ایران امریکا جنگ بندی تادم تحریر چل رہی ہے اور مذاکرات کے دوسرے مرحلے کو یقینی بنانے کیلئے سول و عسکری سفارتکاری بھی زور و شور سے جاری ہے۔ صدر ٹرمپ ہمارے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل پر واری صدقے ہوئے جارہے ہیں۔ فقیر راحموں ساٹھ برس پیچھے کے ماہ و سال کے دن موسم یاد کروا رہا ہے جب چاچا پھتو مراثی آنے دو آنے کی ویل ملنے پر ویل دینے والے کی سات پشتوں کی دریا دلی کا ذکر کرتے ہوئے ثابت کرتا تھا کہ یہ ٹبر نہ ہوتے تو ہمارے چولہے نہ جلتے۔
"خاکم بدہن" ہم نے ٹرمپ کو ساٹھ برس پہلے والا چاچا پھتو مراثی سجمھا نہ سمجھتے ہیں۔ ہر دور کا اپنا اپنا چاچا پھتو ہوتا ہے امریکہ میں بھی ہوتے ہوں گے لیکن ہمیں کیا ہوں نہ ہوں، معاف کیجے جنگ بندی اور مذاکرات کے دوسرے مرحلے کیلئے جاری سول و عسکری سفارتکاری پر باتیں کرنا تھیں۔ چاچا پھتو مراثی کا ذکر خیر فقیر راحموں یونہی لے آیا ورنہ کہاں ہمارے بچپن کے ماہ و سال کا چاچا پھتو کہاں دنیا کی واحد سپریم طاقت امریکا بہادر کے صدر مملکت عالی جناب ڈونلڈ ٹرمپ کیا مقابلہ کیسا جوڑ کیسی مماثلت۔
ایران امریکہ جنگ بندی لرزتی ہے کبھی مذاکرات کے دوسرے مرحلے کیلئے جاری سفارتکاری جنگ میں جھوٹ فروخت ہوتا ہے۔ جنگ بندی کے دنوں میں پروپیگنڈہ وار چلتی ہے اور یہی چل رہی ہے۔ جنگ کا اور کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے وہ یہ کہ خوف خوب بِکتا ہے لیکن جس جنگ کی جنگ بندی چل رہی ہے اس میں خوف کتنا بکا یہ تو پتہ نہیں البتہ ایسے ایسے نابغوں کی زیارت ہوئی اور ان کی "دانش" سے استفادے کا موقع ملا کہ ایسا لگتا ہے کہ اگر "یہ" نہ ہوتے تو ہمیں کون بتاتا امن کا کمبل کیوں چوری ہوا۔
خیر ان باتوں کو چھوڑیئے ان میں کچھ نہیں رکھا دیکھنا سمجھنا یہ ہے کہ جنگ بندی کی کوکھ سے مذاکرات کا دوسرا مرحلہ دریافت ہوتا ہے یا جنگ کا دوسرا مرحلہ؟
ہماری دانست میں اصل بات یہی ہے مگر اس کا کیا کیجے گا کہ جاری پروپیگنڈہ وار میں سے درست و غلط کو الگ الگ کیسے کیا جائے تازہ ترین بات یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بدھ تک معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی ختم۔
یہ سطور آپ سوموار کو پڑھ رہے ہوں گے یعنی جنگ اور معاہدے میں باقی منگل کا دن بچ رہا بدھ نے کام سُدھ کرنا ہے یا جنگ شروع کرانی ہے۔ دوسری جانب ایرانی سپریم کونسل نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تین روزہ دورہ ایران کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا ہے اس کی اہم بات یہ ہے کہ "فیلڈ مارشل نے نئی امریکی تجاویز پہنچائیں اور ایران کے موقف سے آگاہی حاصل کی امریکی تجاویز کا جلد جواب دے دینگے"۔
ایرانی سپریم کونسل کے اس اعلامیہ سے چند گھنٹے قبل ایران نے امریکی ناکہ بندی ختم نہ کئے جانے پر ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کردیا۔ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش پر ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکہ بدنیتی کا جواب ہے۔
آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دھمکی کہ اگر بدھ 22 اپریل تک معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر بم گرانا پڑیں گے ہر دو باتوں سے بے یقینی اور خوف کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ درست ہے کہ ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے سوموار 20 اپریل کی باتیں تجزیہ کاروں کے اندازوں کے سوا کچھ نہیں تھیں اس کی وجہ یہ ہے کہ خود امریکی صدر بھی واضح نہیں کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔
