڑی ہے، جسکی ادائیگی تاحال نہیں ہوسکی ہے۔

نہیں معلوم مذکورہ ڈرائیور کی فیملی کس حال میں ہوگی، لیکن یہ تو مستند بات ہے کہ اس ریاست میں غریب کا کوئی پر سان حال نہیں ہے، حالانکہ اس ریاست کے وسائل پر ہر شہری کا اتنا ہی حق ہے جتنا اشرافیہ کا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس میں بے پناہ وسائل، معدنیات، چاروں موسم، سمندر، دریا، پہاڑ، تیل، گیس نجانے کون کون سی نعمتیں عطا کی ہیں، اس کے باوجود قوم مقروض ہے، عالمی ادارے ارباب اختیار کو مسلسل آگاہ کر رہے ہیں کہ ریاست کے وجود کوعوام مخالف پالیسیوں سے سنگین خطرہ ہے۔

بڑی آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کررہی ہے، اداروں کی آوٹ سورس پالیسی نے بے روزگاری میں شدید اضافہ کیا ہے، نوجوانان قوم میں مایوسی پائی جاتی ہے، جس ریاست میں 5300 ارب کی کرپشن کی داستانیں عالمی ادارہ سنائے وہاں عام فرد کو کس طرح ریلیف مل سکتا ہے، اس کو روکنے کی بجائے سرکاری خرچ پر شاہی انداز میں بیرون ملک فیملی کے ساتھ حکمران سدھار جاتے ہیں، عام شہری کی حالت زار پر اسے کو ئی ترس بھی نہیں آتا ہے، سادہ لوح عوام کو کبھی روٹی کپڑا مکان کے نام پر بہلایا گیا، کبھی ایشیا ئی ٹائیگر بنانے کی نوید سنائی گئی، کبھی تبدیلی کے نام پر عوام کو بے قوف بنایا گیا، ریاست میں امیر کا امیر تر ہونا اور مزدور کا مزدور ابن مزدور رہنا ثابت کرتا ہے کہ سرکاری معاشی پالیسیوں کا رخ مراعات یافتہ طبقہ کی طرف ہے۔

سرکار اگر چاہے تو ملازمین کوصحت، زندگی و دیگر سہولیات کے تحفظ کے لئے تکافل انشورنس کے کلچر کو فروغ دے سکتی ہے، ان کی تنخواہ سے کٹوتی کے عوض ان کی مالی مشکلات انشورنس کمپنیز کی وساطت سے کم کر سکتی ہے، ترقی یافتہ ممالک میں یہ عام چلن ہے۔ ہم دنیا کی بہترین طرز حکمرانی کے وارث ہیں، جس میں خلیفہ وقت نے کہا کہ میری تنخواہ مزدور کے برابر مقرر کی جائے، دوسرا ماڈل تھا کہ دریائے دجلہ کے کنارے کتا بھی بھوکا مر گیا تو اللہ کے ہاں امیر المونین کو جواب دہ ہونا ہے، ان ماڈل کو طرز حکمرانی کے لئے اگر اپنا لیا جاتا تو دونوں صوبہ جات میں شورش نہ ہوتی۔

اسلام کا معاشی نظام ہی نافذ کیا ہوتا تو بھی عوام آسودہ ہوتے، اگر ایسا ہوتا تو عالمی مالیاتی اداروں کی کاسہ لیسی ہمارا نصیب نہ ہوتی، بڑی بڑی سیاسی جماعتیں عام فرد کی حیاتی کو سکھی بنانے میں ناکام نظر آتی ہیں بیمار ذہنیت کا عالم ہے کہ برین ڈرین پر خوش ہیں کہ اس سے زر مبادلہ میں اضافہ ہوگا، سورہ الشمس میں ارشاد کہ شاہد ہے روح اسکی ترکیب، اسکو الہام ہوئی نیکی اور بدی، جس نے اسے پاک رکھا، اس نے فلاح پائی، جس نے گندا کیا وہ نامراد ہوا، ایمانداری سے فرائض منصبی انجام دینے والا رحیم بھائی فلاح پا گیا، نامرادی ان کا مقدر بنی جو ہر دم عوامی غضب کا نشانہ بنتے ہیں، نصیب اپنا اپنا ہے۔