Monday, 23 March 2026
  1.  Home
  2. Guest
  3. Haider Javed Syed
  4. Wo Baat Ke Saare Fasane Mein Jiska Zikr Na Tha

Wo Baat Ke Saare Fasane Mein Jiska Zikr Na Tha

آج اتوار اور عیدالفطر کا دوسرا دن ہے آپ یہ سطور سوموار 23 مارچ کو پڑھ رہے ہوں گے۔ ایران جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوکر تباہیاں کاشت کررہی ہے، آبنائے ہرمز جنگ سے متاثر ہے اور دنیا جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں اور دعووں کے درمیان مقابلہ بدستور زوروشور سے جاری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جنگ کا کمبل ٹرمپ سے اتارے نہیں اترے گا۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے حالیہ دنوں میں دو حیران کر دینے والے کام کئے۔ پہلا ایک جدید ترین امریکی جنگی طیارے ایف 35 کو نشانہ بنا کر دوسرا چار ہزار کلو میٹر فاصلے پر مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرکے۔ یہ دوسری خبر امریکی جریدے "وال سٹریٹ جرنل" کی ہے۔ کچھ لوگ اسے فالس فلیگ آپریشن کہہ رہے ہیں یعنی امریکہ کے عرب و عجم کے اتحادیوں کو خوفزدہ کرکے انہیں جنگ میں گھسیٹنے کی حکمت عملی کا حصہ درست کیا ہے۔ خبر یا تجزیہ نگاروں کی رائے ایک آدھ دن میں بات واضع ہوجائے گی۔

فی الوقت یہ ہے کہ ایران نے گزشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیل پر جو میزائل حملے کئے ان سے اسرائیل کے مختلف شہروں میں خاصی تباہی ہوئی۔ بتایا جارہا ہے کہ حیفہ کی آئل ریفائنری بجلی گھر اور دیگر علاقوں کے عسکری نوعیت کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا البتہ نیتن یاہو سوشل میڈیا پر ہلاک کردیئے جانے کے باوجود زندہ ہے۔

میدان جنگ سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ایران کی جانب سے دو اسرائیلی شہروں دیمونا اور عراد پر کئے گئے شدید میزائل حملوں میں، 6 افراد ہلاک، 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔ ادھر ایران کی توانائی کی تنصیبات پر ہوئے حملوں کے نتیجے میں دنیا میں تیل اور گیس کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ توانائی کا بحران یورپی ممالک کے دروازوں پر دستک دینے لگا ہے۔ غالباً اسی لئے ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے بھرپور طاقت کے استعمال کا عندیہ دیا ہے۔ اسی دوران یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ امریکہ کے کچھ مغربی اتحادی آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے "مناسب تعاون" پر آمادہ ہیں۔

اس آمادگی کو اگر تجزیہ نگاروں کی وال سٹریٹ جرنل کی خبر (ایران کے چار ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل تجربے) پر دی گئی رائے کو ملاکر دیکھا جائے تو ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ مغربی ممالک کو عربوں کی طرح جنگ میں گھسیٹنے کیلئے کوئی "تماشا" کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے اپنے شہید ہونے والے سیکورٹی چیف علی لاریجانی کی جگہ میدانی اور گوریلہ جنگوں کے ماہر حسین دہغان کو نیا سیکورٹی چیف مقرر کردیا ہے۔

ایران پر مسلط جنگ کے آغاز کے بعد سے ان سطور میں عرض کرتا آرہا ہوں کہ چار دن میں رجیم چینج کر دینے کا مشن لے کر ایران پر چڑھ دوڑنے والوں (امریکہ اور اسرائیل) کی خواہشوں کا جس طرح بولو رام ہوا وہ دنیا کی سپریم طاقت اور اس کے بُولی کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے۔ ایرانی سیاسی اور عسکری قیادت کی پرتوں کا تجزیہ نہ کرسکنا اور ایران کو وینز ویلا سمجھ لینا بہت بڑی غلطی تھی اس غلطی کا بھگتان بہر حال انہیں بھگتنا پڑے گا۔

علی لاریجانی جیسے مذاکرات کار کی جگہ حسین دہغانی جیسے جنگجو کی تقرری سے یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں کہ ایرانی اپنی بساط کے مطابق جنگ کو لمبا کھینچینے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ ثانیاً یہ کہ ایران کی سیاسی و عسکری قیادت کی یہ نئی پرت بدلے کے اصول پر عمل کرے گی نتائج کی پرواہ کئے بغیر آپ اسے یوں سمجھ سکتے ہیں کہ "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے"۔

