Monday, 29 June 2026
  1.  Home
  2. Nai Baat
  3. Muhammad Irfan Nadeem
  4. Pakistan Ke Khilaf Naya Mahaaz

Pakistan Ke Khilaf Naya Mahaaz

بین الاقوامی سیاست میں بعض جنگیں توپوں اور ٹینکوں سے نہیں بلکہ سفارت کاری، معیشت، میڈیا، پراکسی، خفیہ سرگرمیوں اور دفاعی معاہدوں کے ذریعے لڑی جاتی ہیں۔ آج اگر ہم مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں ہونے والی حالیہ ہلچل کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایران پر اسرائیلی و امریکی یلغار صرف ایران تک محدود نہیں تھی بلکہ اس پورے منظرنامے میں پاکستان بھی اہم نشانہ تھا۔ گزشتہ برس پاک بھارت جنگ کے بعد ایران پر اسرائیلی و امریکی یلغار کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا نشان صرف ایران نہیں تھا بلکہ پاکستان بھی اس جنگ کا اہم حصہ تھا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ایران کے خلاف جنگ شاید رک جائے، جنگ بندی بھی ہو جائے لیکن پاکستان کے خلاف جنگ نہیں رکے گی بلکہ پاکستان کےخلاف اب بھی ایک کثیر الجہتی اور کئی محاذوں پر مشتمل جنگ جاری ہے۔

چند دن قبل سوئٹزرلینڈ سے پاکستانی سفارتی وفد نے ابھی اڑان بھری ہی تھی کہ بھارت میں تعینات امریکی سفیر نے ایک نئی دفاعی ڈیل کا اعلان کر دیا تھا۔ اس ڈیل کے تحت بھارت کو جدید توپیں فراہم کی جائیں گی جو چالیس کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں ہے، جدید جنگوں میں لانگ رینج آرٹلری فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح امریکہ اور نیٹو کی فراہم کردہ جدید آرٹلری نے روس کو نمایاں نقصان پہنچایا۔ اس کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بھارت کے درمیان براہموس میزائل کی خریداری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ براہموس دنیا کے تیز ترین سپرسونک کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے جسکی رفتار آواز کی رفتار سے تین گنا زیادہ ہے۔ یہی براہموس بھارت گزشتہ برس پاکستان کےخلاف استعمال کر چکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی سٹریٹجک ڈیفنس کمانڈ کا وفد بھی بھارت پہنچ چکا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان مزید دفاعی تعاون اور نئی دفاعی ڈیلز پر گفتگو ہو رہی ہے۔ اس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اسرائیل کے دورے کے دوران ان معاملات پر تبادلہ خیال کر چکے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کو مزید فعال کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی ان ممالک کے دورے پر روانہ ہو چکے ہیں جنہوں نے ایران کے خلاف حالیہ کشیدگی میں امریکہ اور اسرائیل کی مختلف سطحوں پر حمایت کی تھی۔ ان ممالک میں کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ خطے میں نئے اتحاد اور نئی صف بندیاں تشکیل پا رہی ہیں اور یہ سب کچھ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کےلئے کیا جا رہا ہے۔

جنگ کا ایک اور میدان بھی ہے اور شاید یہی میدان سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ میدان ہے پراکسی وار کا ہے، پاکستان گزشتہ چالیس برس سے پراکسی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ سوویت افغان جنگ سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک پاکستان نے تقریباً اسی ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے جبکہ مختلف اندازوں کے مطابق پاکستانی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑاہے۔ اب ایک مرتبہ پھر مغربی سرحد پر خطرات بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی تنظیم نو کے حوالے سے شدید خدشات موجود ہیں۔ رپورٹس کے مطابق القاعدہ سے وابستہ 5000 عناصر کو منظم کیا جا رہا ہے اور ان کی پاکستان کےخلاف سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ بھی قابل توجہ ہے کہ گزشتہ دنوں افغانستان کو بھارت کی جانب سے میڈیسن اور انسانی امداد کے نام پر سامان بھیجا گیا اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد خیبر، قلعہ عبداللہ اور چاغی کے علاقوں میں ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو ناکام بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن میں مبینہ طور پردہشت گردوں کی طرف سے لیزر گنز کے استعمال کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ان تمام حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر بیک وقت دبا¶ میں لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ ممکن ہے کہ انڈیا کی طرف سے برسات کے موسم سے قبل یا بعد کوئی بڑی عسکری کارروائی کی جائی اور اس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

اس پورے منظرنامے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور شاید یہی رخ پاکستان کےلئے امید کی کرن ہے۔ جس وقت سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے، اسی وقت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار مصر میں چار ملکی مذاکرات میں شریک تھے۔ یہ چار ممالک ہیں: پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر۔ بعض مبصرین کے مطابق مستقبل میں قطر، عمان اور ایران بھی اس تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو مسلم دنیا میں ایک نئے سفارتی اور اقتصادی بلاک کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ اسلام آباد بھی اہم تھا۔ ایرانی قیادت عام طور پر عاشورہ کے ایام میں بیرونی دوروں سے اجتناب کرتی ہے لیکن وزیراعظم پاکستان کی دعوت پر ایرانی صدر کا فوری آمادگی ظاہر کرنا اس دورے کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے دوروں اور ان کی تیاریوں کی غیر معمولی اہمیت ہوتی ہے۔

آنے والے مہینے پاکستان، خطے اور پوری امت مسلمہ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہر سازش سے محفوظ رکھے۔ ہمارے حکمرانوں اور اداروں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو اتحاد اور استحکام نصیب فرمائے۔ جیت ان شاءاللہ حق، پاکستان اور امت مسلمہ کی ہوگی۔