ہفتے کے دن ایرانی پارلیمنٹ کے سپکرنے صدر ٹرمپ کے بیانات پر دلچسپ تبصرہ کیا ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے 6 گھنٹوں کے دوران 9 بیانات دیئے ان 9 بیانات میں سے ایک دوسرے سے نہیں ملتا، بظاہر یہ بات درست ہے صدر ٹرمپ کب کیا کہیں اور کیا چاہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بدقسمتی یا اتفاق جو جی چاہے کہہ لیجے کہ امریکی تاریخ میں ایسا بڑبولہ صدر پہلے کبھی نہیں آیا خیر یہ امریکیوں کی اپنی پسند ہے ہم اور آپ کیوں تنقید کریں۔
البتہ امریکیوں کی اس "پسند" نے پورے کرہ ارض کو وختے میں ڈال رکھا ہے آٹھ جنگیں بند کرانے کے دعویدار نے پہلے وینز ویلا کے صدر کو ان کی اہلیہ سمیت اغوا کرکے امریکہ پہنچایا اور پھر اپنے سنگی نیتن یاہو کی مشرق وسطیٰ میں صوبیداری کو پائیدار بنانے کیلئے ایران پر جنگ مسلط کردی اسی عرصے میں اسرائیل لبنان پر چڑھ دوڑا۔
ایران کو حالیہ مسلط جنگ سے یقیناً بے پناہ جانی و مالی نقصان پہنچا یہ بھی درست ہے کہ ایرانیوں نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اتحادیوں کی چیخیں نکلوا دیں۔ گو یہ چیخیں ایرانیوں کے قومی و مالی نقصان کے مقابلے میں کچھ نہیں لیکن اس جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی صوبیداری کا پائیدار نظام بنانے کی آرزوئیں بھی خاک میں ملتی دیکھائی دے رہی ہیں۔
فقط یہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے دیرینہ عرب اتحادیوں میں سے اکثر کو یہ بات سمجھ میں آگئی کہ امریکہ ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہا اسی سوچ کی بدولت عرب ممالک اپنی خارجہ اور قومی سلامتی کی پالیسیوں میں تبدیلی لاتے دیکھائی دے رہے ہیں، کیا امریکی صدر اس ساری صورتحال کی وجہ سے حواس باختہ ہیں؟
ہماری رائے میں چاہتے ہوئے بھی اس سوال سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں پل میں تولہ پل میں ماشہ صدر ٹرمپ اقرار نہ بھی کریں تو بھی ان کی زبان دانیوں اور باڈی لینگوج سے یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ ایران چار دن کی مار ہے والی ان کی سوچ جس طرح پھیتی پھیتی ہوئی اس کی وجہ سے وہ اب اپنے اظہار پر قابو نہیں رکھ پارہے اسی لئے ان کے اکثر بیانات پر فقیر راحموں کو چاچا پھتو مراثی یاد آجاتے ہیں۔
دوسرے مرحلے کے ایران امریکہ مذاکرات کیلئے جاری کوششوں کے کیا نتائج برآمد ہوں گے اور کیا امریکی صدر اپنے دعووں کے مطابق کامیابیاں حاصل کرپائیں گے گو فوری طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں لیکن ایرانی اپنے یورنیم کے ذخائر مشکل ہی امریکہ کے حوالے کریں گے۔ مستقل جنگ بندی کیلئے اگر امریکی شرائط ہیں تو کچھ شرائط ایرانیوں کی بھی یقیناً ہیں بہت کچھ گنوا کر ایرانی امریکہ کی تمام شرائط من و عن کیوں تسلیم کریں گے۔
کیا ایرانی قیادت مسلط جنگ کے نقصان اور ہرجانے کی شرط کو ترک کردے گی یا یہ کہ کیا ایران اپنے منجمند اثاثوں کی حوالگی کی شرط سے دستبردار ہوجائے گا۔ بادی النظر میں تو نہیں لگتا کہ ایران ان دو سمیت اپنی باقی شرائط سے دستبردار ہو ناہی یہ ممکن ہوتا نظر آرہا ہے کہ صدر ٹرمپ "فتح کا کیک" اڑا پائیں گے۔
سوال یہ ہے کہ پھر ہوگا کیا جنگ بندی میں مزید عارضی توسیع یا جنگ کا دوسرا مرحلہ؟ جنگ کا دوسرا مرحلہ دنیا کیلئے جو مسائل پیدا کرے گا اس سے کیسے نمٹا جاسکے گا۔ اندریں حالات یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل کیا جائے تو یہ فریقین کے علاوہ عالمی برادری کے بھی حق میں ہے لیکن بدقسمتی کہہ لیجے امریکا کے صدر کو عالمی برادری اور انسانیت سے زیادہ اپنی بڑ اور ناک عزیز ہے یہی امن کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