مزید سادہ انداز میں آپ حالیہ ریاض اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ پر ایران کے ردعمل سے سمجھ سکتے ہیں اس اعلامیہ کے جواب میں ایران کا کہنا ہے کہ "وہ پڑوسی اور خطے کے عرب ممالک پر نہیں بلکہ ان کے ہاں موجود امریکی مفادات پر حملے کررہا ہے۔ اس ردعمل میں کی گئی ایک بات بہت اہم ہے وہ یہ کہ ایران نے سوال کیا کہ اسرائیل پر اس کے میزائل حملوں کو اپنی فضائی حدود میں روکنے کی خدمت سرانجام دینے والے انہی برادر اسلامی ممالک نے اسرائیل سے ایران پر ہونے والے میزائل حملوں اور اسرائیلی جنگی طیاروں کے اپنی فضائی حدود سے گزرنے کے خلاف کیا کارروائی کی؟"

ہماری دانست میں یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ عرب ملکوں کی فضائی حدود استعمال کیئے بغیر اسرائیلی میزائلوں اور جنگی طیاروں سے ایران کو نشانہ نہیں بنا سکتا۔ اس سوال کی اہمیت ایرانی سیکورٹی چیف علی لاریجانی اور ان کے صاحبزادے کی اسرائیلی طیارے کی بمباری سے شہادت پر مزید دوچند ہوجاتی ہے۔

علی لاریجانی تہران سے باہر اپنی صاحبزادی کے گھر پر تھے جب وہ نشانہ بنائے گئے اسرائیلی حکام نے اس کارروائی کو بمباری سے ہدف کا حصول کہا۔ سوال یہ ہے کہ ہدف کے حصول کیلئے خطے کے ممالک کی فضائی حدود استعمال کیئے بغیر یہ کیسے ممکن تھا؟ یہاں ہم اس پر بات ہرگز نہیں کر رہے کہ ایرانی سیکورٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنائے جانے والی کارروائی میں کسی خلیجی ملک کا ایئرپورٹ استعمال ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ اس دعویٰ کو اٹھا بھی رکھیں تو فضائی حدود کے استعمال والا معاملہ تو صاف صاف ہے۔

ریاض اجلاس کے اعلامیہ میں گوکہ اسرائیل کی مذمت کی گئی لیکن اس جنگ کے اصل کردار امریکہ بارے زبان بند رہی یہی وجہ ہے کہ یہ سوال کیا جارہا ہے کہ اچھی ہمسائیگی کا مظاہرہ صرف ایران کا فرض ہے یا کچھ ذمہ داری عرب مسلم ممالک کی بھی بنتی ہے؟

ایران پر مسلط جنگ سے پوری دنیا متاثر ہوئی اور ہو رہی ہے لیکن اس جنگ کے آغاز اور ابتدائی مرحلے میں ایرانی رہبرِ کبیر (سپریم لیڈر) آیت اللہ سید علی خامنہ کی شہادت کے بعد سے ہمارے ہاں جو صورتحال ہے اس سے صرف نظر ممکن نہیں۔

سیدی علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان میں کراچی اور سکردو وغیرہ میں احتجاج کے پرتشدد مرحلے میں داخل ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس پر پرامن احتجاج کے پرتشدد ہوجانے کے حوالے سے آستینیں الٹ اور چہروں پر نفرتوں کے بادل جما کر بعض لوگ سارا ملبہ ریاست یا یوں کہہ لیجے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے محکموں پر ڈال کر دامن جھاڑ لیتے ہیں حالانکہ یہ معاملہ اتنا سادہ ہرگز نہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہنا کہ (کراچی کے حوالے سے) ہم نے اطلاع دی تھی کہ پرامن احتجاج کرنے والوں کو ایک گروہ ہائی جیک کرکے پرتشدد کارروائیوں کی طرف لیجارہا ہے، یہ اطلاع کس نے کس کو دی کیونکہ کراچی میں امریکی قونصلیٹ کی جانب احتجاجی مارچ اور پرتشدد کارروائیوں کے مرحلوں مئوثر قیادت تو موقع پر موجود ہی نہیں تھی یہ قائدین تو دوطرفہ پرتشدد کارروائیوں کے بعد تو منظر عام پر آئے تھے۔

کیا ان قائدین کا فرض نہیں تھا کہ وہ احتجاج کے آغاز سے ہی مظاہرین کے ہمراہ رہتے اور اپنی اخلاقی سیاسی و سماجی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتے؟ تاکہ ناخوشگوار واقعات ظہور پذیر نہ ہونے پاتے۔

یاد رہے کہ کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر احتجاج کے نام پر چڑھ دوڑنے والے ہجوم میں شامل بلٹ پروف جیکٹیں پہنے ہوئے اور مسلح افراد کی فائرنگ کرتے ہوئے کی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہی نہیں بلکہ یہ سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئیں۔

اسی طرح گلگت بلتستان کے افسوسناک واقعات ہیں جہاں مقررین کی تقاریر نے نوجوانوں کو اشتعال دلوایا اور پھر آرمی پبلک اسکول سیکورٹی ادارے کا دفتر اقوام متحدہ کا دفتر آئی ٹی مرکز اور آغا خان فاونڈیشن کا دفتر جلادیا گیا۔

