آپ مذہب اسلام کی دلچسپ حقیقت ملاحظہ کریں، اسلام کی شروعات مکہ سے ہوئیں، نبی اکرم کی وفات کے وقت مدینہ اس کا مرکز تھا، خلفاء راشدین کے بعد دمشق اس کا مرکز بنااورٹھیک ایک صدی بعد بغداداسلامی تہذیب اور اسلامی علوم وفنون کا مرکز بن چکا تھا۔ بغداد کے بعد اندلس نے دنیا کو دکھایا کہ ایمان، علم اور تہذیب جب ایک جگہ جمع ہوں تو کوئی قوم کس طرح تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔
اندلس کے بعد سلطنتِ عثمانیہ نے صدیوں تک اسلامی دنیا کے مذہبی و سیاسی تشخص کی نمائندگی کی اور سلطنت عثمانیہ کے بعد برصغیر ایک طویل عرصے تک قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر اور اسلامی فکراور اسلامی تہذیب کی حفاظت اور ترویج کا مرکز رہا۔ اسلام کی یہ تاریخ ہمیں کیا بتاتی ہے؟ یہ بتاتی ہے کہ اسلام کا سفر کسی ایک شہر، کسی ایک سلطنت اور کسی ایک قوم کے ساتھ وابستہ نہیں رہا بلکہ یہ تاریخ کے مختلف ادوار میں دنیا کے مختلف خطوں اور مختلف قوموں کے ساتھ وابستہ رہا۔ اب یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم اس تاریخی تسلسل کو دور جدید پر منطبق کریں تو موجودہ دور میں اسلام بطور مذہب، بطور نظریہ اور بطور تہذیبی و علمی روایت سب سے نمایاں کہاں دکھائی دیتا ہے؟
اگرچہ دنیا کے مختلف مسلم ممالک اپنی اپنی جگہ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں، سعودی عرب میں حرمین شریفین ہیں، ترکی، مصر، انڈونیشیا، ملائیشیا اور دیگر ممالک میں بھی علمی ودینی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن اگر ہم کسی ایسے ملک کوتلاش کریں جہاں اسلام صرف ایک مذہبی شناخت نہیں بلکہ ایک وسیع علمی، دینی، تہذیبی اور سماجی روایت کی صورت میں زندہ ہے تو پاکستان ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔
پاکستان کی خصوصیت یہ نہیں کہ اس کا نام اسلامی جمہوریہ ہے بلکہ یہاں اسلام کی وسیع علمی اور دینی روایت عملاً موجود ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیم، فقہ و تفسیر، دینی مدارس، جامعات، دعوت و تبلیغ، تصنیف و تحقیق، مذہبی اجتماعات اور اسلامی فکر و ادب، یہ سب ایک بڑے پیمانے پر اس ملک کے اجتماعی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے مدارس اور دینی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔ یہاں صدیوں پر محیط اسلامی علمی روایت مختلف مکاتبِ فکر کی صورت میں زندہ ہے۔
بڑے علماء، مفتیانِ کرام، محدثین، مفسرین اور دینی محققین کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں موجود ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیم سے لے کر فقہ، اصولِ فقہ، حدیث، تفسیر اور اسلامی فکر تک پاکستان میں ایک وسیع دینی علمی ڈھانچہ موجود ہے۔ اسی طرح دعوت و تبلیغ کے میدان میں بھی پاکستان کی سرگرمیاں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں یہاں سے دینی دعوت کے قافلے جاتے ہیں۔ اسلامی کتب، تفاسیر، خطبات، دروس اور تحقیقی کام بڑے پیمانے پر شائع ہوتے اور دنیا کی مختلف زبانوں میں ٹرانسلیٹ ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے پاکستان محض ایک اسلامی جمہوری ریاست نہیں بلکہ عصرِ حاضر میں اسلام بطور مذہب، اسلام بطور نظریہ، اسلامی اقتدا ر اعلی اوراہم اسلامی علمی و تہذیبی مرکز ہے۔