ان افسوسناک واقعات کو سیکورٹی اہلکاروں کی براہ راست فائرنگ کا نتیجہ قرار دینے والے آخر کس مقصد کیلئے جھوٹ کاشت کررہے ہیں حالانکہ ملک اور اداروں کے خلاف فتوے دینے اور اہم شخصیات کو یزید قرار دینے والے مولوی صاحبان اب بھی چھاتی ٹھوک کر کہہ رہے ہیں "ہاں ہم نے یہ کہا اور جو کہا وہ ہماری شرعی ذمہ داری ہے"۔

کیا نجی و سرکاری املاک جلوانا شرعی فریضہ تھا کیا مختلف شخصیات کو یزید قراردینا بھی شرعی ذمہ داری تھی؟ کیوں کسی نے یہ نہیں سوچا کہ ان تندوتیز اور جذباتی خطابات کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عقل استعمال کی بجائے ایک سزایافتہ شخص کی سیاسی معاونت کیلئے منصوبہ بندی کے ساتھ جلاو گھیراو ہوا فقط یہی نہیں بلکہ بدھ 18 مارچ کو چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے شیعہ علما کو دیئے گئے افطار ڈنر اور بریفنگ کے دوران اظہار خیال کو منصوبہ بندی کے ساتھ ایک خاص رنگ دے کر بھگوڑے یوٹیوبرز اور ایک شیعہ جماعت کی سیاسی اتحادی جماعت کو فوج اور فیلڈ مارشل کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کا ہتھیار تھما دیا گیا۔

شیعہ علما سے اپنے خطاب میں فیلڈمارشل عاصم منیر نے تو یہ کہا تھا کہ "کسی دوسرے ملک میں ہوئے واقعات پر پاکستان میں مذہبی جذبات بھڑکا کر تشدد بھڑکانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی مزید یہ کہ احتجاج کے نام پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے"۔

فیلڈ مارشل کی بریفنگ نما تقریر میں کہیں یہ بات کہی گئی نہ تاثر دیا گیا کہ جسے ایران سے محبت ہے وہ ایران چلا جائے تو پھر اس جھوٹ کو پھیلانے کی ضرورت کیا آن پڑی؟

کیا ملک کی موجودہ صورتحال اور ایک سزایافتہ سابق وزیراعظم کی رہائی کیلئے عیدالفطر کے بعد شروع ہونے تحریک کو ایک مکتب فکر کی جذباتی حمایت کا رزق فراہم کیا گیا یہی وہ نکتہ ہے جس پر بات کرنا از بس ضروری ہے۔

کیونکہ کہا یہ جارہا ہے کہ فیلڈ مارشل کی تقریر کو مخصوص رنگ دے کر ایک مکتب فکرکے لوگوں کے بھڑکے جذبات کو تحریک انصاف کے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا منصوبہ پی ٹی آئی کے اتحادی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مولانا راجہ ناصر عباس جعفری کے "زرخیز دماغ" کا ادنیٰ نمونہ ہے۔

واقف حال دعویدار ہے کہ اگر حقیقت میں فیلڈ مارشل نے وہ بات کی ہوتی جو ان سے منسوب کی جارہی ہے تو شیعہ علما کو افطار ڈنر کا بائیکاٹ کرکے اُٹھ جانا چاہئے تھا لیکن بدھ کی شام کی تقریر پر جمعتہ المبارک کے خطبات میں ردعمل راجہ ناصر عباس جعفری سے ہوئی مشاورت کا نتیجہ ہے اور یہ کہ اپنایا گیا موقف تین وجوہات کی بناپر ہے۔۔

اولاً سکردو کے افسوسناک واقعات میں ملوث افراد اور قبل ازیں خطابات میں کفر کے فتوے دینے والوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ۔

ثانیاً فرقہ وارانہ جذبات بھڑکا کر ملک کی عمومی فضا کو خراب کرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان۔

اور ثالثاً اہل تشیع علما کے زیر انتظام چلنے والے سات ٹرسٹوں اور ملک گیارہ بڑے دینی مدارس کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی اطلاع ہے۔

اگر واقعتاً "جسے ایران پسند ہے وہ ایران چلا جائے" کی بات فیلڈ مارشل سے منسوب کرنے کے پیچھے یہی تین باتیں ہیں تو آنے والے دنوں اور بالخصوص تحریک انصاف کی حکومت مخالف کسی تحریک کو جذباتی فضا اور افرادی قوت فراہم کرنے کی حکمت عملی والی بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

کیونکہ جب یہ تواتر کے ساتھ کہا جارہا ہو کہ عمران خان نہیں تو کچھ بھی نہیں یا یہ کہ عمران کے حامی قافلہ حسینی اور موجودہ نظام کے حامی یزیدی ہیں تو یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں کہ کون کیا چاہتا ہے اور ملک کو کس طرف لیجانا چاہتا ہے؟