اس بنیادی مقدمے کو تسلیم کرلینے کے بعد، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہمیں اس اہم اسلامی مرکز کی حفاظت کی ذمہ داری کو بھی قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں اس ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور ہر ایسے اقدام سے باز رہنا چاہیے جس سے ریاست پر حرف آتا ہو۔ ریاست سے اختلاف اور ریاست کی مخالفت دو الگ چیزیں ہیں۔ حکمرانوں سے اختلاف ہوسکتا ہے، حکومت کی پالیسیوں پر تنقید ہوسکتی ہے، کسی ادارے کے فیصلے پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے اور کسی ذمہ دار شخص سے جواب طلب کیا جاسکتا ہے اوریہ سب ایک زندہ معاشرے کا حصہ ہے لیکن اس سب کے ساتھ اختلاف اور مخالفت، اصلاح اور تخریب میں فرق ملحوظ رکھنا بھی اہم اور ضروری ہے۔ ریاست اگر کمزور ہوگی تو اس کے اثرات صرف سیاست اور معیشت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے مدارس، جامعات، دینی ادارے، دعوتی مراکز، علماء، محققین اور اسلامی علمی روایت بھی عدمِ استحکا کا شکار ہوگی۔ اس لیے پاکستان کی حفاظت کو صرف ایک جغرافیائی مسئلہ سمجھنا کافی نہیں بلکہ دور جدید میں یہ ایک ایسی ریاست ہے جس کے اندر ایک وسیع دینی اور تہذیبی سرمایہ بھی موجود ہے اور اس سرمایہ کی حفاظت کے لیے ریاست کا مضبوط اور مستحکم ہونا ضروری ہے۔
افواج پاکستان اس ریاست کے محافظ اوراس پورے دینی و علمی ماحول کو تحفظ فراہم کررہے ہیں اس لیے ان کے کردار کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح آج پاکستان کو کمزور کرنے کی اندرونی اور بیرونی کوششوں کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک کمزور ریاست میں صرف سیاسی نظام متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کے تعلیمی، معاشی، سماجی، دینی اور تہذیبی ادارے بھی عدمِ استحکام کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے ریاست کی مضبوطی کسی فرد یا حکومت کی حمایت کا نام نہیں بلکہ اس اجتماعی نظام کی حفاظت کا نام ہے جس میں ایک قوم اپنی تہذیب، تعلیم، مذہب اور اجتماعی زندگی کو آگے بڑھاتی ہے۔
قومیں صرف اس لیے تاریخ میں زندہ نہیں رہتیں کہ انہیں ایک عظیم ورثہ مل گیا تھا بلکہ وہ اس لیے زندہ رہتی ہیں کہ انہوں نے اس ورثے کی حفاظت کی تھی۔ بغداد کے پاس علم تھا مگر بغداد باقی نہ رہا۔ اندلس کے پاس تہذیب تھی مگر اندلس باقی نہ رہا۔ عثمانیوں کے پاس عظیم سیاسی قوت تھی مگر وہ بھی تاریخ کا حصہ بن گئے۔ اگرآج پاکستان اسلام کا اہم علمی و دینی مرکز ہے تو یہ کوئی دائمی سند نہیں بلکہ ایک امانت ہے اور امانت کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہوتی ہے کہ اسے حاصل کرنے کے بعد انسان اس کی قدر کرے۔
اس لیے ہمیں آج یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم پاکستان کو اپنی سیاسی لڑائیوں کی نذر کرنا چاہتے ہیں یا اسے اس علمی، دینی اور تہذیبی امانت کے قابل بنانا چاہتے ہیں جو تاریخ نے آج ہمارے سپرد کی ہے۔ بغداد نے اپنا مقام کھودیا، اندلس سے اسلامی اقتدار رخصت ہوگیا، سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور برصغیر میں بھی مسلمانوں کی سیاسی طاقت ختم ہوگئی۔ یہ سب حادثات ہمیں بتاتے ہیں کہ کوئی قوم اگر امانت میں خیانت یا اس کی حفاظت میں کوتاہی کرے توتاریخ اس سے یہ ذمہ داری چھین کرکسی دوسری قوم کو منتقل کر دیتی ہے۔